جب علمِ اسماء حضرت آدم کو دیا گیا تھا نہ کہ فرشتوں کو، تو پھر امتحان کیسا اور فضیلت کیسی؟

     سورۂ بقرہ کی آیات (٣١ اور ٣٢) کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام چیزوں کے ناموں کا علم عطا فرمادیا، جبکہ فرشتوں کو یہ علم نہیں دیا گیا (جس کا اعتراف انہوں نے خود کیا کہ ہم اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے)۔

     تو جب یہ بات طے ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے نام اس لیے بتائے کیونکہ انہیں سکھائے گئے تھے، اور فرشتوں نے اس لیے نہیں بتائے کیونکہ انہیں نہیں سکھائے گئے تھے، تو محض اس علم کی بنیاد پر (جو خود اللہ نے ایک کو دیا اور دوسرے کو نہیں) حضرت آدم (علیہ السلام) کی فرشتوں پر فضیلت اور برتری کیسے ثابت ہوتی ہے؟


ایک قدیم، محراب دار مدرسے کے صحن میں دو نوجوان مسلمان مرد ایک نقش و نگار والی لکڑی کی میز پر بیٹھے مطالعہ کر رہے ہیں۔ ایک نے سبز عمامہ اور بھوری عبایا پہنی ہے اور وہ کھلی ہوئی کتاب سے پڑھ رہا ہے۔ دوسرا ٹوپی اور قمیض پہنے ہوئے، اپنی نوٹ بک میں لکھ رہا ہے۔ میز پر کھلی ہوئی کتابیں، ایک روشن لالٹین اور مٹی کا برتن رکھا ہے۔ پس منظر میں صحرا کے ٹیلے، چٹانیں اور غروب ہوتا ہوا سورج نظر آ رہا ہے۔
غروبِ آفتاب کے وقت ایک صحرائی مدرسے میں ایک فکری مجلس


     آپ نے سورۂ بقرہ کے جس مقام کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ علمِ کلام اور تفسیرِ قرآن کا ایک نہایت ہی دقیق اور بصیرت افروز موضوع ہے۔ بظاہر یہ اشکال ذہن میں ابھرتا ہے کہ جب علم دیا ہی ایک کو گیا تھا، تو پھر یہ امتحان اور اس کے نتیجے میں ملنے والی فضیلت کیسی؟ لیکن قرآنی آیات کے سیاق و سباق اور حکمتِ الٰہی پر گہری نظر ڈالی جائے تو اس واقعے میں انسان کی تخلیق، اس کے مقصد اور اس کی امتیازی حیثیت کے نہایت شاندار راز پوشیدہ نظر آتے ہیں۔ ذیل میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

​خلافتِ ارضی کا تقاضا اور علمِ اشیاء کا باہمی ربط

​     اللہ رب العزت نے جب فرشتوں کے سامنے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ارادہ ظاہر فرمایا، تو اس کے لیے "خلیفہ" کا لفظ استعمال کیا۔

     خلافتِ ارضی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ زمین میں بس کر اس کی چیزوں کو برتا جائے، زمین کے خزانوں کو دریافت کیا جائے، تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی جائے اور کائنات کی پوشیدہ قوتوں کو مسخر کرکے منشائے الٰہی کے مطابق نظام قائم کیا جائے۔ اس عظیم الشان مقصد کے لیے ضروری تھا کہ خلیفہ کو ان تمام مادی اور غیر مادی اشیاء کی حقیقت، ان کی خاصیت اور ان کے ناموں کا علم ہو جن سے اسے زمین پر واسطہ پڑنے والا تھا۔ فرشتوں کا دائرۂ کار چونکہ زمین کی آبادکاری نہیں تھا بلکہ ان کی تخلیق تسبیح و تقدیس اور تکوینی امور کی بجاآوری کے لیے ہوئی تھی، اس لیے ان کے فرائضِ منصبی میں اس علم کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

     لہٰذا، حضرت آدم (علیہ السلام) کو علم عطا کرنا دراصل انھیں ان کے منصبِ خلافت کے بنیادی ہتھیار سے لیس کرنا تھا، اور یہی وہ پہلا امتیازی جوہر تھا جو خلیفہ کی ضرورت تھی۔

​علم کے حصول میں فطرتی استعداد اور صلاحیت کا فرق

​     اس واقعے میں سب سے اہم نکتہ جسے عموماً نظر انداز کردیا جاتا ہے، وہ محض "علم دے دینے" کا نہیں، بلکہ علم کو قبول کرنے کی "فطری استعداد اور صلاحیت" کا ہے۔

     اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ جس مخلوق کو جس کام کے لیے پیدا کرتا ہے، اس کی فطرت میں اس کام کی صلاحیت بھی رکھ دیتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی، جس میں تنوع، وسعت اور قبولیت کی بے پناہ صلاحیت رکھی گئی، اور اسی بنیاد پر ان کی سرشت میں اشیاء کی ماہیت کو سمجھنے، تصورات قائم کرنے اور تجرید و تحلیل (Conceptual Thinking) کا مادہ ودیعت کیا گیا۔ اس کے برعکس، فرشتے نوری مخلوق ہیں، جن کی فطرت میں کامل اطاعت اور مخصوص عبادات تو ہیں، لیکن طبعی اور مادی اشیاء کی ماہیت کو سمجھنے اور ان پر تصرف کرنے کی وہ امتیازی عقل اور استعداد ان میں نہیں رکھی گئی۔

     جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو نام سکھائے، تو دراصل ان کی اسی مخفی اور فطری استعداد کو بیدار کر کے عملی جامہ پہنایا۔ فرشتوں سے جب نام پوچھے گئے تو اس کا مقصد ان سے وہ بات پوچھنا نہیں تھا جو انہیں سکھائی نہیں گئی تھی، بلکہ ان پر ان کی اپنی فطری حدود اور انسان کی وسیع تر عقلی استعداد کو واضح کرنا تھا۔

​امتحان کا مقصد: حکمتِ الٰہی کا عملی اور مشاہداتی اظہار

​     فرشتوں نے انسان کی تخلیق پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، بلکہ اپنے علم کے مطابق ایک خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مادی وجود رکھنے والی مخلوق زمین میں فساد برپا کرے گی اور خون بہائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ "میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے"۔ اب اللہ کی حکمت یہ چاہتی تھی کہ فرشتوں کو صرف زبانی طور پر قائل نہ کیا جائے، بلکہ ایک عملی مشاہدے کے ذریعے ان پر اس نئے خلیفہ کی وہ برتری ثابت کی جائے جو اس کے اندر موجود فساد کے پہلو پر غالب آجائے۔

     یہ امتحان دراصل اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ انسان اگرچہ اپنی جبلت میں کچھ کمزوریاں رکھتا ہے، لیکن اس کی عقلی، فکری اور علمی صلاحیتیں اتنی بلند ہیں کہ وہ اس کائنات کے حقائق کو پہچان سکتا ہے۔ فضیلت اس بات پر نہیں دی گئی کہ آدم (علیہ السلام) نے وہ رٹا ہوا سبق سنادیا جو فرشتوں کو یاد نہیں کروایا گیا تھا، بلکہ فضیلت اس بے مثال دماغی و قلبی صلاحیت، اس جامعیت اور اس استعداد پر دی گئی جو علمِ الٰہی کی تجلیات کو سہارنے اور پھر ان کا اظہار کرنے کے لیے حضرت آدم (علیہ السلام) کے وجود میں رکھی گئی تھی۔

​فرشتوں کا اعترافِ عجز اور فضیلتِ آدم کا نقطۂ کمال

​     جب فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اشیاء کے نام، ان کی حقیقتیں اور ان کے خواص بیان کرتے ہوئے دیکھا، تو وہ فوراً اللہ کی اس گہری حکمت کو پاگئے جو ان کی نظروں سے اوجھل تھی۔ انہوں نے "سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا" کہہ کر نہ صرف اپنی کم علمی کا اعتراف کیا، بلکہ انہوں نے یہ تسلیم کرلیا کہ اس نئی مخلوق کا کینوس، اس کے ادراک کی وسعت اور اس کی عقلی پرواز ان کی ملکوتی حدود سے ماورا ہے۔ یہ اعترافِ عجز اس بات کی گواہی تھا کہ اللہ نے حضرت آدم کو جو علم دیا ہے، وہ صرف معلومات کی منتقلی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی صلاحیت کا ظہور تھا جس کی بنیاد پر انسان مسجودِ ملائک بننے کا مستحق ٹھہرا۔

     پس ثابت ہوا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت محض ایک طے شدہ مقابلے کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس عظیم الشان اور بے کراں استعداد کا مظہر تھی جو خالقِ کائنات نے اپنے شاہکار یعنی انسان کے خمیر میں گوندھ دی تھی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے