ایک شخص کے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ انتقال کے وقت ان کی ملکیت میں:
◾ ایک رہائشی مکان تھا، جس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً ₹55 سے ₹60 لاکھ ہے۔
◾ ایک دکان تھی، جو پرانے کرایہ داری (Pagdi/Old Tenancy) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اس کا سیلنگ رائٹ فروخت کیا جائے تو اس کی قیمت تقریباً ₹25 سے ₹40 لاکھ تک مل سکتی ہے۔
◾ دکان میں موجود مالِ تجارت کی مالیت تقریباً ₹15 لاکھ ہے۔
اس طرح مرحوم کے کل اثاثوں کی مجموعی مالیت تقریباً ₹90 لاکھ سے ₹1 کروڑ کے درمیان بنتی ہے۔
دوسری طرف مرحوم پر تجارتی اور ذاتی دونوں طرح کے قرضے تھے، جن کی مجموعی مقدار تقریباً ₹1.25 سے ₹1.30 کروڑ ہے، یعنی قرض، کل ترکے سے زیادہ ہے۔
ورثاء میں:
🔹 اہلیہ (مرحوم کی بیوہ)
🔹 ایک بیٹا
🔹 دو شادی شدہ بیٹیاں
اس سلسلے میں درج ذیل امور میں رہنمائی مطلوب ہے:
1. جب مرحوم کے ذمہ قرض، کل ترکے سے زیادہ ہو تو کیا ایسی صورت میں ورثاء کا کوئی حصہ بنتا ہے، یا پہلے پورا ترکہ قرض کی ادائیگی میں صرف ہوگا اور اگر کچھ نہ بچے تو وراثت تقسیم ہی نہیں ہوگی؟
2. کیا بیٹے پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذاتی رقم سے والدہ اور بہنوں کو ان کے وراثتی حصے ادا کرے، جبکہ ترکہ خود قرض سے کم ہے؟
3. اگر بیٹا اپنے والد کی اخروی نجات کو سامنے رکھتے ہوئے، اپنی استطاعت، اپنے تعلقات اور لوگوں کے تعاون کے ذریعے مرحوم کا پورا قرض ادا کرنے کی اسباب کے درجے میں کوشش کرتا ہے، اور اس طرح قرض ادا ہو جاتا ہے، جبکہ دکان فروخت نہیں کی جاتی اور وہ بدستور باقی رہتی ہے، تو کیا اس صورت میں دکان، اس کی موجودہ مالیت، دکان میں موجود مالِ تجارت، اور آئندہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی مرحوم کی اہلیہ اور دونوں بیٹیوں کا بطورِ وراثت حق قائم ہوگا؟
4. اگر بیٹا کسی مجبوری یا تنگی کی وجہ سے اس دکان یا اس کی مالیت میں سے دیگر ورثاء کو ان کا حصہ ادا نہ کر سکے، تو کیا اسے وراثت کا حق دبانے والا اور اس کا گناہ گار شمار کیا جائے گا، یا مذکورہ صورت میں حکم مختلف ہوگا؟
![]() |
| قرض میں ڈوبے ہوئے ترکے اور وراثت کے پیچیدہ معاملات پر رہنمائی کی ایک عکاسی |
اس پیچیدہ اور حساس خاندانی و مالی معاملے کا حل نہایت واضح ہے۔ جب کسی مسلمان کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے چھوڑے ہوئے مال اور اثاثوں (ترکہ) کے حوالے سے ایک ترتیب مقرر ہے جس کی پاسداری ہر حال میں ضروری ہے۔ اس ترتیب کو سمجھے بغیر وراثت کی تقسیم کا کوئی بھی فیصلہ درست نہیں ہوسکتا۔ ذیل میں اس پورے معاملے کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
ترکہ میں قرض کی اولیت اور وراثت کی حیثیت
جب کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو اس کے کل اثاثوں میں سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین (کفن دفن) کے درمیانی اور مناسب اخراجات نکالے جاتے ہیں۔ اس کے بعد جو مال بچتا ہے، اس میں سے مرحوم کے ذمے واجب الادا تمام قرضے ادا کیے جاتے ہیں۔ اگر قرض ادا کرنے کے بعد کچھ مال بچ جائے، تو مرحوم کی کسی جائز وصیت پر (بچے ہوئے مال کے ایک تہائی حصے تک) عمل کیا جاتا ہے، اور یہ تمام مراحل طے پانے کے بعد جو کچھ بچتا ہے، صرف وہی مال ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوتا ہے۔
آپ کی بیان کردہ صورتِ حال میں مرحوم کے کل اثاثوں (رہائشی مکان، دکان کا سیلنگ رائٹ اور مالِ تجارت) کی مجموعی مالیت تقریباً نوے لاکھ سے ایک کروڑ روپے کے درمیان ہے، جبکہ ان پر عائد قرضے ایک کروڑ پچیس لاکھ سے زائد ہیں، تو یہ ایسا ترکہ ہے جو مکمل طور پر قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔ چونکہ مرحوم کا قرض ان کے کل اثاثوں سے زیادہ ہے، اس لیے ان کا پورا ترکہ قرض خواہوں کے حق میں محبوس ہو چکا ہے۔ ایسی صورت میں جب تک تمام قرضے ادا نہ ہو جائیں، ورثاء (بیوہ، بیٹا، اور بیٹیوں) کا اس ترکے میں کوئی حقِ ملکیت یا وراثت کا حصہ سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا۔ لہٰذا، اس مرحلے پر کسی بھی وارث کا ترکے میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کرنا بے بنیاد ہے۔
ترکے کی عدم موجودگی میں ورثاء کی ذاتی اور مالی ذمہ داریاں
وراثت ہمیشہ مرحوم کے چھوڑے ہوئے اُن اثاثوں میں سے جاری ہوتی ہے جو قرض اور وصیت کے بعد بچ جائیں۔ کسی بھی وارث پر یہ بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے کہ اگر مرحوم کا ترکہ کم ہو یا بالکل نہ ہو، تو وہ دیگر ورثاء کو اپنی ذاتی جیب سے ادا کرے۔
زیرِ بحث مسئلے میں چونکہ مرحوم کا سارا مال قرض کی ادائیگی کے لیے بھی ناکافی ہے، اس لیے بیٹے پر کسی بھی اعتبار سے یہ قطعی طور پر لازم نہیں ہے کہ وہ اپنی ذاتی کمائی یا اپنے پاس موجود رقم سے اپنی والدہ یا بہنوں کو وراثت کا حصہ بنا کردے۔ جب ترکہ ہی موجود نہیں تو وراثت کا وجود ہی ختم ہو گیا، اور جب وراثت ہی نہیں تو بیٹے کے ذمے کسی حصے کی ادائیگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ ایک بیٹے کی حیثیت سے والدہ کی خدمت اور ان کی کفالت بیٹے کی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن اسے "وراثت کی ادائیگی" کا نام نہیں دیا جاسکتا۔
بیٹے کی جانب سے قرض کی ادائیگی اور اثاثوں پر اس کے اثرات
یہ اس معاملے کا سب سے اہم اور نازک پہلو ہے۔ اگر بیٹا اپنے والد کی اخروی نجات کی فکر کرتے ہوئے اور انہیں عذاب و گرفت سے بچانے کے لیے اپنی استطاعت، ذاتی تعلقات اور لوگوں کے تعاون سے ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے کا بھاری قرض ادا کردیتا ہے، تو یہ اس کی جانب سے اپنے والد پر ایک عظیم احسان اور عظیم ترین نیکی ہے۔ اور جب ترکہ قرض میں ڈوبا ہوا ہو اور کوئی ایک وارث (مثلاً بیٹا) اپنے ذاتی مال سے وہ قرض ادا کردے، تو وہ ان اثاثوں کی حد تک قرض خواہوں کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔
چونکہ بیٹے نے جو رقم ادا کی ہے (سوا کروڑ) وہ مرحوم کے کل اثاثوں (ایک کروڑ) سے زیادہ ہے، اس لیے بیٹا اس بات کا حق دار بن گیا ہے کہ وہ مرحوم کے ان تمام اثاثوں (مکان، دکان کی مالیت، اور مالِ تجارت) کو اپنے ادا کردہ قرض کے عوض اپنے قبضے اور ملکیت میں لے لے۔ ایسی صورت میں دکان، اس کا موجودہ مال، اور اس سے حاصل ہونے والی آئندہ کی تمام آمدنی خالصتاً بیٹے کی ملکیت سمجھی جائے گی۔ بیوہ اور بیٹیوں کا اس دکان یا دیگر اثاثوں میں بطورِ وراثت کوئی حق اس لیے قائم نہیں ہوگا، کیونکہ یہ اثاثے وراثت بنے ہی نہیں، بلکہ بیٹے کی جانب سے ادا کیے گئے قرض کے عوض اس کی ملکیت میں منتقل ہوچکے ہیں۔
اگر دیگر ورثاء (والدہ یا بہنیں) ان اثاثوں میں اپنا حصہ چاہتی ہیں، تو انہیں چاہیے کہ وہ بیٹے کی جانب سے ادا کیے گئے سوا کروڑ روپے کے قرض میں اپنے حصوں کے تناسب سے حصہ ملائیں، جو کہ ظاہر ہے ان کے لیے ممکن یا سود مند نہیں ہوگا کیونکہ اثاثوں کی مالیت کم اور قرض کا بوجھ زیادہ ہے۔
وراثت کے مطالبے کی حقیقت اور غصب کے الزامات کا جائزہ
معاشرے میں عموماً ناواقفیت کی بنا پر ایسی صورتوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ شاید بیٹے نے دکان اور مکان پر قبضہ کر کے والدہ اور بہنوں کا حق مار لیا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
اگر بیٹا دکان کو فروخت کیے بغیر اسے اپنے قبضے میں رکھتا ہے، اس میں کاروبار کرتا ہے، اور اس سے ہونے والی آمدنی کو اپنے استعمال میں لاتا ہے، اور دیگر ورثاء کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں دیتا، تو وہ ہرگز کسی کا حق مارنے والا یا وراثت غصب کرنے والا (غاصب) شمار نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ نہایت واضح ہے کہ اس نے دکان اور مکان کی کل مالیت سے کہیں زیادہ رقم قرض کی مد میں اپنی جیب اور اپنے وسائل سے ادا کی ہے۔ اس نے حقیقت میں وراثت دبائی نہیں ہے، بلکہ اپنے والد کی عزت اور آخرت بچانے کے لیے گھاٹے کا سودا اپنے سر لیا ہے۔ لہٰذا بیٹے پر غصب کا گناہ تو درکنار، اسے اس عظیم قربانی پر ان شاء اللہ اجر ملے گا، اور خاندان کے دیگر افراد، بالخصوص بہنوں اور والدہ پر لازم ہے کہ وہ بیٹے کی اس قربانی کی قدر کریں اور اس کے خلاف بدگمانی پالنے یا وراثت کے دعوے کرنے کے بجائے، اس کے حق میں دعائے خیر کریں جس نے ان کے والد کو ایک بہت بڑے اخروی بوجھ سے سبکدوش کر دیا۔
البتہ خاندانی تعلقات کی خوشگواری کے لیے، بیٹا اگر اپنی خوشی اور رضامندی سے دکان کی آمدنی میں سے کچھ حصہ والدہ کی خدمت یا بہنوں کو ہدیے اور تحفے کے طور پر دینا چاہے، تو یہ اس کا حسنِ سلوک اور صلہ رحمی شمار ہوگی، لیکن اسے اس کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔

0 تبصرے