واٹس ایپ وغیرہ پر آنکھوں والے ایموجیز بھیجنا اور بچوں کو کڑھائی میں جاندار کی شکلیں بنانا سکھانا کیسا ہے؟

     آج کل واٹس ایپ (WhatsApp) اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیغام رسانی کے دوران ایموجیز کا استعمال نہایت عام ہوچکا ہے۔ ان میں سے کئی ایموجیز ایسے ہوتے ہیں جن میں جانداروں کے چہرے کے خدوخال، بالخصوص آنکھیں واضح طور پر بنی ہوتی ہیں۔ ایسے ایموجیز کا استعمال کرنا اور انہیں پیغامات میں دوسروں کو بھیجنا کیسا ہے؟

     نیز، اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں چھوٹے بچوں کو دستکاری اور کڑھائی کا کام سکھایا جاتا ہے۔ اس مشق کے دوران ابتداءً ان سے مختلف ڈیزائنز بنوائے جاتے ہیں، جن میں بسا اوقات ایسی شکلیں بھی شامل ہوتی ہیں جن میں آنکھیں یا جاندار کے چہرے کی مشابہت ہوتی ہے۔ چونکہ یہ کام محض بچوں کی تعلیم، ہنر اور سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے، تو کیا اس مقصد کے تحت اس کی کوئی گنجائش ہے؟


ایک دو حصوں پر مشتمل تصویر: بائیں جانب ایک شخص اسمارٹ فون پر واٹس ایپ چیٹ میں ایموجیز دکھا رہا ہے؛ دائیں جانب ایک لڑکی اسکول میں کڑھائی کے فریم پر سوئی دھاگے سے چڑیا کا ڈیزائن کاڑھ رہی ہے۔ دونوں کے چہرے دھندلے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی (ایموجیز) اور روایتی دستی ہنر (کڑھائی) کا ایک ساتھ نظارہ


مسائل کی حقیقت اور اصول

​     جاندار کی تصویر کشی اور اس کے استعمال سے متعلق سخت احکام کی بنیاد شرک کے تمام راستوں کو مسدود کرنا، بت پرستی کا سد باب کرنا اور صانعِ حقیقی کی تخلیق کے ساتھ تشبہ یا تعظیم کی حد تک پہنچنے سے روکنا ہے۔ تاہم، جب کسی جزوی عمل کی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے تو وہاں صرف ظاہری شکل کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ علتِ حکم، عرفِ عام، ضرورت، اور صورتِ حال کے نقص و کمال وغیرہ کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

     دورِ حاضر کے جدید مواصلاتی وسائل، جیسے سوشل میڈیا پر زیرِ استعمال جذبات کے اظہار کی علامتیں، یا اسکولوں کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیاں، قدیم دور کے اصنام، مجسموں اور پائیدار نقش و نگار سے نوعیت اور حقیقت کے اعتبار سے مختلف ہیں، اس لیے ان کی تکییف (legal classification) میں ان باریکیوں کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔

​سوشل میڈیا ایموجیز کا استعمال

​     جدید مواصلاتی ذرائع، بالخصوص واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر استعمال ہونے والے ایموجیز (Emojis) بنیادی طور پر تحریری اندازِ گفتگو میں اپنے جذبات، تاثرات اور لہجے کی وضاحت کے لیے ایک علامت نگارانہ (symbolic) ذریعہ ہیں، جنہیں حقیقت کے اعتبار سے تصویر کے بجائے اصطلاحی زبان میں "علامت" یا "آئیکن" کہا جاتا ہے۔

     کسی بھی شے کی ممانعت کا مدار اس کی واقعی حقیقت پر ہوتا ہے، اور ایموجیز کے معاملے میں دو بنیادی باتیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ پہلی بات یہ کہ یہ ایموجیز سکرین پر نظر آنے والے عارضی برقی نقاط (Pixels) اور روشنی کا عکس ہوتے ہیں، جن کا سکرین سے ہٹتے ہی کوئی مستقل، مجسم یا پائیدار وجود نہیں رہتا۔ دوسری بات یہ کہ عام طور پر کثرت سے استعمال کیے جانے والے ایموجیز میں کسی کامل جاندار کی مکمل ہیئت یا جسم موجود نہیں ہوتا، بلکہ یہ محض ایک دائرے یا گول چہرے کی شکل میں انسانی تاثرات (مثلاً مسکراہٹ، تعجب، یا غم) کو ظاہر کرنے کی ایک ناقص اور غیر حسی تعبیر ہوتے ہیں۔

​     اگر کوئی نقش یا صورت اتنی ناقص ہو کہ اس ہیئت کے ساتھ جاندار کا زندہ رہنا ناممکن ہو (جیسے صرف چہرے کا ایک دائرہ یا بغیر دھڑ کے کوئی ساخت) یا وہ اتنی چھوٹی ہو جو تعظیم کے زمرے سے باہر ہو، تو وہ ممانعت کے درجے میں نہیں آتی ہے۔ اس بنا پر باہمی گفتگو میں مقصد اور پیغام کے صحیح مفہوم کو واضح کرنے کے لیے ان ایموجیز کا بھیجنا اور استعمال کرنا نادرست نہیں معلوم ہوتا، اور اسے اس تصویر کشی میں شمار نہیں کیا جاسکتا جس پر وعیدیں آئی ہیں۔ تاہم، تقویٰ اور احتیاط کا تقاضا یقیناً یہی ہے کہ جہاں بغیر آنکھوں والے یا سادہ علامتی نشانات سے کام چل سکتا ہو وہاں ان کا استعمال کیا جائے، لیکن عام روزمرہ کے تعامل میں آنکھوں والے ایموجیز کو مطلقاً ممنوع گرداننا غیر ضروری تنگی کا باعث ہوگا۔

​تعلیمی و تربیتی مقاصد کے لیے کڑھائی کے ڈیزائنز

​     اسکولوں، مدرسوں یا دیگر فنکارانہ مراکز میں بچیوں اور بچوں کو دستکاری اور کڑھائی (Embroidery) وغیرہ سکھانے کے دوران بعض ایسے ڈیزائنز بنوانا جن میں آنکھیں یا جاندار کی مشابہت موجود ہو، تعلیمی، تربیتی اور ہنر مندی کی ضرورت کے تحت آتا ہے۔ بچوں کی تربیت، تعلیم اور ان کی ذہنی و عملی صلاحیتوں کو نکھارنے کے معاملے میں عام احکام کی بنسبت وسعت، نرمی اور گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ اس کی اصل وہ صحیح احادیث ہیں [صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۱۳۰، صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۴۴۰، سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۴۹۳۲] جن میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بچپن میں گڑیا سے کھیلنے اور ان کے ذریعے دیگر بچیوں کے ساتھ تربیتی مشقوں وغیرہ کا ذکر ملتا ہے، جس سے بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کو ہنر سکھانے کے لیے غیر مجسم یا ناقص اشیاء کے استعمال میں گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

​     اِس کے علاوہ، کڑھائی کی ابتدائی مشقوں کے دوران جو کپڑے کے ٹکڑے استعمال ہوتے ہیں، ان کا مقصد کسی جاندار کی تصویر بنانا یا اس کی تعظیم نہیں ہوتا، بلکہ محض سوئی کے استعمال، دھاگے کی ترتیب اور ہاتھ کی صفائی کی مشق کروانا ہوتا ہے۔ یہ ابتدائی نمونے عموماً غیر پائیدار ہوتے ہیں اور مشق مکمل ہونے کے بعد اِدھر اُدھر ضائع بھی ہوجاتے ہیں یا انہیں آرائش کے طور پر معلق نہیں کیا جاتا۔

     تو جس کام میں مقصدِ اصلی ہنر کی تعلیم ہو، اور اس میں بننے والا نقش ناقِص الخلقت ہو (یعنی پورا جسم یا زندہ جاندار کی مکمل ساخت نہ ہو) اور وہ ایک عام ضرورت کا حصہ ہو، تو وہاں ممانعت کا سخت حکم عائد نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا، بچوں کو کڑھائی کا ہنر سکھانے کے لیے اس طرح کی مشقیں کروانے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے اور تعلیمی اداروں کو اس بنا پر گناہ گار قرار نہیں دیا جائے گا۔

​فکری و عملی نچوڑ

​     دین میں غیر ضروری تنگی نہیں ہے۔ لہٰذا مجموعی طور پر  بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والے ایموجیز دورِ حاضر کا ایک عمومی عرف بن چکے ہیں جو بت پرستی یا جاندار کی کامل تصویر سازی کا متبادل نہیں ہیں، اور دوسری طرف بچوں کو کڑھائی اور دستکاری سکھانا ان کے مستقبل کی عملی زندگی اور خود کفالتی کا ایک نفع بخش ذریعہ ہے جو شریعت کے مقاصد کے مطابق ہے۔

​     مشورہ یہی ہوگا کہ اگرچہ ان دونوں صورتوں میں گنجائش موجود ہے، لیکن تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے، کڑھائی کے نصاب میں جانداروں کے نقش و نگار کے بجائے قدرتی مناظر، پھول پتے، جیومیٹری کے دلکش ڈیزائنز اور خطاطی کے نمونے شامل کرنے کو ترجیح دیں تاکہ بچوں کے اندر ابتداء ہی سے خالص اسلامی جمالیات اور تقویٰ کا ذوق پیدا ہو۔ تاہم، جہاں ضرورت، نصاب کی مجبوری یا ناواقفیت کے تحت آنکھوں یا چہرے کے ناقص خدوخال والے ڈیزائن بنوائے جائیں یا پیغامات میں ایموجیز کا تبادلہ ہو، تو اسے گناہ اور ممنوع قرار دینے کے بجائے رخصت اور وسعت پر محمول کیا جائے گا۔

    یہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے، زیرِ بحث معاملے کے حوالے سے میرے اپنے فہمِ دین و شریعت کی روشنی میں عرض کیا ہے، جو کہ میرے اپنے گمان کے مطابق درست ہے۔ تاہم، اگر آپ اِس بارے میں باقاعدہ فتویٰ چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ کسی مستند دار الاِفتاء سے رجوع کریں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے