سیرت کوئز کے حوالے سے مقصد، طریقۂ کار اور کتب کا انتخاب کیسے کریں؟

میں سیرت کوئز کے متعلق آپ کی رہنمائی کا طلبگار ہوں۔

     ہمارے شہر میں علماء حضرات نے یہ ارادہ کیا ہے کہ عصری طلبہ و طالبات جن کی عمر ۱۱ سے ۲۰ سال کے درمیان میں ہو ان کے درمیان سیرت کوئز رکھی جائے اور انہیں سیرت سے جوڑنے کی کوشش کی جائے۔

     اب چند سوالات آپ سے دریافت کرنے کی ناقص کوشش کررہا ہوں، امید ہے کہ جس طرح بہت سے حضرات آپ کے علم سے مستفید ہو رہے ہیں، انشاءاللہ ہمیں بھی مستفید فرمائیں گے۔

١۔ سیرت کوئز کے پروگرام کا وسیع مقصد کیا ہونا چاہیے؟ 

٢۔ پروگرام میں کونسی ایسی چیزیں شامل کی جائیں جن کی وجہ سے طلبہ و طالبات سیرت کے اصلی پیغام سے واقف ہوسکیں، انعام حاصل کرنے کے بعد سیرت کوئز کے مقصد کو بھولا نہ بیٹھیں اور ان میں سیرت النبی (علی صاحبھا الصلاۃ والسلام) کے مزید پہلوؤں سے واقف ہونے کا شوق و ذوق اور رغبت پیدا ہو؟ 

۳۔ سیرت کوئز کے سوالات تیار کرنے کے لیے کونسی کتاب کو منتخب کرنا چاہیے؟


ایک کشادہ ہال کا منظر جہاں اسٹیج پر "علماء کی زیرِ نگرانی" کا بینر آمیزاں ہے، ہال میں درمیانی راستے کے بائیں جانب باپردہ طالبات اور دائیں جانب طلبہ مکمل عدمِ اختلاط کے ساتھ اپنے اپنے بلاکس میں بیٹھ کر سیرت کوئز کا پرچہ حل کر رہے ہیں۔
علماء کی زیرِ نگرانی عصری طلبہ و طالبات کے لیے منعقدہ سیرت کوئز مقابلے کا ایک باوقار اور منظم منظر


     آپ کے شہر کے علمائے کرام کا عصری تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے یہ اقدام نہایت مبارک اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ آپ کے ان سوالات کے حوالے سے کچھ گزارشات ذیل میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

​سیرت کوئز کے انعقاد کا وسیع اور حقیقی مقصد

​     سیرت کوئز کا بنیادی اور وسیع مقصد محض چند تاریخی واقعات، سنین، غزوات یا شخصیات کے ناموں کو یاد کروا دینا ہرگز نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا حقیقی ہدف نئی نسل کے دلوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذاتِ گرامی کو ایک کامل، قابلِ تقلید اور زندہ نمونۂ حیات کے طور پر راسخ کرنا ہونا چاہیے۔

     گیارہ سے بیس سال کی عمر وہ حساس دور ہوتا ہے جب انسانی شخصیت اپنے لیے رول ماڈل تلاش کرتی ہے اور اس کے افکار و نظریات پختگی کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ اس عمر کے عصری طلبہ و طالبات عموماً مغربی افکار، سوشل میڈیا کے سطحی رجحانات اور مصنوعی ہیروز سے بہت جلد مرعوب ہوجاتے ہیں، اس لیے اس پروگرام کا سب سے بڑا مقصد ان نوجوانوں کا ذہنی و قلبی تعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حیاتِ طیبہ سے اس طرح استوار کرنا ہونا چاہیے کہ ان کے دلوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بے پناہ محبت اور عظمت جاگزیں ہوجائے۔ انہیں یہ باور کرانا انتہائی ضروری ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی صرف چودہ سو سال پرانی کوئی روایتی تاریخ نہیں ہے، بلکہ آج کے اس پرفتن دور میں ان کے ذاتی، تعلیمی، نفسیاتی اور معاشرتی مسائل کا واحد اور حتمی حل اسی اسوۂ حسنہ میں پوشیدہ ہے۔

     اس کوئز کے ذریعے ان کے اندر یہ احساس بیدار کیا جانا چاہیے کہ وہ ایک ایسی عظیم ہستی کے امتی ہیں جس نے ہر قسم کے حالات، تکالیف، اور سماجی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اخلاق کی بلند ترین وادیوں کو سر کیا، تاکہ یہ نوجوان احساسِ کمتری سے نکل کر ایک پر اعتماد اور بااخلاق مسلمان بن سکیں۔

​طلبہ میں سیرت کا عملی پیغام اور پائیدار ذوق پیدا کرنے کی تدابیر

​     طلبہ و طالبات کو سیرت کے اصلی پیغام سے روشناس کرانے اور انعام ملنے کے بعد بھی ان کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کوئز کا اسلوب محض یادداشت کے امتحانات پر مبنی نہ ہو بلکہ اس میں فکری اور اطلاقی پہلوؤں کو لازمی طور پر شامل کیا جائے۔

     سوالات مرتب کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ وہ نوجوانوں کی روزمرہ زندگی، ان کے ذہنی الجھاؤ اور دورِ حاضر کے چیلنجز سے مطابقت رکھتے ہوں۔ مثال کے طور پر محض یہ پوچھنے کے بجائے کہ طائف کا واقعہ کب پیش آیا یا فلاں غزوہ کس ہجری میں ہوا، سوال کا انداز یہ ہونا چاہیے کہ طائف کے دلخراش واقعے میں جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، تو اس سے ہمیں شدید غصے پر قابو پانے، مایوسی سے بچنے اور اپنے مخالفین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا کیا عملی سبق ملتا ہے۔

     اس کے علاوہ، پروگرام میں صرف معروضی سوالات پر اکتفا کرنے کے بجائے کچھ حصہ مختصر مقالہ نویسی یا تاثراتی تحریر کے لیے بھی مختص کیا جائے، جس میں طلبہ اپنے الفاظ میں یہ بیان کریں کہ سیرت کے کس واقعے نے ان کی سوچ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور وہ اسے اپنی عملی زندگی میں کیسے نافذ کر سکتے ہیں۔ پروگرام کے اختتام پر انعام پانے والوں اور شرکاء کو محض مادی تحائف دینے کے بجائے، انعام کے طور پر ان کی عمر اور فہم کے مطابق دلکش انداز میں لکھی گئی اسلامی کتب بھی دی جائیں تاکہ مطالعے کا یہ سلسلہ جاری رہے۔

     مزید یہ کہ، اس کوئز کے کامیاب انعقاد کے بعد شرکاء پر مشتمل ایک ''سیرت اسٹڈی سرکل'' یا ماہانہ مشاورتی نشست کی بنیاد رکھی جائے جس میں ان طلبہ کو باقاعدگی سے مدعو کیا جائے تاکہ کوئز کے ذریعے لگایا گیا یہ پودا تناور درخت بن سکے اور وہ سیرت کے مزید درخشاں پہلوؤں کو جاننے کے لیے ہمیشہ متجسس اور فکرمند رہیں۔

​سوالات کی تیاری کے لیے مناسب اور مستند کتب کا انتخاب

​     گیارہ سے بیس سال کی عمر کے عصری تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے کتاب کا انتخاب کرتے وقت اس بات کو ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے کہ کتاب کی زبان ثقیل اور اندازِ بیان روایتی نہ ہو، بلکہ وہ جدید ذہن کو اپیل کرنے والی شستہ، سلیس اور دل نشین زبان میں لکھی گئی ہو۔ اس مقصد کے لیے طلبہ کی عمر اور ذہنی سطح کے لحاظ سے کتب کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔

     بنیادی اور جامع معلومات کے لیے مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب کی مختصر مگر انتہائی مستند اور جامع کتاب "سیرتِ خاتم الانبیاء" کا انتخاب کیا جاسکتا ہے، جو حقائق کو بڑی عمدگی اور سادگی سے پیش کرتی ہے اور کم عمر طلبہ کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اگر اس کوئز کو تھوڑا تفصیلی اور فکری بنانا مقصود ہو تو مولانا صفی الرحمن مبارکپوری صاحب کی شہرۂ آفاق تصنیف "الرحیق المختوم" سے بہتر شاید ہی کوئی انتخاب ہو، کیونکہ یہ کتاب عالمی انعام یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیرت کے واقعات کو ایک تسلسل اور انتہائی پرکشش پیرائے میں پیش کرتی ہے جسے نوجوان نسل بہت دلچسپی سے پڑھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، نسبتاً بڑی عمر کے طلبہ یعنی سولہ سے بیس سال کے نوجوانوں کے لیے مفکرِ اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی صاحب کی بہترین کتاب "نبئ رحمت" سے بھی فکری اور دعوتی نوعیت کے سوالات اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ یہ قاری کے دل و دماغ پر دستک دیتی ہے اور سیرت کو ایک زندہ انقلاب کے طور پر پیش کرتی ہے۔

     منتظمین کی کمیٹی کو چاہیے کہ وہ ان کتب سے ایسے سوالات کا انتخاب کرے جو طلبہ کو نہ صرف تاریخی معلومات فراہم کریں بلکہ ان کی فکری آبیاری اور کردار سازی میں بھی کلیدی کردار ادا کریں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے