کیا قادیانیوں سے خرید و فروخت کا معاملہ کرنا درست ہے؟
![]() |
| عقیدۂ ختمِ نبوت اور قادیانیوں سے متعلق شرعی حکم پر علمی رہنمائی |
عقیدۂ ختمِ نبوت کی حساسیت اور قادیانیت کی حیثیت
اسلام میں عام غیر مسلموں، مثلاً یہود و نصاریٰ یا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ دنیاوی معاملات اور خرید و فروخت کی اجازت دی گئی ہے، اور خود نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور صحابۂ کِرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی حیاتِ طیبہ سے یہ ثابت بھی ہے۔ لیکن قادیانیوں کا معاملہ عام غیر مسلموں سے یکسر مختلف ہے۔
قادیانی محض غیر مسلم نہیں ہیں، بلکہ یہ "زندیق" اور "مرتد" کے حکم میں ہیں؛ کیونکہ یہ اسلام کے نام پر ایک ایسے عقیدے (یعنی نبوت کے باطل دعوے) کی ترویج کرتے ہیں جو قرآن و سنت کی صریح نصوص اور اجماعِ امت کے قطعی خلاف ہے۔ زندیق وہ ہوتا ہے جو بظاہر کلمہ اسلام کا پڑھتا ہو، اسلامی شعائر کا دعویدار ہو، لیکن اس کے عقائد کفر پر مبنی ہوں۔
چونکہ قادیانیت اسلام کے متوازی ایک ایسا فتنہ ہے جو مسلمانوں کو دھوکے میں مبتلا کرکے ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتا ہے، اس لیے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے ایسے تعلق کی اجازت نہیں ہے جس سے ان کے اس باطل نظریے کو کسی بھی نوعیت کی تقویت حاصل ہو۔
قادیانیوں سے تجارتی معاملات اور ترکِ موالات
قادیانیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی تجارتی لین دین، خرید و فروخت اور معاشی شراکت داری ممنوع ہے۔ اور اس ممانعت کی بنیاد "ترکِ موالات" (یعنی قلبی و سماجی تعلقات کا خاتمہ) کا اصول ہے۔ تجارت اور معاشی لین دین محض اشیاء کے تبادلے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ فریقین کے درمیان ایک سماجی تعلق، ہمدردی اور باہمی مفاد کے جذبے کو پروان چڑھاتا ہے۔
یہ بات ہرگز پسندیدہ نہیں ہے کہ ایک مسلمان کسی ایسے شخص یا گروہ کے ساتھ قلبی یا معاشی ہمدردی رکھے جو حضور نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذاتِ اقدس اور آپ کی مہرِ نبوت پر حملہ آور ہو۔ لہٰذا، ان کے ساتھ خرید و فروخت کا بائیکاٹ کرنا دراصل حبِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور غیرتِ ایمانی کا ناگزیر تقاضا ہے، جس پر سمجھوتہ کرنا اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
اعانت علی الاثم (گناہ پر استعانت) اور سدِ ذرائع
اس ممانعت کی ایک انتہائی ٹھوس علت قرآنِ مجید کا یہ اصول ہے کہ "گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو" (ولا تعاونوا على الإثم والعدوان)۔ قادیانیوں کا ایک منظم معاشی ڈھانچہ ہے، اور ان کے کاروبار یا ان کی مصنوعات سے حاصل ہونے والے منافع کا قابلِ لحاظ حصہ براہِ راست ان کی جماعت کے فنڈز میں جاتا ہے، جسے وہ اسلام کے خلاف اپنے باطل عقائد کی ترویج، مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور اپنے لٹریچر کی اشاعت پر خرچ کرتے ہیں۔ ایک مسلمان جب ان کے ساتھ خرید و فروخت کرتا ہے، تو وہ نادانستہ طور پر ان کے اس مذموم مشن کو معاشی تقویت فراہم کررہا ہوتا ہے، جو کہ صریحاً گناہ کے کام میں اعانت ہے۔
مزید یہ کہ "سدِ ذرائع" (یعنی برائی کے راستوں کو بند کرنا) کا اصول بھی یہاں پوری قوت سے لاگو ہوتا ہے۔ اگر عام مسلمانوں کو ان کے ساتھ گھلنے ملنے اور تجارت کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے، تو رفتہ رفتہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان عقیدے کی وہ خلیج اور نفرت مٹ جائے گی جو کفر اور اسلام کے درمیان ہونی چاہیے، اور یوں سادہ لوح مسلمانوں کے ان کے عقائد سے متاثر ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہوجائے گا۔
ایک عالم اور استاذ کے لیے لائحۂ عمل اور حکمتِ دین
آپ چونکہ ایک استاذ اور عالمِ دین ہیں، اس لیے آپ پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ صرف مسئلہ بتادینے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اپنے طلباء اور عوام الناس کی فکری و ایمانی تربیت اس نہج پر کریں کہ ان کے دلوں میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی عظمت اور اس کے تحفظ کا شعور اس قدر پختہ ہو جائے کہ وہ خود بخود ایسے فتنوں سے معاشی و سماجی بائیکاٹ کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھیں۔
ایک حکیمانہ طرزِ عمل یہ ہے کہ عوام کو سختی یا جبر کے بجائے دلائل، محبت اور غیرتِ ایمانی کے جذبے سے بیدار کیا جائے۔ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ ہمارا یہ معاشی بائیکاٹ کسی دنیاوی دشمنی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کامل وفاداری کا ادنیٰ سا ثبوت ہے۔ جب تک امتِ مسلمہ اپنے معاشی معاملات کو اپنے ایمانی تقاضوں کے تابع نہیں کرے گی، تب تک باطل قوتوں کا راستہ روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح فہم اور عقیدۂ ختمِ نبوت پر کامل استقامت نصیب فرمائے۔
گزارشِ تعاون و اشاعت
محترم قارئین! "اسلامی رہنمائی" کے اس دعوتی و تعلیمی مشن کو مستقل جاری رکھنے اور مزید مؤثر بنانے کے لیے، براہِ کرم نیچے/ سائیڈ بار میں دیے گئے کیو آر کوڈ (QR Code) کے ذریعے اپنا مالی تعاون ضرور پیش کریں۔ نیز، دین کی اس اہم بات اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اس کارِ خیر و صدقۂ جاریہ میں ہمارے دست و بازو بنیں۔ جزاکم اللہ خیراً!

0 تبصرے