اسلامک اسکولز میں ٹیچرز ڈے منانا کیسا ہے؟

     اسلامی تعلیمی اداروں (اسلامک اسکولوں) میں ٹیچرز ڈے (یومِ اساتذہ) منانا، اور اس دن کی مناسبت سے خاص تقاریب کا انعقاد کرنا یا طلبہ کا اپنے اساتذہ کو تحائف دینا کیسا ہے؟ دینِ اسلام اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس عمل کی کیا حیثیت ہے؟


ایک روشن اور صاف ستھرے اسلامی کلاس روم کی ڈیجیٹل پینٹنگ، جس میں تمام کرداروں (استاد اور طلبہ) کے چہرے دھندلے (بلر) ہیں۔ سفید لباس اور ٹوپی پہنے بزرگ استاد محترم میز پر تشریف فرما ہیں اور ایک باادب طالب علم انہیں احترام کے ساتھ کتاب تحفے میں پیش کر رہا ہے۔ استاد کے پیچھے وائٹ بورڈ پر عربی خطاطی میں «الرَّحْمٰنُ. عَلَّمَ الْقُرْآنَ.» اور «إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً» لکھا ہوا ہے۔
اسلامی تعلیمی ماحول میں تکریمِ استاد اور حصولِ علم کے آداب کا ایک پُروقار اور روحانی منظر


معاملے کی حقیقی جہت

     آپ نے جو سوال اٹھایا ہے وہ محض ایک جزوی فقہی استفسار نہیں ہے، بلکہ اس کے پس منظر میں عصرِ حاضر کے مسلم معاشروں کی وہ گہری علمی، تہذیبی اور تربیتی کشمکش کارفرما ہے جس نے دینی و عصری علوم کے درمیان ایک طرح کا تصادم یا کم از کم بے اعتمادی پیدا کر رکھی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی تعلیمی اداروں میں مغربی یا عالمی تہذیب سے مستعار کردہ رسوم و رواج کو اپنانا جائز ہے یا نہیں؟ کیا اساتذہ کی تکریم و تعظیم کے لیے کوئی مخصوص دن، مخصوص تقریب اور تحائف کی صورت میں اظہارِ محبت شریعت کی نظر میں قابلِ قبول ہے یا یہ غیر قوموں کی مشابہت اور دین میں بدعت کے زمرے میں آتا ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب دیتے ہوئے ہمیں نہ صرف فقہی نصوص اور اصولوں سے رہنمائی لینا ہوگی بلکہ اس عمل کے تربیتی، نفسیاتی اور تہذیبی پہلوؤں کا بھی گہرا جائزہ لینا ہوگا تاکہ کوئی یک طرفہ اور سطحی فتویٰ دینے کے بجائے ایک متوازن، حکیمانہ اور دین و دانش دونوں کا احاطہ کرنے والا مؤقف پیش کیا جا سکے۔

اسلام میں استاد کی عظمت اور تکریم کا تصور

     اسلام نے استاد اور معلم کو جو بلند مقام عطا کیا ہے وہ کسی دوسری تہذیب یا مذہب میں شاید ہی ملتا ہو، کیونکہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کو "الرحمٰن" کے بعد "عَلَّمَ الْقُرْآن" [سورۂ رحمٰن، آیت نمبر: ٢] کے طور پر متعارف کرایا ہے یعنی تعلیم دینا اللہ کی صفت ہے اور معلم کی نسبت سب سے پہلے اللہ رب العزت کی طرف ہے۔ اسی طرح نبئ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی بعثت کا مقصد یوں بیان فرمایا: "إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا" [سننِ ابنِ ماجہ، حدیث نمبر: ٢٢٩] یعنی میں تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم و تدریس کا شرف کس قدر بلند ہے اور استاد کا مقام درحقیقت انبیاء کے مشن کا وارث ہونے کا مقام ہے۔ سلف صالحین اور علمائے امت نے استاد کی عظمت کو اس قدر محسوس کیا کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی جانب منسوب ایک مشہور قول ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنالیا [واضح رہے کہ یہ قول بطورِ اثر محلِ نظر ہے اور اس کی سند کمزور ہے، لیکن استاد کی عظمت کے مفہوم میں اس کا استعمال بطورِ حکایت کیا جاسکتا ہے]۔ یہ انتہائی عاجزی اور اعترافِ احسان کا اظہار ہے جو استاد کے حق میں شاگرد کا شیوہ ہونا چاہیے۔ امام ابو حنیفہ (رحمہ اللہ) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنے استاد امام حماد رحمہ اللہ کے گھر کی طرف پاؤں نہیں پھیلاتے تھے محض ادب اور احترام کی بنا پر، حالانکہ علمی اعتبار سے وہ خود ایک بلند مقام رکھتے تھے۔

     اسلامی تاریخ میں استاد کی تکریم کا یہ تصور صرف جذباتی نہیں، بلکہ عملی زندگی میں ظاہر ہوتا تھا، سَلَفِ صالحین اپنے اساتذہ اور مشائخ کے سامنے تواضع اختیار کرتے، بڑے بڑے ائمہ اپنے شیوخ کے لیے دعائیں کرتے اور ان کی مالی اعانت تک کرتے تھے۔ لہٰذا اصل مسئلہ استاد کی عزت کا نہیں ہے، کیونکہ یہ تو دین کا جزو ہے اور اسلامی تہذیب کا امتیازی وصف ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس تکریم کے اظہار کا طریقہ اسلام نے خود متعین کیا ہے یا اس میں ہمیں کسی اور تہذیب کے طریقے اپنانے کی اجازت ہے؟

عادت اور عبادت میں فرق، بدعت اور تشبہ کا مفہوم

     اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ہمیں شریعت کے چند بنیادی اصولوں کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ پہلا اصول یہ ہے کہ دین کے احکام دو قسم کے ہیں: عبادات (خالص دینی امور) اور عادات و معاملات (دنیاوی امور اور رسوم و رواج)۔ عبادات میں اصل اتباع ہے اور جو عبادت کسی نص سے ثابت نہ ہو وہ بدعت کہلاتی ہے اور مردود ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: "مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ" [صحيح مسلم، حدیث نمبر: ١٧١٨]۔ البتہ عادات، معاملات اور دنیاوی رسوم میں اصل اباحت ہے یعنی ہر وہ چیز جائز ہے جس کی ممانعت میں کوئی دلیل نہ ہو، جیسا کہ فقہی قاعدہ ہے: "الْأَصْلُ فِي الْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ." [القواعد الفقھیۃ، قاعدہ نمبر ٣٣، از مفتی عمیم الاِحسان مجددی]۔

     اب سوال یہ ہے کہ یومِ اساتذہ منانا کس زمرے میں آتا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ کوئی عبادت یا دینی رسم نہیں ہے، اور نہ ہی اسے کوئی سنت یا مستحب عمل سمجھ کر دین کا حصہ بنایا جارہا ہے، بلکہ یہ ایک دنیاوی اور تہذیبی رواج ہے جو اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور ان کے مقام کی یاد دہانی کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں اسے بدعت قرار دینا درست نہیں ہوگا کیونکہ بدعت وہ ہے جسے دین میں اضافہ سمجھا جائے اور ثواب کی نیت سے کیا جائے، جبکہ یومِ اساتذہ کی تقریب کو کوئی شخص عید کی طرح شرعی تہوار نہیں سمجھتا اور نہ ہی اس کا انعقاد بطورِ عبادت کیا جاتا ہے۔

     دوسرا اہم اصول تشبہ (غیر مسلموں کی مشابہت) کا ہے۔ شریعت میں غیر قوموں کی مذہبی رسومات اور ان کی مخصوص مذہبی شناختوں سے مشابہت اختیار کرنا ممنوع ہے، جیسے ان کے مذہبی تہوار منانا یا ان کے مخصوص مذہبی لباس اور شعار اپنانا۔ لیکن کیا یومِ اساتذہ کسی قوم کی مذہبی رسم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک عالمی تہذیبی اور تعلیمی روایت ہے جس کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا اور اس کا کسی مذہب یا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ محض اساتذہ کے سماجی مقام کو اجاگر کرنے اور ان کے حقوق کی یاد دہانی کا ایک ذریعہ ہے۔ ایسی تہذیبی اور دنیاوی رسوم میں شرکت یا انہیں اپنانا اس وقت تک مباح اور درست ہے جب تک کہ ان میں کوئی شرعاً ممنوع امر شامل نہ ہو، جیسے مرد و زن کا بے پردہ و آزادانہ اختلاط، موسیقی، رقص، اسراف، یا کوئی اور غیر شرعی عمل۔ عادات میں اصل اباحت ہے اور دنیاوی معاملات میں غیر مسلموں سے فائدہ اٹھانا اور ان کی ایجادات و تنظیمات کو اپنانا مباح و درست ہے بشرطیکہ وہ شریعت کے کسی قطعی حکم سے متصادم نہ ہوں۔

یومِ اساتذہ کی حیثیت 

     یومِ اساتذہ کے انعقاد کو فی نفسہٖ مباح و درست، بلکہ بعض پہلوؤں سے مستحسن قرار دیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ اس کا انعقاد اسلامی حدود و آداب کے مطابق ہو۔ اس کی وجوہ درج ذیل ہیں:

     اول یہ کہ اساتذہ کی تکریم، ان کا شکریہ ادا کرنا اور ان کے احسانات کا اعتراف کرنا اسلام کی تعلیمات میں شامل ہے۔ نبئ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: "لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ" [سننِ ابو داؤد، حدیث نمبر: ٤٨١١] یعنی جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔ اساتذہ کا حق سب سے بڑے انسانی حقوق میں سے ہے، لہٰذا اگر ایک دن ان کی محنت کو سراہنے اور ان کے تئیں محبت و احترام کے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے مخصوص کیا جائے تو یہ شکرِ احسان ہی کی ایک صورت ہے جو شریعت کی روح کے عین مطابق ہے۔

     دوم یہ کہ اسلامی شریعت نے کچھ اوقات اور مقامات کی تخصیص ضرور کی ہے جیسے جمعہ کا دن، رمضان کا مہینہ، مکہ اور مدینہ کی فضیلت وغیرہ، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دنیاوی مصلحتوں اور تعلیمی ضروریات کے پیشِ نظر کسی دن یا موقع کی تخصیص کرنا مطلقاً غلط ہے۔ دنیاوی امور میں کسی خاص وقت یا دن کا تعین کرنا بذاتِ خود ممنوع نہیں ہے جب تک کہ اسے شرعی حکم یا دینی لازم نہ سمجھا جائے۔ مثلاً ہفتہ وار اجتماعات، سالانہ امتحانات، یومِ داخلہ، یومِ کھیل وغیرہ سب کی تواریخ مقرر کی جاتی ہیں اور کوئی انہیں بدعت نہیں کہتا۔ اسی طرح یومِ اساتذہ بھی ایک تعلیمی اور تہذیبی ضرورت کے تحت مقرر کیا گیا دن ہے جسے اگر کوئی لازم نہ سمجھے اور اسے شریعت کا حصہ قرار نہ دے تو اس کا انعقاد مباح و درست ہے۔

     سوم یہ کہ اس دن طلبہ کا اپنے اساتذہ کو تحائف دینا ہدیہ کے باب سے تعلق رکھتا ہے اور ہدیہ دینا سنتِ نبوی اور مستحب عمل ہے۔ نبئ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: "تَهَادَوْا تَحَابُّوا" [موطا امام مالک، حدیث نمبر: ٢٦٤١] یعنی آپس میں ایک دوسرے کو ہدیے دیا کرو، محبت بڑھے گی۔ البتہ اس میں شرط یہ ہے کہ تحائف میں اسراف نہ ہو، طلبہ پر مالی بوجھ نہ ڈالا جائے، اور نہ ہی یہ رشوت یا خوشامد کے زمرے میں آئے۔ اگر تحائف سادہ ہوں، محبت کے اظہار کے لیے ہوں اور کسی غریب طالب علم کے لیے باعثِ شرمندگی یا ذہنی دباؤ نہ بنیں تو یہ بالکل درست اور مستحسن عمل ہے۔

     چہارم یہ کہ اس دن کی مناسبت سے تقریریں، انعامات، اور اساتذہ کے حقوق کے بارے میں نصیحت و رہنمائی کرنا تعلیم و تذکیر کے باب سے ہے جو کہ شریعت کا منشا ہے۔ اگر ان تقریبات میں طلبہ کو اساتذہ کے مقام و مرتبے سے آگاہ کیا جائے، ان کے اندر ادب و احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے اور اساتذہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے تو یہ ایک دینی اور اخلاقی فائدے کا باعث ہوگا۔

حدود و شرائط اور قابلِ احتراز امور

     یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یومِ اساتذہ کا انعقاد صرف اسی صورت میں درست اور مستحسن ہے جب وہ اسلامی آداب اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہو۔ اگر اس میں درج ذیل امور شامل ہوں تو یہ ممنوع اور قابلِ ترک ہو جائے گا:

     پہلا امر یہ کہ اس تقریب کو کوئی شرعی حیثیت یا دینی ضرورت نہ سمجھا جائے، کیونکہ اگر لوگ یہ عقیدہ رکھنے لگیں کہ یہ دن منانا دین کا حصہ ہے، اس کے بغیر استاد کی عزت نامکمل ہے یا اس دن کو عید کی طرح منانا ضروری ہے تو پھر یہ بدعت بن جائے گا اور اس سے روکا جائے گا۔ لہٰذا اساتذہ اور منتظمین کو چاہیے کہ وہ اس دن کو صرف ایک تہذیبی اور تعلیمی موقع کے طور پر لیں نہ کہ شرعی تہوار کے طور پر۔

     دوسرا امر یہ کہ اس موقع پر کسی غیر شرعی عمل کا ارتکاب نہ ہو جیسے مرد و عورت کا بے پردہ و آزادانہ اختلاط، موسیقی اور رقص و سرود کی محفلیں، اسراف و تبذیر، اور ایسے کھیل تماشے جو اسلامی اخلاق سے متصادم ہوں۔ اگر یہ چیزیں شامل ہوں تو ظاہر ہے کہ اس تقریب کا انعقاد درست نہیں رہے گا اور اس سے منع کیا جائے گا۔

     تیسرا امر یہ کہ اس دن تحائف دینے میں اخلاص اور محبت کا جذبہ ہو، نہ کہ ریا، دکھاوا یا استاد کو متاثر کرنے اور نمبر حاصل کرنے کی غرض؛ کیونکہ نیت کی خرابی عمل کی قبولیت کو ختم کردیتی ہے۔ اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ تحائف کی بنیاد پر طلبہ میں کوئی فرق روا نہ رکھیں اور نہ ہی کسی طالب علم کے تحفے کو اس کی کارکردگی یا اخلاق سے جوڑیں۔

     چوتھا امر یہ کہ اس دن کے اخراجات میں اعتدال ہو اور غریب طلبہ کے لیے یہ باعثِ پریشانی نہ بنے۔ بعض اوقات بچے اپنے والدین سے مہنگے تحائف کا مطالبہ کرتے ہیں جو کہ غلط ہے اور اس سے بچوں میں نقصان دہ مسابقت اور اسراف کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ اساتذہ اور والدین دونوں کو اس پہلو پر توجہ دینی چاہیے۔

اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی ضرورت (نفسیاتی اور تربیتی پہلو) 

     یہ ایک مُسَلَّم نفسیاتی حقیقت ہے کہ انسان کی فطرت میں قدر دانی اور اعتراف کی پیاس بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ معلمین جو دن رات اپنی توانائیاں طلبہ کی تعلیم و تربیت پر صرف کرتے ہیں، ان کی محنت کا اعتراف ان کے حوصلے اور جذبے کو بلند کرتا ہے اور ان میں پیشہ ورانہ اطمینان (Professional Satisfaction) پیدا کرتا ہے۔ نفسیاتی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جن ملازمین اور پیشہ ور افراد کی کارکردگی کو سراہا جاتا ہے وہ اپنے کام میں زیادہ دلچسپی اور لگن محسوس کرتے ہیں اور ان کی کارکردگی میں مسلسل بہتری آتی ہے۔ یہی اصول اساتذہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر سال میں ایک دن ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے تو اس سے ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کی قربانیاں بے قدر نہیں ہیں اور معاشرہ ان کی اہمیت کو محسوس کرتا ہے۔

     بچوں کی تربیت کے حوالے سے بھی یہ ایک مفید عمل ہے۔ جب بچے اپنے اساتذہ کے لیے محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہیں تو ان کے اندر احسان مندی، شکر گزاری اور ادب کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ یہ صفات بچے کی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ استاد کی عزت کسی رسم یا دن کی محتاج نہیں ہے اور یہ سب غیر ضروری ہے تو اس سے ان کے ذہنوں میں استاد کے مقام کی اہمیت کم ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جذبات کا اظہار ضروری ہے، محبت اگر دل میں ہو لیکن اس کا اظہار نہ کیا جائے تو تعلقات میں سرد مہری پیدا ہوتی ہے۔

تعلیمی و تربیتی اداروں کے لیے حکیمانہ مؤقف

     اسلامی تعلیمی اداروں کو یومِ اساتذہ کے موقع کو صرف ایک تقریب تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے ایک وسیع تر تربیتی پروگرام کے طور پر استعمال کرنا چاہیے، جس میں طلبہ کو استاد کے مقام، علم کی فضیلت اور ادب و احترام کی اہمیت کے بارے میں عملی تربیت دی جائے۔ اس دن کو صرف تحائف وغیرہ تک محدود کرنے کے بجائے اسے ایک ایسے دن کے طور پر منایا جائے جس میں اساتذہ اور طلبہ کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے، اساتذہ اپنے تجربات اور طلبہ اپنے جذبات کا اظہار کریں، اور مستقبل کے لیے ایک بہتر تعلیمی ماحول کی بنیاد رکھی جائے۔

     اسلامی اداروں کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ اس موقع پر اساتذہ کے حقوق کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں خطاب کریں، سَلَفِ صالحین کے واقعات بیان کریں، اور اس بات کی تاکید کریں کہ یہ صرف ایک دن کی رسم نہیں ہے، بلکہ استاد کی عزت ہر وقت اور ہر لمحہ واجب ہے۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی اس دن اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ اپنے فرائض کو مزید احسن طریقے سے انجام دیں گے۔

خلاصہ

     تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد راقم الحروف کی متوازن رائے یہ ہے کہ اسلامی تعلیمی اداروں میں یومِ اساتذہ منانا فی نفسہٖ ٹھیک ہے بشرطیکہ اس میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھا جائے: پہلی شرط یہ کہ اسے دینی ضرورت یا شرعی رسم نہ سمجھا جائے، بلکہ صرف ایک تہذیبی اور تعلیمی موقع کے طور پر لیا جائے۔ دوسری شرط یہ کہ اس کا انعقاد اسلامی آداب کے مطابق ہو اور اس میں کوئی غیر شرعی عمل شامل نہ ہو۔ تیسری شرط یہ کہ تحائف میں اعتدال اور اخلاص ہو، اسراف اور ریا کاری نہ ہو۔ چوتھی شرط یہ کہ اس موقع کو طلبہ کی تربیت اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کیا جائے نہ کہ محض ایک رسمی تقریب کے طور پر۔

     دراصل اس معاملے کی اصل روح یہ ہے کہ اسلام نے ہمیں جو جامع تعلیمات دی ہیں ان میں استاد کی تکریم کا تصور کسی خاص دن کا محتاج نہیں ہے، لیکن اگر کوئی معاشرہ یا ادارہ اس مقصد کے لیے کوئی دن مقرر کرلے تو اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے، جب تک کہ وہ مذکورہ شرائط کی پابندی کرے۔ اہم یہ ہے کہ یومِ اساتذہ ایک دن کی رسم نہ بن جائے، بلکہ یہ دن اس وسیع تر اسلامی تعلیم کی یاد دہانی کا ذریعہ بنے جو ہمیں اپنے اساتذہ، بزرگوں اور محسنوں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتی ہے۔


دین کی خدمت میں آپ کا تعاون، آخرت کا سرمایہ

     یہ علمی اور دینی مواد تیار کرنا ہمارے لیے آپ ہی کے تعاون سے ممکن ہے۔ اگر یہ تحریر آپ کے دل و دماغ کو چھو گئی ہو، تو براہِ کرم اسے آگے شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مالی تعاون سے بھی نوازیے۔ آپ کا ایک چھوٹا سا تعاون بھی ہمارے لیے بڑی قوت ہے اور اللہ کے ہاں صدقۂ جاریہ کا ذریعہ ہے۔

     تھوڑا سا اسکرول کرنے پر نیچے (یا اگر پی سی پر پڑھ رہے ہوں تو سائیڈ میں) QR CODE بھی ہے اور UPI ID کی سہولت بھی۔ شکریہ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے