سلسلہ صحیحہ کی روایت نمبر 2293 میں حضرت ملیکہ بنت عمر سے منقول ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کے دورِ خلافت میں انہوں نے ایک بیمار بکری کے علاج کے لیے گائے کا گھی تجویز کیا اور اس موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کیا کہ "اس کا دودھ شفا ہے، اس کا گھی دوا ہے، اور اس کا گوشت بیماری ہے" (یعنی گائے کا گوشت "داء" ہے)۔
اسی حدیث کو بنیاد بنا کر ایک غیر مسلم نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جب خود نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے گائے کے گوشت کو نقصان دہ اور بیماری کا سبب قرار دیا تھا تو مسلمان اپنے پیغمبر کی اس واضح ہدایت کے باوجود آج تک کثرت سے گائے کا گوشت کیوں کھاتے چلے آرہے ہیں، اور کیا یہ اپنے ہی نبی کی نصیحت سے صریح انحراف نہیں ہے؟!
اس اعتراض کی روشنی میں یہ سمجھنا مطلوب ہے کہ اس حدیث کا صحیح فہم اور محمل کیا ہے: کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا یہ ارشاد گائے کے گوشت کی حرمت یا اس کے کھانے کی ممانعت پر دلالت کرتا ہے، یا یہ محض طب و صحت سے متعلق ایک عمومی رہنمائی تھی جس کا تعلق حرام و حلال کے حکم سے نہیں ہے، بلکہ کسی خاص کیفیت، کثرتِ استعمال، یا اس دور کے طبی پس منظر سے تھا؛ اور اس حدیث کو ان دیگر نصوص و آثارِ صحابہ کی روشنی میں کیسے سمجھا جائے جن سے گائے کا گوشت کھانے کا جواز اور اس پر عملِ صحابہ ثابت ہے، تاکہ اس بظاہر تعارض کو رفع کرتے ہوئے اس اعتراض کا علمی اور مدلل جواب سامنے آسکے۔
![]() |
| طبِ نبوی اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صحت بخش غذا (دودھ اور گھی) کی اہمیت کو ظاہر کرتا ایک پُرسکون اور خوبصورت منظر |
حدیث کی حیثیت اور اس کا صحیح محمل
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ روایت طب سے متعلق ایک خاص نوعیت کی حدیث ہے۔ نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وہ ارشادات جو خالص طبی، تجرباتی یا مقامی و زمانی نوعیت کے امور سے متعلق ہوں، ان کا درجہ ہمیشہ تشریعی احکام (حلال و حرام، امر و نہی) جیسا نہیں ہوتا، بلکہ بہت سی مرتبہ وہ رہنمائی اور مشورے کے زمرے میں آتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طبی ارشادات میں سے بعض وحی پر مبنی ہدایات تھیں اور بعض عرب کے مخصوص ماحول، وہاں کی آب و ہوا اور اس دور کے تجربے کی بنیاد پر تھیں، اور دونوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ گائے کے گوشت والی یہ حدیث اسی دوسری قسم سے تعلق رکھتی ہے، یعنی یہ ایک طبی مشورہ ہے، شرعی حکمِ حرمت نہیں ہے، اور اسی بنا پر کسی معتبر فقہی مکتبِ فکر نے بھی اس حدیث سے گائے کے گوشت کی حرمت یا اس کے کھانے کی ممانعت اخذ نہیں کی ہے، حالانکہ یہ روایت صحابہ کے دور سے چلی آرہی ہے اور محدثین کے علم میں تھی۔
اس کے علاوہ یہ نکتہ بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ یہ روایت درجہ بندی کے اعتبار سے بعض محدثین کے نزدیک کلامِ نبوی کے بجائے ممکنہ طور پر موقوف یا کسی صحابیہ کے اپنے تجربے و رائے پر بھی محمول کی گئی ہے، اور اگرچہ جناب البانی صاحب نے اسے سلسلۂ صحیحہ میں نقل کرکے اس کی سند کو قابلِ اعتماد قرار دیا ہے، تاہم متن کی تشریح میں محدثین کے درمیان یہ بات معروف ہے کہ محض سند کی صحت اس بات کو لازم نہیں کرتی کہ متن کا ہر حصہ ایک قطعی شرعی حکم ہی ہو، بالخصوص جب معاملہ طب و صحت جیسے تجرباتی امور کا ہو۔
"داء" کا لفظی و سیاقی مفہوم
عربی زبان میں لفظ "داء" کا مطلب ہمیشہ مطلق حرمت یا سرے سے نقصان دہ ہونا نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کوئی چیز طبعاً بھاری، دیر ہضم، یا بعض مزاجوں کے لیے موافق نہ ہو، جیسا کہ طبِ قدیم (بشمول یونانی و عربی طب) میں گوشت کی مختلف اقسام کو مختلف مزاجوں سے منسوب کیا جاتا تھا اور گائے کے گوشت کو عمومی طور پر "سرد و خشک" اور دیر ہضم سمجھا جاتا تھا، جبکہ دودھ اور گھی کو ہلکا اور جلد ہضم ہونے والا تصور کیا جاتا تھا۔ اس تناظر میں یہ ارشاد دراصل ایک عمومی طبی مشاہدے کی حیثیت رکھتا ہے کہ بعض اوقات اور بعض مزاجوں کے لیے گائے کا گوشت زیادہ موزوں نہیں ہوتا، خصوصاً کثرتِ استعمال کی صورت میں، نہ یہ کہ اس کا کھانا بذاتِ خود حرام یا ہر انسان کے لیے یکساں نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی حدیث کے تسلسل میں دودھ کو "شفا" اور گھی کو "دوا" کہا گیا، جو دراصل گوشت کے مقابلے میں ان کی زود ہضمی اور نفع بخشی کو نمایاں کرنے کے لیے ایک اسلوبی موازنہ ہے، اسے حتمی سائنسی یا شرعی حکم کے بجائے اسی دور کی طبی زبان میں سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔
قرآن، دیگر احادیث اور عملِ صحابہ سے تطبیق
اگر بالفرض اس حدیث کو حرمت کے معنی میں لیا جائے تو یہ قرآن کریم کی صریح نصوص سے متصادم ہو جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام اور سورۃ المائدہ سمیت متعدد مقامات پر انعام (مویشیوں) میں گائے کو صراحتاً حلال جانوروں میں شمار فرمایا ہے، اور قرآن میں کہیں بھی گائے کے گوشت کو مستثنیٰ یا ممنوع قرار نہیں دیا گیا ہے۔ اسی طرح خود نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دور اور خلفائے راشدین کے زمانے میں گائے کی قربانی، اس کا گوشت کھانا اور دعوتوں میں اسے استعمال کرنا صحابۂ کرام سے ثابت ہے، جیسا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی ازواجِ مطہرات کی جانب سے گائے کی قربانی کروائی، جو کہ صحیح بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایات [صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱۷۰۹ اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۲۱۱] میں مذکور ہے۔ اگر سوال میں مذکور حدیث حرمتِ گوشت پر دلالت کرتی تو نہ خود نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی ازواج کی طرف سے گائے کی قربانی کرواتے اور نہ ہی صحابہ اسے کھاتے، حالانکہ ایسا کوئی اختلاف یا ممانعت کسی معتبر ماخذ میں منقول نہیں۔ یہی دلیل اس بات کی سب سے مضبوط بنیاد ہے کہ اس حدیث کو کبھی بھی امتِ مسلمہ کے اجماعی فہم میں حرمت کے طور پر نہیں لیا گیا، بلکہ یہ ابتداء ہی سے طبی مشورے کے زمرے میں شمار ہوتی رہی۔
غیر مسلم کے اعتراض کا علمی جواب
اس اعتراض کی اصل بنیاد اس مغالطے پر کھڑی ہے کہ ہر نبوی ارشاد لازماً ایک قطعی اور دائمی شرعی حکم ہی ہوتا ہے، حالانکہ اصولِ حدیث و فقہ میں یہ ایک بنیادی اور مسلّمہ اصول ہے کہ نبئ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اقوال کئی حیثیتوں سے صادر ہوتے تھے: کبھی بطور مبلغِ وحی و شارع، کبھی بطور حاکم و قاضی، اور کبھی بطور ایک انسان جو اپنے دور کے تجربے، عادت یا رائے کی بنیاد پر کوئی بات کہہ دیتا ہے، جیسا کہ خود حدیثِ تلقیحِ نخل (کھجور کے درختوں کی پیوند کاری) میں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود فرمایا کہ "اگر میں کوئی دنیاوی بات کہوں تو وہ تم مجھ سے بہتر جانتے ہو۔" [سننِ ابنِ ماجہ، حدیث نمبر: ۲۴۷۱] یہی اصول طب نبوی کی احادیث پر بھی منطبق ہوتا ہے، اور اسی لیے امت کے اجتماعی فہم، فقہاء کے اجماع اور خود عملِ صحابہ نے اس حدیث سے کبھی حرمت کا حکم اخذ نہیں کیا۔ لہٰذا مسلمانوں کا گائے کا گوشت کھانا نہ تو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی ہے اور نہ ہی دین کے کسی اصول سے متصادم، بلکہ یہ اسی بات کا عملی ثبوت ہے کہ امت نے ابتداء ہی سے اس حدیث کو اس کے صحیح تناظر میں یعنی ایک وقتی طبی ہدایت کے طور پر سمجھا، نہ کہ ایک ابدی تشریعی ممانعت کے طور پر۔
داعیانہ اسلوب میں اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے یہ بات نرمی اور اعتماد کے ساتھ واضح کی جا سکتی ہے کہ دین کو سمجھنے کے لیے محض ایک جزوی حدیث کو الگ تھلگ کرکے دیکھنا کافی نہیں ہے، بلکہ اسے قرآن، دیگر احادیث، اصولِ شریعت اور امت کے چودہ سو سالہ متواتر عمل کی روشنی میں ہی صحیح طور پر سمجھا جاسکتا ہے، اور یہی علمِ حدیث کا اصل مزاج اور اسلوب ہے۔
ہمارے مشن کا حصہ بنیے!
یہ کاوش اگر آپ کو پسند آئی ہو تو اسے دوسروں تک پہنچائیے اور مالی تعاون سے ہمارے اس دینی مشن کو آگے بڑھانے میں شامل ہو جائیے۔ یاد رکھیے! علمِ دین کی اشاعت میں تعاون، صدقۂ جاریہ ہے جو قبر میں بھی آپ کے کام آئے گا۔
تھوڑا سا اسکرول کرنے پر نیچے (یا اگر پی سی پر پڑھ رہے ہوں تو سائیڈ میں) QR CODE بھی ہے اور UPI ID کی سہولت بھی۔ جزاکم اللہ۔

0 تبصرے