(سوال): کیا قرآنِ کریم کے بوسیدہ اوراق کو جلایا جاسکتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم احترام اور تقدس کی علامت: قرآنِ کریم کا ایک قدیم اور پرنور نسخہ، جو کلامِ الہی کی عظمت کی یاد دلاتا ہے۔ قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا کلام ہے اور اس کا احترام و تقدس شعائرِ اسلام میں سے ہے، جس کی پاسداری ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے۔ جب قرآنِ کریم کے اوراق قدیم ہونے کی وجہ سے بوسیدہ ہو جائیں یا تلاوت کے قابل نہ رہیں، تو ان کی بے ادبی سے بچنا اور انہیں اپنے پاس سے کسی موزوں اور محفوظ طریقے سے نکالنا ایک دینی ضرورت بن جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پسندیدہ اور محتاط طریقہ یہ ہے کہ ان اوراق کو کسی پاک کپڑے یا تھیلی میں لپیٹ کر ایسی جگہ دفن کردیا جائے جہاں لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو اور پامالی کا اندیشہ نہ رہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک مومن کے جسدِ خاکی کو وفات کے بعد عزت و احترام کے ساتھ پیوندِ خاک کیا جاتا ہے تاکہ وہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے اور اس کی حرمت برقرار رہے۔ جہاں تک بوسیدہ اوراق کو جلانے کا تعلق ہے، تو عام حالات میں تو اوراقِ قرآنی کو جلانا ناپسندیدہ ہے کی...
(مسئلہ):
اگر کسی شخص نے اپنے پیسے اور اپنی بیوی کے زیورات بیچ کر حاصل ہونے والے فنڈز فلیٹ کی خریداری میں لگائے ہیں، لیکن فلیٹ ابھی تک اس کی ملکیت میں نہیں آیا اور نہ ہی اس کی مکمل قیمت ادا کی گئی ہے، بلکہ مزید رقم کی ادائیگی باقی ہے، تو کیا اس لگائی گئی رقم پر زکات واجب ہوگی؟ واضح رہے کہ یہ گھر رہائش کی نیت سے خریدا گیا ہے۔
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم بھائی، اللہ تعالیٰ آپ کے ارادوں میں برکت عطا فرمائے اور آپ کو جلد از جلد اپنے ذاتی گھر کی خوشیاں دیکھنا نصیب کرے۔
شریعت کا یہ ایک بڑا احسان اور سہولت ہے کہ اس نے حاجتِ اصلیہ (انسان کی بنیادی ضروریات) کو زکات سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ جب آپ نے اپنی اور اپنی اہلیہ کی جمع پونجی اور زیورات کو ایک ایسے فلیٹ کی خریداری میں لگا دیا ہے جس کا مقصد رہائش ہے، تو اس رقم کی حیثیت اب تبدیل ہو چکی ہے۔
زکات اس مال پر واجب ہوتی ہے جو نامی ہو، یعنی وہ مال جو بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسے نقد رقم، سونا، چاندی یا مالِ تجارت۔ جو رقم آپ فلیٹ کے لیے ادا کر چکے ہیں، وہ اب آپ کی ملکیت سے نکل کر فروخت کرنے والے کی ملکیت میں جا چکی ہے، چاہے ابھی فلیٹ کا قبضہ یا مکمل قانونی کاغذات آپ کو نہ ملے ہوں۔ چونکہ یہ رقم آپ نے رہنے کے گھر کے لیے دی ہے، اس لیے ادا شدہ رقم پر اب کوئی زکات نہیں ہے۔ ہاں اگر یہ فلیٹ آپ نے منافع پر بیچنے (Investment) کی نیت سے لیا ہوتا، تو اس کی صورتِ حال مختلف ہوتی، لیکن ذاتی رہائش کی نیت نے اسے زکات کے دائرے سے باہر کر دیا ہے۔
رہی بات ان پیسوں کی جو ابھی آپ کو مستقبل میں ادا کرنے ہیں، تو اگر وہ رقم ابھی آپ کے پاس موجود ہو اور آپ نے قسطوں کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھی ہو، تو اس کا معاملہ یہ ہے کہ اگر وہ رقم واجب الادا قرض کے زمرے میں آتی ہو اور آپ کو اسے بہت جلد (مثلاً اسی سال کے اندر) ادا کرنا ہو، تو ایسی رقم پر بھی زکات نہیں ہوتی؛ کیونکہ وہ رقم آپ کی ضرورت میں مشغول شمار ہوگی۔ البتہ آپ کی اہلیہ کے پاس اگر کچھ سونا باقی بچ گیا ہو جو نصاب کو پہنچتا ہو، تو صرف اس باقی ماندہ سونے پر زکات ہوگی۔
خلاصہ یہ کہ فلیٹ کی مد میں دی گئی رقم اور رہائشی مکان کے حصول کے لیے کیے گئے اخراجات پر زکات کا کوئی بوجھ آپ پر نہیں ہے۔ اللہ پاک آپ کے رزق میں وسعت اور برکت عطا فرمائے۔
واللہ اعلم!
=============================================
=============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں