![]() |
| علم و عمل کا نور: ماں اور بیٹی کے باہمی تعلق کی خوبصورت جھلک۔ |
دوستانہ تعلق اور قلبی اعتماد کی بحالی
اس عمر کی بچی کے ساتھ سب سے پہلا اور اہم ترین قدم ایک ایسا مضبوط قلبی تعلق قائم کرنا ہے جو کسی بھی قسم کے خوف یا جھجک سے پاک ہو۔ اس مرحلے پر والدین، بالخصوص والدہ کو ایک داروغہ، افسر یا اُستانی کے بجائے ایک سچی، ہمدرد اور قابلِ اعتماد سہیلی کا روپ دھارنا ہوگا۔ جب تک بچی کے دل میں یہ یقین راسخ نہیں ہوگا کہ اس کے والدین اس کے سب سے بڑے خیر خواہ ہیں، وہ ان کی کسی علمی یا دینی بات کو دل سے قبول نہیں کرے گی۔ اس کے مسائل کو توجہ سے سنیں، اس کی الجھنوں کا مذاق اڑانے کے بجائے انہیں سنجیدگی سے حل کریں، اور گھر کے ماحول کو اتنا پرسکون اور محبت آمیز بنائیں کہ وہ باہر کے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے گھر کو اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ سمجھے۔
تعلق مع اللہ اور محبتِ رسولؐ کی آبیاری
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت پیدا کرنے کے لیے روایتی ڈرانے دھمکانے والے اسلوب کے بجائے اللہ کی رحمت، اس کے احسانات اور اس کی بے پناہ محبت کا تذکرہ کثرت سے کیا جائے۔ بچی کو کائنات کے نظام اور اس میں موجود ربانی حکمتوں پر غور و فکر کی عادت ڈلوائی جائے؛ تاکہ اس کے اندر اللہ کی عظمت کا شعور بیدار ہو۔ نبئ کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت کے لیے سیرتِ طیبہ کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسی کتابوں اور تحریروں کا انتخاب کریں جو جدید اور آسان اسلوب میں لکھی گئی ہوں، جن میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو صرف ایک تاریخی سلسلۂ واقعات کے طور پر نہیں، بلکہ ایک شفیق، رحیم اور آئیڈیل شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہو۔ جب وہ آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ اور بچوں و جوانوں پر آپ ﷺ کی شفقت کے واقعات پڑھے گی، تو اس کے دل میں آپ ﷺ کی پیروی کا شوق خود بخود پیدا ہوگا۔
حیا، پاکدامنی اور صالحات کا اسوہ
موجودہ دور کا میڈیا اور تعلیمی ماحول حیا کے تصور کو ایک بوجھ یا پرانی سوچ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بچی کے اندر حیا کو ایک وقار، اعزاز اور مومنہ عورت کا اصل حسن بناکر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے امہات المؤمنین، صحابیات اور تاریخِ اسلام کی عظیم خواتین کی زندگیوں سے روشناس کروایا جائے۔ جب وہ حضرت عائشہؓ کی علمی جلالت، حضرت فاطمہؓ کی حیا اور حضرت خدیجہؓ کی ثبات قدمی وغیرہ کے قصے سنے گی، تو اس کے اندر ان پاکباز ہستیوں جیسا بننے کی امنگ جاگے گی۔ حیا کے موضوع پر اسے ایسی کتابیں اور آڈیو - ویڈیو لیکچرز فراہم کیے جائیں جو جدید نفسیاتی اور عقلی دلائل کے ساتھ حجاب اور پاکدامنی کی اہمیت کو ثابت کرتے ہوں؛ تاکہ وہ احساسِ کمتری کا شکار ہونے کے بجائے اپنے دین پر فخر کر سکے۔
دینی و عصری تعلیم میں خوبصورت توازن
عصری تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے دین کا ذوق پیدا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دین اور دنیا کو دو الگ خانوں میں تقسیم نہ کیا جائے۔ اسے یہ باور کروایا جائے کہ ایک بہترین مسلم لڑکی اپنی عصری تعلیم میں بھی اعلیٰ کارکردگی دکھاکر دین اور امت کی خدمت کرسکتی ہے۔ روزمرہ کے معمولات میں سے صرف بیس سے تیس منٹ کا وقت قرآن مجید کے آسان ترجمے اور فہم کے لیے مخصوص کیا جائے۔ آج کل بہت سے معتبر اور مستند دینی ادارے نوجوان لڑکیوں کے لیے آن لائن اور آف لائن مختصر، دلچسپ اور فکری کورسز کرواتے ہیں، جہاں عقائد، اخلاق اور تاریخ کو جدید اسلوب میں سکھایا جاتا ہے۔ اُسے ایسی کسی مثبت سرگرمی یا سمر کیمپ وغیرہ کا حصہ بنانا اس کے علمی ذوق کو جلا بخشے گا۔
اخلاقی تربیت اور جذبات پر قابو
اس عمر میں ہارمونل تبدیلیوں کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑاپن اور غصہ آنا ایک فطری امر ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے اسے حدیثِ رسول ﷺ کی روشنی میں غصہ پی جانے کی فضیلت اور نفسیاتی فوائد پیار سے سمجھائے جائیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ خود والدین کو اس کے سامنے صبر، تحمل اور عفو و درگزر کا عملی نمونہ بننا ہوگا؛ کیونکہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ جب وہ گھر کے بڑوں کو غصے کے لمحات میں پرسکون اور حکمت سے کام لیتے ہوئے دیکھے گی، تو وہ شعوری اور لاشعوری طور پر اسی رویے کو اپنائے گی۔ بڑوں کے احترام کا جذبہ بھی اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ خود اپنے والدین کو اپنے سے بڑوں کی عزت کرتے ہوئے دیکھتی ہے۔
عبادات کا اہتمام اور صالح صحبت کا انتخاب
نماز اور دیگر عبادات کی پابندی کے لیے زیادہ سختی یا زبردستی کے بجائے ترغیب اور ماحول کی فراہمی کا طریقہ آزمائیں۔ گھر میں نماز کا ایک اجتماعی وقت مقرر ہو جہاں ماں اور بیٹی مل کر مصلے پر بیٹھیں۔ نماز کے بعد گریہ و زاری اور دعاؤں کا جو منظر وہ دیکھے گی، وہ اس کے دل پر گہرا اثر چھوڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، اس کی سہیلیوں کے حلقے پر گہری مگر خاموش نظر رکھیں۔ اسے ایسے ماحول اور ایسی سہیلیوں کے قریب ہونے کے مواقع فراہم کریں جو خود اچھے اخلاق اور دینی رجحان رکھتی ہوں۔ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا اور بگڑتا و سنورتا ہے، اس لیے نیک اور مثبت سوچ رکھنے والی سہیلیوں کی ہم نشینی اس کے قدموں کو دین کی راہ پر مضبوطی سے جمائے رکھے گی۔
تربیت ایک رات کا کام نہیں ہے، بلکہ ایک مسلسل، صبر طلب اور طویل سفر ہے جس میں مستقل مزاجی اور اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعا کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کی مخلصانہ کوشش اور حکمتِ عملی ان شاء اللہ اس بچی کو امت کا ایک روشن چراغ بنا دے گی۔

0 تبصرے