نکاح سے پہلے طلاقِ معلق جیسے حساس معاملہ میں، ایک حنفی کے لیے دوسرے فقہی مذاہب سے استفادے کی حدود کیا ہیں؟

     اگر کسی مسئلے میں اپنے مسلک کے مطابق عمل کرنا مشکل ہو، اور جس شخص کو یہ مشکل درپیش ہو وہ کسی معتبر مفتی صاحب کے سامنے اپنا مسئلہ رکھے، اور وہ مفتی صاحب دوسرے مسلک سے استفادہ کی گنجائش دیں، تو کیا محض ایک معتبر مفتی صاحب کے کہنے پر دوسرے مسلک سے استفادہ کرنا درست ہے، یا اس مسئلے میں ایک سے زیادہ مفتیانِ کرام سے دریافت کرنا چاہیے؟

     اور اگر مسئلہ شادی سے پہلے طلاقِ معلّق کا ہو، تو کیا ایک مفتی صاحب کے کہنے پر عمل کافی ہوگا، یا پھر دوسرے حضرات سے بھی دریافت کرنا ضروری ہوگا؟


لکڑی کی میز پر بیٹھے چار افراد کا منظر۔ دائیں طرف تین بزرگ اور تجربہ کار مفتیانِ کرام (بڑی عمر والے) اپنی سفید داڑھیوں، روایتی جبوں اور عماموں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ ان کے چہرے، نین نقش اور آنکھیں بالکل صاف اور غیر واضح ہیں تاکہ جاندار کی واضح شبیہ ممنوعہ نہ لگے۔ وہ میز پر کھلی کتابوں، رحل اور ترازو کی طرف اشارہ کر کے بحث کر رہے ہیں۔ بائیں طرف ایک نوجوان سائل (جس کی داڑھی سیاہ ہے) سفید لباس میں بیٹھا، گہری تشویش اور فکر کے ساتھ ان کی گفتگو سن رہا ہے، جوانی کی عمر میں طلاقِ معلق کے مسئلے کی وجہ سے۔ میز پر جلتی ہوئی لالٹین، ترازو اور ایک لپٹا ہوا پروانہ (مہر لگا ہوا) رکھا ہے۔ پس منظر میں کتابوں سے بھری الماریاں اور ایک کھڑکی ہے جس سے رات کا آسمان، ہلال اور ستارے نظر آرہے ہیں۔
نوجوان سائل اور بزرگ مفتیانِ کرام کی گہری مشاورت کا ایک منظر۔

     وسعت اور آسانی کا لحاظ بے شک بڑے اہم مقاصد میں سے ہے، لیکن اس وسعت کو نفسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بننے سے روکنا بھی بہت ہی اہم اور ضروری ہے۔ آپ کا یہ سوال عصرِ حاضر کے انتہائی اہم اور نازک معاملات سے تعلق رکھتا ہے، جن میں تقلیدِ شخصی، خروج عن المذہب (اپنے فقہی مذہب کو چھوڑ کر دوسرے پر عمل کرنا)، اور فروج (نکاح و طلاق) جیسے حساس ابواب یکجا ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے درست طرزِ فکر و عمل کو، امید ہے کہ درج ذیل باتوں کی روشنی میں واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

عزیمت، رخصت اور دوسرے مسلک پر عمل کا عمومی اصول 

     ایک عامی (شریعت کے تفصیلی احکام سے ناواقف شخص) کے لیے عام حالات میں تو اپنے امامِ وقت کی تقلید ہی ضروری ہے؛ تاکہ دین میں انتشار اور "تتبعِ رُخَص" (خواہشِ نفس کے لیے مختلف فقہی مذاہب کی آسانیاں تلاش کرنا) کا دروازہ بند رہے۔ تاہم، اگر کسی مسلمان کو اپنی زندگی میں کوئی ایسی شدید مشقت اور حرجِ عظیم درپیش ہوجائے جس کی وجہ سے اپنے فقہی مذہب پر عمل کرنا اس کے لیے ناممکن یا شدید ترین نقصان کا باعث بن رہا ہو، تو بوقتِ ضرورتِ شدیدہ دوسرے فقہی مذہب کے معتبر اور مستند قول سے احتیاط و اعتدال کے ساتھ استفادہ کرنے کی گنجائش بھی ہوسکتی ہے۔

     شدید ضرورت اور حرج کے وقت دوسرے فقہی مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہوتی ہے، بشرطیکہ یہ عمل محض تفریحِ طبع یا دین کو کھیل بنانے کے لیے نہ ہو، بلکہ سچی مجبوری کے تحت ہو۔ اس رخصت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان خود اپنے فہم سے یہ فیصلہ نہ کرے، بلکہ کسی ماہرِ افتاء کی طرف ضرور بالضرور رجوع کرے۔

ایک مفتی صاحب کے قول کی حیثیت

     جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کیا محض ایک معتبر مفتی صاحب کا کہہ دینا ہی دوسرے فقہی مذہب پر عمل کے لیے کافی ہے، تو اس کا مدار مفتی صاحب کی علمی ثقاہت، تقویٰ اور بصیرت پر ہے۔ اخبارِ دیانات (دینی معاملات کی خبر دینے) میں ایک عادل اور ثقہ مسلمان کی بات قابلِ قبول ہوتی ہے۔ ایک عامی کا فقہی مذہب وہی ہوتا ہے جو اس کے شہر یا علاقے کے معتبر مفتی صاحب اسے بتاتے ہیں۔

     چنانچہ، اگر وہ مفتی صاحب محض ایک ناقل مفتی نہیں ہیں، بلکہ وہ "مفتئ مجتہد" یا کم از کم عصرِ حاضر کے نازک فقہی معاملات (جیسے خروج عن المذہب اور تلفیق وغیرہ) پر گہری نظر رکھنے والے صاحبِ بصیرت فقیہ ہیں، اور انہوں نے مثلاً حنفی سائل کے احوال و ظروف کا گہرا جائزہ لے کر، کسی ذاتی میلان کے بغیر، خالصتاً شرعی ضرورت کے تحت دوسرے فقہی مذہب (مثلاً مالکی یا شافعی یا حنبلی) کے قول پر عمل کی اجازت دی ہے، تو دیانتاً ایک مفتی صاحب کا قول بھی سائل کے لیے حجت اور کافی ہوسکتا ہے۔ امید ہے کہ سائل اس پر عمل کرکے گناہ گار نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس نے اپنے دائرۂ کار میں اہل الذکر سے رجوع کا شرعی فریضہ پورا کر دیا۔

شادی سے پہلے طلاقِ معلق کی نوعیت اور فقہی تنوع

     اب آتے ہیں آپ کے مخصوص اور حساس ترین جزئیے کی طرف، یعنی "شادی سے پہلے طلاقِ معلق"۔ یہ مسئلہ فقہِ اسلامی کے معرکۃ الآراء مسائل میں سے ہے۔ حنفیہ کے ہاں اگر کوئی شخص کسی اجنبی عورت سے کہے کہ "اگر میں تم سے نکاح کروں تو تمہیں طلاق ہے"، تو نکاح کرتے ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ حنفیہ کے نزدیک طلاق کی اضافت ملکِ مستقبل (آئندہ کی ملکیت) کی طرف صحیح ہے۔ اس کے برعکس، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کے نزدیک یہ طلاق لغو اور باطل ہے، کیونکہ طلاق دینے والا فی الحال اس عورت کا مالک نہیں ہے اور نہ ہی نکاح کا رشتہ قائم ہے۔

     چونکہ طلاقِ معلق کا یہ مسئلہ بسا اوقات انسان کی پوری ازدواجی زندگی کو داؤ پر لگا دیتا ہے، مثلاً کسی نے نادانی میں یہ الفاظ کہہ دیے اور اب وہ اسی عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے ورنہ دونوں کی زندگیاں تباہ ہوجانے کا اندیشہ ہے، تو اِس قسم کی صورتِ حال بعض اوقات "حرجِ عظیم" کے زمرے میں آسکتی ہے، جس میں دوسرے فقہی مذہب کے قول پر عمل کی گنجائش نکل سکتی ہے۔

نکاح و طلاق میں احتیاط کا تقاضا اور مناسب حل

     اگرچہ اصولی طور پر ایک معتبر مفتی صاحب کا فتویٰ عمل کے لیے کافی ہوسکتا ہے، لیکن نکاح اور طلاق کا معاملہ دیگر عام امور جیسا نہیں ہے۔ فروج اور حلت و حرمت کے معاملات میں اصل احتیاط ہے۔ جب معاملہ ایک ایسے رشتے کا ہو جس پر نسلِ انسانی کا تحفظ اور حلال و حرام کا مدار ہے، تو وہاں محض ایک مفتی صاحب کے انفرادی فتوے پر تکیہ کرلینا، اگرچہ رخصت کے دائرے میں آسکتا ہے، لیکن احتیاط، تقویٰ اور اطمینانِ قلب کے اصولوں کے خلاف ہے۔

     شادی سے پہلے طلاقِ معلق جیسے سنگین معاملے میں، جہاں حنفی مذہب کو چھوڑ کر شافعی اور حنبلی مذہب کو اختیار کیا جارہا ہو، موزوں طرزِ عمل یہ ہے کہ سائل کو صرف ایک مفتی صاحب کے جواب پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے حساس ترین معاملے میں ملک کے بڑے اور مستند دار الافتاؤں (جہاں مفتیانِ کرام کی کمیٹی اور بورڈ وغیرہ موجود ہو) سے اجتماعی فتویٰ حاصل کرنا چاہیے۔

     جب تک کم از کم دو یا تین جید، صاحبِ تقویٰ اور بالغ نظر مفتیانِ کرام یا معتبر دینی ادارے متفقہ طور پر اس بات کی تصدیق نہ کردیں کہ سائل کی حالت واقعی ایسی ہے کہ دوسرے فقہی مذہب کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش دی جاسکتی ہے، تب تک قدم آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔ اس اجتماعی توثیق کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ سائل کا دل پوری طرح مطمئن ہو جائے گا، کل کو اس کے دل میں کوئی وسوسہ یا شک پیدا نہیں ہوگا کہ اس کا نکاح حلال ہے یا نہیں، نیز دین کے احکام میں کسی قسم کے تساہل (سستی) کا شائبہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ لہذا، طلاقِ معلق کے معاملے میں دوسرے حضرات سے بھی دریافت کرنا اور اجتماعی رائے پر عمل کرنا ہی بہتر طریقہ اور تقوی و احتیاط سے زیادہ قریب ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے