(مسئلہ):
(رہنمائی):
شیئر مارکیٹ کے ذریعے چاندی کی خرید و فروخت کی جو صورت آپ نے بیان کی ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چاندی سونے اور نقدی کی خرید و فروخت، جو "بیعِ صَرف" کہلاتی ہے، اس کے معاملے میں کچھ بنیادی شرائط مقرر ہیں، جن کی آپ کی بیان کی ہوئی صورت میں رعایت نہیں ہورہی ہے۔
حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان مبارک ہے: "الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلاً بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، فَقَدْ أَرْبَى. الآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ." [مسلم شریف: 1584] (ترجمہ: سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، اور نمک نمک کے بدلے (تبادلہ کرو) تو برابر برابر اور دست بدست (یعنی فوراً ایک دوسرے کے حوالے کرکے)۔ پس جس نے زیادہ لیا یا (جس سے) زیادہ لیا گیا، تو اس نے سود لیا۔ لینے والا اور دینے والا (دونوں) اس میں برابر (یعنی گنہگار) ہیں۔) یہ حدیث مبارکہ کئی صحابہ کرام سے متعدد کتبِ حدیث میں منقول ہے اور اس حدیث کے کئی طرق (اسانید) صحیح مسلم میں موجود ہیں، جن میں سے ایک کا حوالہ یہاں دیا گیا ہے۔ اس حدیث کے مطابق جب اِن چھ قسم کی اشیاء (سونا، چاندی، گیہوں، جو، کھجور، نمک) کا آپس میں تبادلہ ہو تو اُن کی مقدار میں برابری ہونی چاہیے، یعنی وزن اور ناپ تول میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں ہونا چاہیے، ورنہ سود ہوگا۔ پھر دونوں فریق کو سودے کے وقت فوراً چیزیں حوالے کرنی ہوں گی، کسی ایک فریق کو بھی تاخیر کرنے کا اختیار نہیں، ورنہ یہ بھی سود ہوگا۔ لیکن اگر جنس مختلف ہوجائے (مثلاً سونا درہم کے بدلے، جو کہ چاندی کا ہوتا ہے) تو اب اگرچہ برابری کی شرط نہیں، لیکن فوری قبضہ اب بھی لازم ہے، ورنہ یہ بھی سود ہوگا۔ اور اِس قسم کے معاملے میں لینے والا اور دینے والا دونوں اس ناجائز لین دین میں برابر کے گنہگار ہوں گے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ حدیث "بیع صرف" کے اصولوں کی بنیاد ہے اور یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ سونے چاندی اور نقدی کا لین دین فوری ہونا چاہیے، اور دونوں فریقین کو اپنا حصہ فوری طور پر حاصل ہو جانا چاہیے۔
آپ کے سوال میں جو صورت بیان کی گئی ہے، اس میں خریدار کو چاندی کا حقیقی قبضہ نہیں ملتا، بلکہ وہ کاغذوں پر یا کمپیوٹر کے اعداد و شمار میں اس کا مالک بنتا ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے "قبضہ" کا مطلب یہ ہے کہ مال کی تحویل اس طرح مکمل ہو جائے کہ مالک اس پر مکمل تصرف کر سکے۔ جب چاندی ڈیلر کے پاس ہی محفوظ رہتی ہے اور خریدار اسے اپنے گھر نہیں لے جا سکتا، تو یہ حقیقی قبضے کی تعریف میں نہیں آتا۔
اسلام نے یہ احکام کوئی عام مقصد کے لیے نہیں بلکہ انسانی فطرت اور معاشی نظام کی حفاظت کے لیے دیے ہیں۔ جب ہم سونے چاندی اور نقدی کا حقیقی قبضہ لے کر معاملہ کرتے ہیں، تو یہ حقیقی تجارت ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ معاملہ محض کاغذی ہو جائے، تو یہ سٹہ بازی کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو دولت کی حقیقی گردش کے بجائے مصنوعی اتار چڑھاؤ پیدا کرتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: "وأحل اللہ البیع وحرم الربا" [سورۃ البقرہ: ۲۷۵] (ترجمہ: اللہ نے خرید و فروخت حلال کی اور سود حرام کیا۔) یہ آیت بتاتی ہے کہ حقیقی خرید و فروخت اور سودی معاملات میں واضح فرق ہے۔ جب ہم کسی چیز کو بغیر قبضے کے خریدتے اور بیچتے ہیں، تو یہ حقیقی تجارت کے بجائے مالی چالبازی بن جاتی ہے۔
اگر آپ واقعی چاندی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی قابل اعتماد جیولری شاپ یا معدنی دھاتوں کے ڈیلر سے چاندی خرید کر اسے اپنے قبضے میں لے آئیں۔ اس طرح آپ کا معاملہ مکمل طور پر شرعی ہوگا اور آپ کو حقیقی ملکیت بھی حاصل ہوگی۔ ہاں، اگر کوئی کمپنی یہ سہولت فراہم کرتی ہو کہ وہ آپ کی خریدی گئی چاندی کو الگ کر کے محفوظ رکھے اور آپ جب چاہیں تو آپ کو ڈلیوری دے سکے، تو یہ صورت قابل غور ہو سکتی ہے، بشرطیکہ آپ کو واضح ملکیت اور حقیقی قبضے کا حق حاصل ہو۔ ورنہ تو اگر شیئر مارکیٹ میں چاندی کی خرید و فروخت کے دوران حقیقی قبضہ نہیں دیا جاتا اور سودا صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر نفع نقصان تک محدود رہتا ہے، تو یہ صورت شرعاً درست نہیں ہوگی۔
یاد رکھیں کہ شریعت کے یہ احکام ہماری بھلائی اور معاشی استحکام کے لیے ہیں، اور جو کام شرعی حدود کے اندر رہ کر کیا جائے، اس میں برکت بھی ہوتی ہے اور اطمینان بھی۔ (واللہ اعلم)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں