(مسئلہ):
(رہنمائی):
یہ ایک
بہت اہم اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے کئی پہلو ہیں۔ جواب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے
کہ معاملے کی جڑ کہاں ہے اور اسلام کی حکیمانہ تعلیمات اس بارے میں کیا رہنمائی
فراہم کرتی ہیں۔
جب ہم سوال
میں بتائی گئی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو پہلی نظر میں لگتا ہے کہ یہ صرف ایک عام
کرایہ داری کا معاملہ ہے، لیکن حقیقت میں یہاں ایک گہرا شرعی مسئلہ چھپا ہوا ہے۔
صاحب A اور
صاحب B کے
درمیان جو "ہیوی ڈپازٹ" کا معاہدہ ہوا ہے، یہ اصل میں ایک سودی لین دین
ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب B نے ایک
بڑی رقم بطور ڈپازٹ دی ہے اور اس کے بدلے میں انہیں یہ فائدہ حاصل ہو رہا ہے کہ
کرایہ یا تو بالکل معاف ہے یا بہت کم ہے۔
ڈپازٹ
دراصل مالک مکان کے پاس ایک قرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور جب کوئی شخص قرض دے کر اس
کے بدلے میں کوئی اضافی فائدہ حاصل کرے تو یہ سود بن جاتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ
علیہ و سلم) ارشاد مبارک ہے: " كل
قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا". [السنن
الکبریٰ للبیھقی: ۱۰۹۳۳] (ترجمہ: ہر وہ قرض جو
کوئی نفع کھینچے، وہ سود کی ہی ایک شکل ہے۔) فقہ حنفی کی مشہور کتاب "رد المحتار" میں ہے: "( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان
مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر". [کتاب البیوع، فصل فی
القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام.] (ترجمہ: ہر وہ قرض جو کوئی نفع کھینچے، حرام ہے۔
یعنی اُس وقت جب کہ وہ نفع مشروط ہو، جیسا کہ اُس بات سے معلوم ہوا جو اُنھوں نے "البحر"
سے نقل کی ہے۔)
اور سود
صرف ایک مالی لین دین نہیں بلکہ معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والا ایک روحانی
زہر ہے۔ جب کوئی شخص سودی معاملے میں ملوث ہوتا ہے تو وہ صرف مالی نقصان نہیں
اٹھاتا بلکہ اس کی روحانی حالت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں
سود کھانے والوں کے بارے میں فرمایا: "الَّذِينَ
يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ
الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ" [سورۃ البقرۃ: ۲۷۵] (ترجمہ:
جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ اس طرح کھڑے ہوتے ہیں جیسے کسی کو شیطان نے چھو کر
دیوانہ بنا دیا ہو۔) اس آیت مبارکہ میں سود کھانے
والے کی مثال پاگل آدمی سے دی گئی ہے کیونکہ جس طرح پاگل آدمی اپنے اعمال میں
توازن کھو دیتا ہے، اسی طرح سود خور بھی اپنی زندگی میں توازن کھو دیتا ہے۔ وہ
ہمیشہ دولت کی بھاگ دوڑ میں رہتا ہے اور کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔
اب
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب صاحب A اور
صاحب B کا
معاملہ سودی ہے تو کیا صاحب C اس میں
شامل ہو سکتے ہیں؟ شرعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو صاحب C کا
صاحب B سے یہ
معاملہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ صاحب B کا
اس گھر پر قبضہ ایک غلط معاہدے کی بنیاد پر ہے۔ اور جب کوئی عقد درست نہ ہو تو اس
کے نتیجے میں جو حقوق پیدا ہوتے ہیں، وہ بھی مشکوک ہو جاتے ہیں۔ نیز یہ ایک مسلم
اصول ہے کہ فاسد عقد کو ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ اگر صاحب C، صاحب B کو
کرایہ ادا کرتے ہیں تو وہ دراصل اس سودی نظام کو برقرار رکھنے میں مدد کر رہے ہیں۔
جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف طور پر فرمایا ہے: "وَلَا
تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" [سورۃ المائدۃ: ۲] (ترجمہ:
گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ غلط کام میں کسی کا ساتھ دینا خود بھی گناہ ہے۔
اِس کے
علاوہ اس معاملے میں قانونی پیچیدگیاں بھی موجود ہیں۔ عام ملکی قانون کے مطابق
کرایہ دار اگرچہ اپنے کرایے کے مکان کو آگے
کسی اور کو کرایے پر دے سکتا ہے، لیکن اس کے لیے اصل مالکِ مکان
کی واضح طور پر رضامندی شرط ہے۔ آپ اس قانون کے بارے میں اِس ویبسائٹ https://legaleye.co.in/blog_news/subletting-rules-under-rent-laws-in-india/ پر جاکر پڑھ سکتے ہیں۔ عملی طور پر دیکھا جائے تو اگر صاحب C کا
صاحب B سے
معاملہ ہو اور بعد میں اصل مالک (صاحب A) کو اعتراض ہو تو وہ عدالت جا سکتے ہیں اور
اس صورت میں صاحب C کی
پوزیشن بہت کمزور ہوگی کیونکہ ان کا معاہدہ اصل مالک کے ساتھ نہیں ہے۔ نتیجہ یہ
ہوگا کہ انہیں نہ صرف گھر چھوڑنا پڑے گا بلکہ جو رقم انہوں نے ادا کی ہے، وہ بھی
ضائع ہو سکتی ہے۔
لہٰذا جب
کوئی معاملہ پیچیدہ ہو تو سب سے صاف اور سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس
صورتحال میں بہترین حل یہ ہے کہ صاحب C براہ
راست مالک مکان (صاحب A) سے رابطہ کریں۔ اگر صاحب A واقعی گھر کرائے پر دینا چاہتے ہیں تو وہ
صاحب B کا
"ہیوی ڈپازٹ" واپس کر کے انہیں گھر خالی کرنے کو کہہ سکتے ہیں۔ اس کے
بعد صاحب A اور
صاحب C کے
درمیان ایک نیا، صاف شفاف اور شرعی اصولوں کے مطابق معاہدہ ہو سکتا ہے۔ اس طریقے
سے تمام فریقین کو فائدہ ہوگا۔ صاحب A سودی لین
دین کے معاملے سے بچ جائیں گے۔ صاحب B کو
اپنا ڈپازٹ بھی واپس مل جائے گا۔ اور صاحب C کو
ایک حلال اور قانونی طریقے سے گھر مل جائے گا جس میں کوئی شرعی یا قانونی خرابی
نہیں ہوگی۔
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں