(سوال): ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...
(مسئلہ):
ہمارے علاقے میں ایک مدرسہ قائم ہے جس میں تقریباً 125 یتیم اور نادار بچے مقیم (Hostel) ہیں اور وہیں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میرے مرحوم شوہر اپنی زندگی میں سال بھر اس مدرسے کی بھرپور مالی مدد کرتے تھے، جس میں بچوں کے لیے چاول، راشن اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی شامل تھی۔ وہ قربانی کا گوشت بھی ان بچوں کے لیے بھجوایا کرتے تھے تاکہ ان کی خوراک کا بہتر انتظام ہو سکے۔
اب میں بھی اپنے شوہر کی اس روایت کو زندہ رکھنا چاہتی ہوں اور ان بچوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میں اپنی زکات کی رقم سے ان یتیم اور مستحق بچوں کے لیے چاول اور کھانے پینے کا دیگر سامان خرید کر مدرسے میں دے سکتی ہوں؟ کیا زکات کے پیسوں سے ان بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا شرعاً جائز ہے؟ اگر زکات سے یہ عمل درست نہیں ہے، تو کیا میں اسے عام (نفلی) صدقہ کی رقم سے کروں؟ چونکہ رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے والا ہے، اس لیے میں چاہتی ہوں کہ جلد از جلد یہ سامان مدرسے پہنچا دیا جائے۔
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
زکات کی ادائیگی کا اصل مقصد معاشرے کے نادار اور مستحق افراد کی بنیادی ضروریات کو اس طرح پورا کرنا ہے کہ وہ اس مال کے مکمل مالک بن جائیں۔ یتیم اور نادار بچوں کی کفالت کرنے والے مدارس، جہاں بچے مقیم ہوتے ہیں اور وہیں ان کے کھانے پینے کا انتظام ہوتا ہے، وہاں زکات کی رقم صرف کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ اجر و ثواب کے لحاظ سے ایک بہترین عمل ہے۔ چونکہ یہ بچے عموماً مستحقِ زکات ہوتے ہیں، اس لیے ان کے لیے راشن، چاول اور دیگر خورد و نوش کی اشیاء خرید کر مدرسے کے ذمہ داران کے حوالے کرنا درست ہے، بشرطیکہ وہ مدرسہ ان اشیاء کو براہِ راست ان مستحق بچوں کی خوراک اور ضرورت پر صرف کرے۔ جب یہ بچے وہ کھانا تناول کرتے ہیں، تو تملیک کی شرط عملاً پوری ہو جاتی ہے اور دینے والے کی زکات ادا ہو جاتی ہے۔
آپ کا اپنے مرحوم شوہر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان بچوں کی مدد کا جذبہ ایک عظیم صدقۂ جاریہ ہے، جو آپ کے شوہر کے لیے قبر میں راحت اور درجات کی بلندی کا سبب بنے گا۔ یہاں یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ اگرچہ زکات سے ان بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا درست ہے، لیکن اگر آپ کے پاس گنجائش ہو تو آپ اپنی زکات کی رقم کے علاوہ کچھ حصہ نفلی صدقات سے بھی شامل کریں۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ نفلی صدقہ ہر قسم کی شرعی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے اور اسے مدرسے کے ان انتظامی کاموں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں زکات کی رقم صرف کرنا ممکن نہیں ہوتا، جیسے کہ بجلی کے بل یا دیگر عمومی اخراجات۔ تاہم، اگر آپ خالصتاً بچوں کے کھانے (راشن) کے لیے ہی زکات دے رہی ہیں، تو اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں ہے اور آپ کا یہ عمل ان شاء اللہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوگا۔
رمضان المبارک کے آخری ایام میں اس کارِ خیر میں جلدی کرنا سنتِ نبویؐ کے عین مطابق ہے، کیونکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آخری عشرے میں جود و سخا کی انتہا کر دیا کرتے تھے۔ ان یتیم بچوں کے چہروں پر آنے والی مسکراہٹ اور ان کے پیٹ میں جانے والا ایک ایک لقمہ نہ صرف زکات کی فرضیت کو پورا کرے گا بلکہ آپ کے لیے دنیا و آخرت میں برکتوں کا ضامن بنے گا۔ آپ کو چاہیے کہ آپ اطمینانِ قلب کے ساتھ یہ سامان مدرسے پہنچا دیں، البتہ اگر آپ مدرسہ کے ذمہ دار کو یہ صراحت کر دیں کہ یہ زکات کی رقم سے خریدا گیا سامان ہے، تو یہ احتیاط کے لحاظ سے مزید بہتر ہوگا تاکہ وہ اسے صرف مستحق بچوں کے استعمال میں ہی لائیں۔ یہ عمل آپ کے شوہر کی طرف سے ایک بہترین ایصالِ ثواب ثابت ہوگا جو ان کے جانے کے بعد بھی ان کے نامۂ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ کرتا رہے گا۔
(واللہ اعلم بالصواب)
=============================================
=============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں