(سوال): ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...
(مسئلہ):
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت الاستاذ (زید مجدکم)! اللہ کے فضل و کرم سے اس سال دوبارہ مدرسے میں "تفسیر الجلالین" کا وہ حصہ جو سورہ یونس سے شروع ہو کر سورہ عنکبوت پر ختم ہوتا ہے، بندہ کے سپرد کیا گیا ہے۔ تدریس کے اس سفر کے حوالے سے آپ کی خصوصی علمی رہنمائی اور دعاؤں کی درخواست ہے۔
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ماشاءاللہ، یہ نہایت مبارک اور سعادت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوبارہ اپنی کتاب کی خدمت اور "تفسیر الجلالین" جیسے وقیع فن کی تدریس کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ سورۂ یونس سے سورۂ عنکبوت تک کا حصہ مضامین کے اعتبار سے انتہائی متنوع اور سبق آموز ہے، جس میں توحید، رسالت، قصص الانبیاء اور صبر و استقامت کے ایسے پہلو موجود ہیں جو طالب علم کے علمی ذوق کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی تربیت کا بھی بہترین ذریعہ بنتے ہیں۔ اس عظیم ذمہ داری پر دلی مبارکباد قبول فرمائیں اور دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کی زبان میں تاثیر، ذہن میں جلا اور وقت میں برکت عطا فرمائے تاکہ آپ کماحقہ اس امانت کو اگلی نسل تک منتقل کر سکیں۔
تفسیر الجلالین اپنی جامعیت اور اختصار کی وجہ سے ممتاز ہے، جہاں ایک ایک حرف کے نیچے معنی کے سمندر پوشیدہ ہوتے ہیں۔ تدریس کے دوران آپ کا اصل کمال یہ ہوگا کہ عبارت کی اس گرہ کو اس طرح کھولیں کہ طالب علم جلالین کے مخصوص اسلوب، یعنی لغوی و نحوی ترجیحات اور ایجازِ مخل سے بچتے ہوئے مرادِ الٰہی کو سمجھ سکے۔ چونکہ یہ حصہ سورۂ یونس سے شروع ہو کر سورۂ عنکبوت پر ختم ہوتا ہے، اس لیے آپ کو انبیاء کرام کے تذکروں میں "تفسیر بالماثور" اور "تفسیر بالرائے" کے درمیان ایک حسین توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ خاص طور پر سورۂ یوسف کی فصاحت، سورۂ بنی اسرائیل کے احکام اور سورۂ کہف کے فکری فتنوں کی وضاحت کرتے ہوئے اگر آپ مستند تفسیری حواشی کے ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو بھی پیشِ نظر رکھیں گے، تو یہ تدریس محض ایک سبق نہیں، بلکہ ایک فکری انقلاب بن جائے گی۔
ایک کامیاب مدرس کے طور پر آپ کے لیے یہ بات بھی مفید رہے گی کہ جلالین کی عبارت میں جہاں دونوں ائمہ (امام جلال الدین محلی اور امام جلال الدین سیوطی) کے اسلوب میں فرق آتا ہے، وہاں طلبہ کی توجہ مبذول کرائیں۔ تدریس کا ایک موثر طریقہ یہ ہے کہ پہلے قرآنی متن کا لغوی ربط واضح کیا جائے، پھر جلالین کے وہ مخصوص اضافے جو انہوں نے اعراب کی وضاحت یا کسی مقدر عبارت کو نکالنے کے لیے کیے ہیں، انہیں نمایاں کیا جائے۔ بلاغت کے نکات اور کلامِ عرب کے اسالیب کا تذکرہ آپ کے درس کو دیگر روایتی دروس سے ممتاز بنا دے گا۔ یہ انداز نہ صرف طلبہ کو عبارت فہمی میں ماہر بنائے گا، بلکہ ان کے اندر قرآن فہمی کا ایک نیا ولولہ بھی پیدا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اس تدریسی سفر کو قبول فرمائے اور اسے آپ کے لیے توشۂ آخرت بنائے۔ آمین۔
(واللہ اعلم بالصواب)
=============================================
=============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں