(سوال): ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...
(مسئلہ):
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک خاتون کے ایامِ حیض (Menstrual Cycle) کی تفصیلات درج ذیل ہیں، جس کے بارے میں شرعی حکم مطلوب ہے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2025ء سے قبل بیماری کی وجہ سے انہیں تقریباً دو سے تین ماہ تک خون نہیں آیا تھا۔ اب حالیہ مہینوں کی تفصیل یہ ہے:
- 15 دسمبر 2025 کو شام 4:30 بجے سے، 21 دسمبر تک۔ یعنی تقریباً 6 دن۔
- جنوری 2026 : خون نہیں آیا، مکمل طہر۔
- 6 فروری 2026 کو رات 2:00 بجے سے، 15 فروری کی صبح تک۔ یعنی تقریباً 9 دن۔
- 15 مارچ 2026 کو شام 5:30 بجے سے، 24 مارچ تک۔ یعنی 9 دن
- آج 30 مارچ کو صبح 10:00 بجے جاری ہے .....
24 مارچ کو خون بند ہونے کے بعد، محض 7 دن کے وقفے سے آج (31 مارچ) دوبارہ خون آنا شروع ہو گیا ہے۔ کیا یہ نیا خون "حیض" شمار ہوگا یا اسے "استحاضہ" (بیماری کا خون) مانا جائے گا؟ نیز کیا سابقہ بیماری کی وجہ سے ایام کی اس تبدیلی کو "عادت کا بدلنا" تصور کیا جا سکتا ہے؟
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دو حیض کے درمیان طہرِ تام (پاکیزگی کا مکمل وقفہ) کم از کم 15 دن ہونا ضروری ہے۔ اگر دو خون کے درمیان 15 دن سے کم کا فاصلہ ہو، تو بعد والا خون حیض نہیں بلکہ استحاضہ (بیماری کا خون) کہلاتا ہے۔
آپ کی ذکر کردہ تفصیل کے مطابق خاتون کا پچھلا حیض 24 مارچ کو ختم ہوا تھا۔ آج 31 مارچ کو دوبارہ خون شروع ہو گیا ہے، یعنی درمیان میں صرف 7 دن کی پاکیزگی رہی۔چونکہ یہ وقفہ 15 دن سے کم ہے، اس لیے 31 مارچ سے شروع ہونے والا یہ خون حیض نہیں ہے۔ خاتون کے لیے یہ خون استحاضہ (بیماری) ہے، لہذا وہ اس دوران نمازیں ترک نہیں کریں گی، بلکہ ہر نماز کے وقت تازہ وضو کرکے اپنی عبادات جاری رکھیں گی۔
جہاں تک عادت بدلنے کا تعلق ہے، تو چونکہ یہ خون طہرِ تام (15 دن) سے پہلے آ گیا ہے، اس لیے اسے عادت کی تبدیلی نہیں، بلکہ بیماری کا تسلسل مانا جائے گا۔ جب کبھی 15 دن یا اس سے زیادہ پاکیزگی کے بعد خون آئے گا، تب ہی اسے حیض کے ضابطے میں دیکھا جائے گا۔
(واللہ اعلم بالصواب)
=============================================
=============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں