اگر کسی نے کہہ دیا کہ 'جب بھی نکاح کروں تو طلاق ہے'، تو اب کیا کیا جائے؟


(سوال):

    اگر کوئی شخص طلاق کو نکاح کے ساتھ معلق کر دے، یعنی اس طرح کے الفاظ کہے کہ "جب بھی میں نکاح کروں تو (میری اس بیوی کو) طلاق ہے"، تو ایسی صورت میں نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا نکاح منعقد ہوگا یا نہیں، اور اگر ہوگا تو طلاق کا کیا حکم ہوگا؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً ومصلیاً ومسلماً، أما بعد!
لکڑی کی ایک نفیس میز پر فقہِ اسلامی کا قدیم قلمی نسخہ کھلا ہوا ہے جس کے پاس پیتل کی دوات اور قلم رکھا ہے۔ پس منظر میں محرابوں سے چھنتی ہوئی سنہری دھوپ ایک پُرسکون علمی لائبریری کا منظر پیش کر رہی ہے۔
قدیم علمی ورثہ: فقہ اسلامی کے مطالعے سے پیچیدہ مسائل کا حل اور ہدایت کی روشنی
    نکاح ایک نہایت پاکیزہ اور مضبوط عہد ہے جس کی بنیاد سکون، مودت اور رحمت پر رکھی گئی ہے۔ تاہم، کلام کی حرمت اور الفاظ کی ذمہ داری کو بھی بہت اہمیت دی گئی ہے؛ تاکہ انسانی معاملات میں سنجیدگی برقرار رہے۔

    جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ "جب بھی میں نکاح کروں تو طلاق ہے"، تو یہ ایک قَسَم یا عہد بن جاتا ہے، جِسے علمی زبان میں "تعلیقِ طلاق" کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جب وہ شخص کسی بھی عورت سے نکاح کرے گا، تو نکاح کے ایجاب و قبول کے فوراً بعد وہ شرط پوری ہو جائے گی جو اس نے پہلے کہی تھی، اور اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی اور عورت پر عدت واجب نہیں ہوگی۔ یہاں یہ نکتہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ نکاح تو منعقد ہو جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی معلق کی ہوئی طلاق بھی پڑ جاتی ہے، جس کی وجہ سے رشتہ برقرار نہیں رہ پاتا۔ اگر کہنے والے نے "جب بھی" کے الفاظ استعمال کیے ہیں، تو یہ شرط تکرار کے ساتھ قائم رہتی ہے، یعنی وہ جتنی بار بھی نکاح کرے گا، ہر بار نکاح ہوتے ہی طلاق واقع ہوتی رہے گی، جو کہ ایک نہایت پیچیدہ صورتِ حال پیدا کر دیتی ہے۔

    ایسا دراصل اس لیے ہے تاکہ لوگ نکاح اور طلاق جیسے مقدس اور نازک معاملات کو کھیل تماشہ نہ بنائیں اور زبان سے الفاظ نکالنے سے پہلے ان کے نتائج پر غور کریں۔ طلاق کو، اسے مستقبل کے نکاح کی راہ میں رکاوٹ بنانے کے لیے، ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا فطرتِ سلیمہ کے خلاف ہے؛ کیونکہ یہ انسان کو حلال طریقے سے اپنی فطری ضرورت پوری کرنے سے روکنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس طرح کی صورتِ حال میں نکاح کی ظاہری شکل تو بنتی ہے لیکن وہ طلاق کے واقع ہونے کی وجہ سے فوری طور پر ختم ہو جاتا ہے، جس سے وہ مقصد حاصل نہیں ہو پاتا جو ایک ازدواجی زندگی کا اصل خاصہ ہے۔

    ایسی صورتِ حال میں مبتلا شخص کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ پہلے تو اپنی زندگی کے اس اہم معاملے میں کسی مستند مفتی صاحب سے براہِ راست ملاقات کرے اور اپنے الفاظ کی پوری تفصیل بیان کرے؛ کیونکہ بسا اوقات الفاظ کی نوعیت اور نیت کے اعتبار سے گنجائش کی کوئی صورت نکل سکتی ہے، مثلاً اگر اس نے کسی خاص عورت کا نام لیا ہو یا کسی خاص وقت کی قید لگائی ہو۔ تاہم، عمومی قاعدہ یہی ہے کہ ایسی صورت میں نکاح ہوتے ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ البتہ، ایسے شخص کے لیے طلاق سے بچتے ہوئے گھر بسانے کا ایک حل "نکاحِ فضولی" کی شکل میں نکل سکتا ہے۔

    اِس تدبیر کا طریقۂ کار یہ ہے کہ یہ شخص خود نکاح کا ایجاب و قبول نہ کرے اور نہ ہی کسی کو اپنا وکیل بنائے (یعنی کسی کو یہ نہ کہے کہ تم میرا نکاح کروا دو)، بلکہ کوئی تیسرا شخص (جسے اصطلاحی زبان میں "فضولی" کہا جاتا ہے، مثلاً اس کا کوئی دوست یا رشتہ دار) اس شخص کی اجازت اور علم کے بغیر، دو گواہوں کی موجودگی میں لڑکی یا اس کے ولی سے جا کر کہے کہ: "میں نے فلاں شخص (یعنی قسم کھانے والے) کا نکاح تم سے (یا تمہاری بیٹی سے) اتنے مہر کے عوض کر دیا"۔ اور لڑکی یا اس کا ولی اس پیشکش کو قبول کرلے۔ (یہاں تک نکاح موقوف رہے گا)۔ نکاح ہو جانے کے بعد وہ فضولی (تیسرا شخص) آکر اس شخص کو خبر دے کہ میں نے تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دیا ہے۔ اُس پر یہ شخص زبان سے کچھ کہے بغیر عملاً اس نکاح کو نافذ کر دے (مثلاً مہر کی رقم ادا کر دے، یا بیوی کے پاس چلا جائے، یا شہوت کے ساتھ اُسے ہاتھ لگائے یا اُس کا بوسہ لے، یا لوگوں کے مبارک بادی دینے پر خاموش رہے انکار نہ کرے ... وغیرہ)۔ اِس تدبیر کا فائدہ یہ ہے کہ چونکہ اس شخص نے خود نکاح کا عقد نہیں کیا، بلکہ دوسرے کے کیے ہوئے عقد کی صرف اجازت دی ہے، اس لیے شرط (یعنی اس کا خود نکاح کرنا) نہیں پائی گئی، لہٰذا اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی اور نکاح درست ہو جائے گا۔

    لیکن اگر دوست یا رشتہ دار خود سے پہل نہ کررہے ہوں، اُنھیں اِس طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہو تو کسی کو صراحتاً حکم تو نہ دے، البتہ اشارۃً اِس طرح سے تذکرہ کرے کہ مثلاً: کاش میرا نکاح ہوجاتا یا کیا اچھا ہوتا کہ میرا نکاح ہوجاتا۔ اب اگر اِس سے کوئی متوجہ ہوجائے اور اوپر بتائے گئے طریقہ سے نکاح کرادے تو بھی یہ "نکاحِ فضولی" ہوجائے گا، اور اُس کے بعد اُسی طرح کرے جیسے اوپر بتادیا گیا۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبانوں کی حفاظت کرنے اور شرعی حدود کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے؛ تاکہ ہم اپنی دنیاوی اور اخروی زندگی کو مشکلات سے بچا سکیں۔

(مَراجِع):

  • الهداية [کتاب الطلاق، باب الاَیمان فی الطلاق، ج: ۳، ص: ۱۹۸، ط: مکتبة البشریٰ - کراچی]
  • البحر الرائق [کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج: ۴، ص: ۱۰ - ۱۱، ط: دار الکتب العلمیة - بیروت]
  • رد المحتار [کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: التعلیق المراد بہ المجازاۃ دون الشرط، ج: ۴، ص: ۵۹۴، ط: دار عالَم الکتب - الریاض]
  • الفتاویٰ الخیریة [کتاب النکاح، فصل فی نکاح الفضولی، ج: ۱، ص: ۲۷، ط: المطبعة الکبریٰ المیریة]

(واللہ اعلم بالصواب.)

============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے