(سوال):
(رہنمائی):
جہاں تک اس خطے میں مزاحمتی کردار کا تعلق ہے، تو شرعی اور اصولی اعتبار سے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونا اور اپنے غصب شدہ حقوق کے لیے مزاحمت کرنا ہر مظلوم کا بنیادی اور پیدائشی حق ہے۔ ایران یا دیگر مزاحمتی تنظیموں نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے جو عرب دنیا اور بڑی مسلم طاقتوں کی پسپائی اور مصلحت پسندی کے باعث پیدا ہوا تھا۔ عالمِ اسلام کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اس وقت اصل اور سب سے بڑا دشمن وہ صیہونی اور استعماری گٹھ جوڑ ہے جو پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر کے اپنے توسیعی عزائم کی تکمیل چاہتا ہے۔ اس لیے اِس وقت فروعی، مسلکی اور علاقائی امور و معاملات میں اعتقاداً و عملاً اپنی اپنی ترجیحات پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اور اختلافات کو ممکنہ حد تک سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے، ہر اس آواز اور طاقت کی اخلاقی اور اصولی حمایت کرنا شرعی تقاضا ہے جو ظالم کا ہاتھ روکنے اور مظلوم کے دفاع کے لیے اٹھ رہی ہو۔ خلیجی ریاستوں اور دیگر مسلم ممالک کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ استعماری طاقتوں کی کاسہ لیسی یا ان سے دوستی انہیں کبھی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، کیونکہ طاغوت کا ایجنڈا صرف اور صرف اپنا مفاد اور دوسروں کا استحصال ہوتا ہے۔
اس ابتر صورتحال میں مسلم ممالک کے مقتدر حلقوں، حکمرانوں اور پالیسی سازوں پر سب سے بھاری شرعی اور تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ محض زبانی مذمتوں، قراردادوں اور کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھ کر ایک مضبوط اور خود مختار اسلامی بلاک کی تشکیل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ مسلم دنیا کے پاس تیل، گیس، اہم جغرافیائی تجارتی گزرگاہوں اور بے پناہ سرمائے کی صورت میں وہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں جنہیں اگر محض ایک مشترکہ دباؤ کے طور پر بھی استعمال کیا جائے تو عالمی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ وہ اپنی معیشت، ٹیکنالوجی اور دفاع کو مغربی انحصار سے نکال کر باہمی تعاون کی طرف لائیں اور سفارتی سطح پر جارحیت پسندوں کا مکمل بائیکاٹ کر کے دنیا کو یہ واضح پیغام دیں کہ مظلوموں کے خون اور اسلامی مقدسات کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب، ایک عام مسلمان کو اس فکری انتشار اور مایوسی کے ماحول میں ہرگز ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ عام آدمی کا پہلا کردار فکری اور روحانی بیداری کا ہے۔ ہمیں اپنے اور اپنی نسلوں کے عقائد کو مضبوط کرنا ہے اور انہیں قبلۂ اول کی تاریخ، عالمی سیاست کی حقیقتوں اور قرآنی اصولوں سے آگاہ کرنا ہے؛ تاکہ مغربی میڈیا کا مسلط کردہ بیانیہ ہمارے ذہنوں کو مغلوب نہ کر سکے۔ روحانی سطح پر اپنے گناہوں سے سچی توبہ، رجوع الی اللہ، راتوں کی تنہائیوں میں مظلومین کے لیے دعاؤں کا اہتمام اور اپنی روزمرہ زندگی میں اسلامی احکام کا نفاذ وہ بنیادی عمل ہے جو آسمانی نصرت کو متوجہ کرتا ہے۔ جب تک امت مجموعی طور پر اللہ کی نافرمانیوں سے باز نہیں آتی، اس وقت تک ظاہری اسباب کی برکت اور تاثیر بھی محدود رہتی ہے۔
![]() |
| مسجدِ اقصٰی کے صحن میں امتِ مسلمہ کا عظیم اجتماع بارگاہِ الٰہی میں سب کے اُٹھے ہوئے دعاگو ہاتھ، جو اتحاد، امید اور ایمانی جذبے کی عکاسی کر رہے ہیں۔ |
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

0 تبصرے