مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ رہنمائی


(سوال):

    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ ابتر صورتحال، امریکہ و اسرائیل کی جارحیت اور ایران کے مزاحمتی کردار کے تناظر میں عالمِ اسلام کے لیے صحیح شرعی اور سیاسی لائحۂ عمل کیا ہونا چاہیے؟ خلیجی ممالک کی خاموشی اور عالمی طاقتوں کے دہرے معیار نے جو فکری انتشار پیدا کیا ہے، اس میں ایک عام مسلمان اور مقتدر حلقے کس طرح امت کی بقاء اور انسانیت کی فلاح کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً ومصلیاً ومسلماً، أما بعد!
    مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات، قبلۂ اول کی آزادی کی جدوجہد اور اہلِ غزہ و فلسطین پر ڈھائے جانے والے مظالم نے پوری دنیا کے سامنے عالمی طاقتوں کے کھوکھلے اخلاقی معیارات اور انسانی حقوق کے دعویداروں کی منافقت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ آج امریکا اور اسرائیل کی ننگی جارحیت محض ایک خطے پر قبضے کی جنگ نہیں رہی، بلکہ یہ حق و باطل اور تہذیبوں کے تصادم کا ایک ایسا موڑ ہے جہاں استعماری طاقتیں اپنے تمام تر جدید وسائل کے ساتھ ایک نہتی مگر غیرت مند قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں۔ ایسے وقت میں جب نام نہاد مہذب دنیا کا ضمیر مردہ ہو چکا ہے، وہاں امتِ مسلمہ کا یہ شدید فکری و عملی بحران اور خلیجی ممالک سمیت اکثر مسلم ریاستوں کی مجرمانہ خاموشی یقیناً ہر دردمند مسلمان کے دل کو خون کے آنسو رلانے کا سبب ہے۔ یہ صورتحال امت کے لیے ایک کڑی آزمائش بھی ہے اور بیداری کا ایک عظیم موقع بھی، جس میں ہمیں جذباتیت کے بجائے انتہائی بالغ نظری، ایمانی فراست اور قرآنی بصیرت کے ساتھ اپنا لائحۂ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔

    جہاں تک اس خطے میں مزاحمتی کردار کا تعلق ہے، تو شرعی اور اصولی اعتبار سے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونا اور اپنے غصب شدہ حقوق کے لیے مزاحمت کرنا ہر مظلوم کا بنیادی اور پیدائشی حق ہے۔ ایران یا دیگر مزاحمتی تنظیموں نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے جو عرب دنیا اور بڑی مسلم طاقتوں کی پسپائی اور مصلحت پسندی کے باعث پیدا ہوا تھا۔ عالمِ اسلام کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اس وقت اصل اور سب سے بڑا دشمن وہ صیہونی اور استعماری گٹھ جوڑ ہے جو پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر کے اپنے توسیعی عزائم کی تکمیل چاہتا ہے۔ اس لیے اِس وقت فروعی، مسلکی اور علاقائی امور و معاملات میں اعتقاداً و عملاً اپنی اپنی ترجیحات پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اور اختلافات کو ممکنہ حد تک سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے، ہر اس آواز اور طاقت کی اخلاقی اور اصولی حمایت کرنا شرعی تقاضا ہے جو ظالم کا ہاتھ روکنے اور مظلوم کے دفاع کے لیے اٹھ رہی ہو۔ خلیجی ریاستوں اور دیگر مسلم ممالک کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ استعماری طاقتوں کی کاسہ لیسی یا ان سے دوستی انہیں کبھی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، کیونکہ طاغوت کا ایجنڈا صرف اور صرف اپنا مفاد اور دوسروں کا استحصال ہوتا ہے۔

    اس ابتر صورتحال میں مسلم ممالک کے مقتدر حلقوں، حکمرانوں اور پالیسی سازوں پر سب سے بھاری شرعی اور تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ محض زبانی مذمتوں، قراردادوں اور کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھ کر ایک مضبوط اور خود مختار اسلامی بلاک کی تشکیل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ مسلم دنیا کے پاس تیل، گیس، اہم جغرافیائی تجارتی گزرگاہوں اور بے پناہ سرمائے کی صورت میں وہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں جنہیں اگر محض ایک مشترکہ دباؤ کے طور پر بھی استعمال کیا جائے تو عالمی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ وہ اپنی معیشت، ٹیکنالوجی اور دفاع کو مغربی انحصار سے نکال کر باہمی تعاون کی طرف لائیں اور سفارتی سطح پر جارحیت پسندوں کا مکمل بائیکاٹ کر کے دنیا کو یہ واضح پیغام دیں کہ مظلوموں کے خون اور اسلامی مقدسات کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    دوسری جانب، ایک عام مسلمان کو اس فکری انتشار اور مایوسی کے ماحول میں ہرگز ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ عام آدمی کا پہلا کردار فکری اور روحانی بیداری کا ہے۔ ہمیں اپنے اور اپنی نسلوں کے عقائد کو مضبوط کرنا ہے اور انہیں قبلۂ اول کی تاریخ، عالمی سیاست کی حقیقتوں اور قرآنی اصولوں سے آگاہ کرنا ہے؛ تاکہ مغربی میڈیا کا مسلط کردہ بیانیہ ہمارے ذہنوں کو مغلوب نہ کر سکے۔ روحانی سطح پر اپنے گناہوں سے سچی توبہ، رجوع الی اللہ، راتوں کی تنہائیوں میں مظلومین کے لیے دعاؤں کا اہتمام اور اپنی روزمرہ زندگی میں اسلامی احکام کا نفاذ وہ بنیادی عمل ہے جو آسمانی نصرت کو متوجہ کرتا ہے۔ جب تک امت مجموعی طور پر اللہ کی نافرمانیوں سے باز نہیں آتی، اس وقت تک ظاہری اسباب کی برکت اور تاثیر بھی محدود رہتی ہے۔

ایک وسیع منظر جس میں القدس کی مسجدِ اقصٰی (قبۃ الصخرہ) کا سنہری گنبد تاریک بادلوں کے درمیان سے چھنتی ہوئی سورج کی شعاعوں میں نہایا ہوا ہے۔ صحن میں مردوں اور خواتین کا ایک بڑا ہجوم کھڑا ہے جو خشوع و خضوع کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں۔
مسجدِ اقصٰی کے صحن میں امتِ مسلمہ کا عظیم اجتماع
بارگاہِ الٰہی میں سب کے اُٹھے ہوئے دعاگو ہاتھ، جو اتحاد، امید اور ایمانی جذبے کی عکاسی کر رہے ہیں۔
    اس کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کو عملی میدان میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے۔ اس میں سب سے مؤثر اور پرامن ہتھیار معاشی بائیکاٹ ہے۔ امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ ان تمام کمپنیوں اور مصنوعات کا مستقل اور شعوری بائیکاٹ کرے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ صیہونی ریاست اور اس کی جارحیت کو مالی تقویت پہنچاتی ہیں۔ یہ کوئی وقتی جذبہ نہیں بلکہ ایک مستقل طرزِ زندگی ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، آج کے دور کا سب سے بڑا محاذ ابلاغیاتی اور معلوماتی جنگ (Information Warfare) کا محاذ ہے۔ ہر مسلمان جس کے پاس قلم یا سوشل میڈیا کی طاقت ہے، اسے چاہیے کہ وہ مظلوموں کی آواز بنے، دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈے کا مدلل جواب دے اور عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنے میں اپنا حصہ ڈالے۔ یہ درحقیقت آج کے دور کا لسانی و قلمی جہاد ہے۔ اس تاریک رات کے بعد یقیناً ایک روشن صبح طلوع ہوگی، بشرطیکہ ہم بحیثیتِ امت اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اپنے حصے کی شمع روشن کرنے سے پیچھے نہ ہٹیں۔
(واللہ اعلم بالصواب.)
============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے