اُمتِ وسَط کا مفہوم اور سابقہ شریعتوں میں عدم توازن کی وجہ کیا ہے؟


(سوال):

    قرآن کریم میں اُمت محمدیہ کی جو خصوصیات ذکر کی گئی ہیں ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ اُمت  "امتِ وسَط" یعنی معتدل اُمت ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سابقہ امتیں معتدل نہیں تھیں۔ نیز پچھلی قوموں کے جو احکام آج کل پائے جاتے ہیں ان سے بھی اندازہ  ہوتا ہے کہ پچھلی  شریعتوں میں اعتدال نہیں تھا۔ مثال کے طور پر میراث کے تعلق سے یہودی مذہب میں یہ مسئلہ پایا جاتا ہے کہ باپ کے انتقال کے بعد  سارا مال  بیٹے ہی کو دے دیا جائے ، اور بیٹا نہ ہونے کی صورت میں باپ کو اور پھر بھائی کو دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے مسائل کو عدم اعتدال یا عدم  توازن پر محمول کیا جائے یا انہیں امم سابقہ کی طرف سے کی گئی تحریف و تنسیخ کا نتیجہ سمجھا جائے؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً ومصلیاً ومسلماً، أما بعد!
ایک قدیم اسلامی کتب خانے کا منظر جس کے مرکز میں ایک متوازن سنہرا ترازو رکھا ہے، اس کے قریب قدیم طومار (سابقہ صحیفے) موجود ہیں اور سامنے ایک نہایت خوبصورت اور نورانی کتاب رکھی ہے جو شریعتِ محمدیہ کے کامل اعتدال اور نور کی نمائندگی کر رہی ہے۔
امتِ وسَط کی علامت: عدل و توازن اور نورِ ہدایت کا ایک حسین سنگم
    آپ نے جو سوال پیش کیا ہے، یہ دراصل امت مسلمہ کی امتیازی شان "اُمتِ وسَط" کے مفہوم اور اس کے تقابلی جائزہ سے متعلق ایک بہت ہی گہرا اور باریک علمی سوال ہے، جسے سمجھنے کے لیے قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ ادیانِ سابقہ کی اصل تعلیمات اور ان میں ہونے والی تحریفات کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: "وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ؕ" [سورۂ بقرہ، آیت نمبر: ۱۴۳] (یعنی: اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل (یا بہترین) امت بنایا ہے؛ تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہوں)۔ اس آیت میں "وسطاً" کا لفظ اپنے اندر کئی معانی رکھتا ہے، جیسے عدل و انصاف، خیریت و بہتری اور اعتدال و توازن۔ یہ امت مسلمہ کی خصوصیت ہے کہ وہ ہر معاملے میں غلو اور تفریط کے درمیان میانہ روی اور توازن پر قائم ہے، اور یہی اس کی شہادت علی الناس کی اہلیت کی بنیاد ہے۔

    اب رہا یہ سوال کہ سابقہ امتوں اور ان کی شریعتوں کو عدم اعتدال پر محمول کیا جائے یا تحریف و تنسیخ کا نتیجہ سمجھا جائے، تو اس کا جواب دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر دینا مناسب ہوگا۔ اس سلسلے میں پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ اصل شریعتیں اور ان کے احکام ہر لحاظ سے حکمت اور مصلحت پر مبنی تھے اور اپنے اپنے زمانے اور مخاطب قوم کے حالات و ضروریات کے عین مطابق تھے، اس لیے ان میں کوئی عدم توازن نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس کا ہر حکم عین حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن جب بعد میں ان شریعتوں میں تحریف ہوئی، ان کے الفاظ بدلے گئے، ان کے معانی مسخ کیے گئے اور بہت سے احکام کو عملاً منسوخ یا نظر انداز کردیا گیا، تو اس تحریف اور تبدیلی کے نتیجے میں وہ شریعتیں اپنے اصل اعتدال اور توازن سے ہٹ گئیں۔ چنانچہ آج جو یہودی مذہب میں میراث کے تعلق سے یہ مسئلہ پایا جاتا ہے کہ باپ کے انتقال کے بعد سارا مال صرف بیٹے کو دیا جائے اور بیٹا نہ ہو تو باپ اور پھر بھائی کو دیا جائے، یہ دراصل ان کی اصل شریعت یعنی تورات کی تعلیم نہیں، بلکہ بعد کی تحریفات اور ان کے علماء کی اپنی صوابدید پر مبنی قوانین کا نتیجہ ہے۔

    اگر ہم تورات (عہد نامۂ قدیم) کا مطالعہ کریں تو اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بیٹیوں کو وراثت دینے کا حکم موجود ہے۔ کتاب گنتی کے باب 27 کی آیات 1 تا 11 میں واضح طور پر ذکر ہے کہ جب صِلافحاد کی بیٹیوں نے اپنے والد کی میراث کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اگر کسی شخص کی بیٹیاں ہوں اور بیٹا نہ ہو تو اس کی میراث اس کی بیٹیوں کو دی جائے۔ گویا اصل تورات میں عورتوں کو محروم کرنے کا حکم نہیں تھا، بلکہ بعد میں یہود نے اپنی صوابدید سے اس حکم کو محدود یا تبدیل کردیا اور اپنے مفاد کے مطابق قوانین بنا لیے۔ اسی طرح دیگر احکام میں بھی انہوں نے شدت اور تشدد کو اپنا لیا، جیسے کہ قرآن مجید میں یہود کے بارے میں فرمایا گیا: "فبظلم من الذین ہادوا حرمنا علیہم طیبات أحلت لہم" [سورۂ نساء، آیت نمبر: ۱۶۰] (یعنی: یہود کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں حرام کردیں جو ان کے لیے حلال تھیں)۔ گویا ان کی اپنی سرکشی اور ظلم ہی کی وجہ سے ان پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں، جو اصل شریعت کا حصہ نہ تھیں۔

    دوسری اہم بات یہ ہے کہ شریعتوں کے احکام میں شدت و تخفیف اور وسعت و تنگی کا تعلق "مرحلہ بہ مرحلہ" تکمیل اور ارتقاء کے اصول سے بھی ہے۔ جس طرح شراب کی حرمت بتدریج نازل ہوئی، اسی طرح دوسرے احکام بھی اپنے اپنے وقت کے تقاضوں کے مطابق نازل ہوتے رہے۔ شریعتِ محمدیہ میں آکر یہ سلسلہ اپنی تکمیل کو پہنچا، جیسا کہ قرآن نے فرمایا: "الیوم أكملت لکم دینکم وأتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الإسلام دیناً" [سورۂ مائدہ، آیت نمبر: ۳]۔ (یعنی: آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کردیا، اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی، اور تمھارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا)۔ چنانچہ امت محمدیہ کو اُمتِ وسَط اس لیے کہا گیا کہ یہ شریعت ہر اعتبار سے مکمل، جامع، ہمہ گیر اور ہر دور اور ہر جگہ کے لیے موزوں ہے، جس میں غلو اور تفریط کے بجائے میانہ روی اور توازن پایا جاتا ہے۔ اس کے احکام نہ تو یہود کی طرح سخت اور غیر لچکدار ہیں اور نہ نصاریٰ کی طرح بہت زیادہ آسان اور بے ضابطہ، بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک معتدل راستہ ہے۔

    الغرض آپ کے سوال کا جامع جواب یہ ہے کہ سابقہ شریعتوں میں موجود عدم توازن اور شدت یا تخفیف کو براہ راست اللہ کی اصل شریعت سے منسوب نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس کی دو وجوہات ہیں: ایک یہ کہ ان شریعتوں میں بعد میں تحریف اور تبدیلی بھی کی گئی، جس نے انہیں ان کے اصل اعتدال سے ہٹا دیا اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں یہ تھا کہ وہ آہستہ آہستہ شریعت کو مکمل کرتا ہے اور امت محمدیہ کی شریعت میں اسے اپنی کامل صورت عطا فرماتا ہے، جیسا کہ ایک خوبصورت عمارت پہلے بنیاد سے شروع ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ مکمل ہوتی ہے۔ ہر مرحلہ اپنے وقت کے لحاظ سے درست اور حکیمانہ تھا، لیکن تکمیل کا مقام اسلامی شریعت ہے، جہاں اعتدال، توازن اور جامعیت اپنے عروج پر ہے۔ لہٰذا ان مسائل کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ وہ بیک وقت تحریف کا نتیجہ بھی ہیں اور شریعت کی تدریجی تکمیل کے مرحلے کی بھی عکاس ہیں، البتہ موجودہ صورت میں وہ عدم اعتدال کی کیفیت ضرور رکھتے ہیں جس کی وجہ سے امت محمدیہ کو ان پر گواہ اور شاہد بنایا گیا ہے۔

(مَراجِع):

  • قرآنِ مجید
  • اردو بائبل/ عہد نامۂ قدیم [ص: ۱۵۳]

(واللہ اعلم بالصواب۔)

============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے