حلالہ کے بارے میں غیر مسلموں کے اعتراضات کی حقیقت اور اسلامی قانونِ نکاح و طلاق کی حکیمانہ بنیادوں کی رہنمائی


(سوال):

     بعض غیر مسلم حلقوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر "حلالہ" کے حوالے سے پائے جانے والے اعتراضات اور طعن و تشنیع کا حقیقتِ حال کی روشنی میں کیا جواب دیا جائے، اور اس تصور کی درست حیثیت کیا ہے؟ 

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً ومصلیاً ومسلماً، أما بعد!
     یہ مسئلہ اب محض ایک فقہی جزئیہ نہیں رہا، بلکہ اسلام دشمن عناصر کی جانب سے شعائرِ اسلام کو نشانہ بنانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔
     حقیقت یہ ہے کہ جسے آج حلالہ کے نام سے ایک مستقل رسم یا طریقۂ کار سمجھ کر بدنام کیا جا رہا ہے، وہ فی نفسہ شریعت میں کوئی مقصود عمل یا ایسی تقریب نہیں ہے جسے اسلام نے پسند کیا ہو۔ اسلامی قانونِ ازدواج میں طلاقِ مغلظہ (تین طلاق) کے بعد جو صورت پیدا ہوتی ہے، وہ دراصل طلاق کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر ایک کڑی سزا اور روک تھام کا ذریعہ ہے۔ اسلام نکاح کو ایک نہایت پختہ عہد قرار دیتا ہے اور مرد کو طلاق کا اختیار محض اس لیے نہیں دیا گیا ہے کہ وہ جب چاہے عہدِ نکاح کو توڑدے۔ جب ایک مرد تمام حدود کو پامال کرتے ہوئے تین بار طلاق کا کلمہ ادا کردیتا ہے، تو شریعت میاں بیوی کے درمیان تعلق کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے؛ تاکہ طلاق کے حق کو مذاق بنانے والوں کو تنبیہ ہو۔ اس کے بعد دوبارہ اسی مرد سے نکاح کی ممانعت مرد کے لیے ایک سماجی اور جذباتی سزا ہے کہ اب وہ عورت اس کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے، الا یہ کہ وہ عورت اپنی مرضی سے کہیں اور نکاح کرے، وہاں میاں بیوی والا مخصوص تعلق قائم ہو اور پھر اتفاقاً وہاں سے بیوگی یا طلاق کی صورت پیدا ہو جائے۔
ایک خوبصورت کتب خانے میں میز پر رکھی ہوئی ترازو (میزانِ عدل) اور ایک کھلی ہوئی اسلامی قانونی کتاب جس پر عربی تحریر ہے، پس منظر میں کھڑکی سے مسجد کا گنبد نظر آ رہا ہے۔
ایک پُروقار اسلامی کتب خانے کا منظر جہاں میزانِ عدل اور اسلامی فقہ کی کتاب رکھی ہے، جو دینِ اسلام میں عدل و انصاف کی مرکزی حیثیت کو اجاگر کرتی ہے۔
​     سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں جس منصوبہ بند حلالہ کا چرچا کیا جاتا ہے، جس میں پہلے سے طے کرلیا جائے کہ محض پہلے شوہر کے لیے راستہ ہموار کرنے کی خاطر کسی دوسرے سے نکاح کیا جائے گا اور پھر تعلق قائم کرنے کے بعد علیحدگی کرلی جائے گی، اس عمل پر تو خود اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت فرمائی ہے [سننِ ابی داؤد، حدیث: 2076]۔ ایسا نکاح جو صرف اس شرط پر کیا جائے کہ وہ اسے طلاق دے دے گا، سخت مکروہ اور شرعی روح کے منافی ہے۔ اسلام تو اس بات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ نکاح ہمیشہ دائمی تعلق کی نیت سے کیا جائے۔ اگر کوئی شخص اس پاکیزہ رشتے کو ایک قانونی حیلے کے طور پر استعمال کرتا ہے، تو وہ اسلامی تعلیمات کی پیروی نہیں کررہا ہے، بلکہ اپنی خواہشات کا غلام ہے۔ لہٰذا، جو اعتراضات غیر مسلموں کی جانب سے کیے جاتے ہیں، وہ دراصل چند جاہل طبقوں کے غلط رویوں پر مبنی ہیں، نہ کہ اسلام کے اصل قانون پر۔
​     اسلام میں اصل زور طلاق کو روکنے پر ہے۔ تین طلاق کے بعد علیحدگی کا یہ کڑا قانون دراصل مرد کو ڈرانے کے لیے ہے کہ وہ طلاق دینے سے پہلے سو بار سوچے کہ اس کے بعد واپسی کا کوئی باعزت راستہ نہیں بچتا۔ اگر یہ قانون نہ ہوتا تو مرد اپنی بیوی کو تماشہ بنا دیتا کہ جب چاہا طلاق دی اور جب چاہا رجوع کرلیا، ضرورت ہے اِس قانون کے غلط طریقے سے استعمال کرنے سے بچنے اور بچانے کی۔ یہ قانون عورت کی توہین نہیں ہے، بلکہ اگر غور کیا جائے تو یہ اسے ظالم مرد کے چنگل سے چھڑانے اور مرد کو اس کی بدزبانی کی سزا دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ جہاں تک طعنہ دینے والوں کا تعلق ہے، انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ جس عمل کو وہ اسلام کا عیب بناکر پیش کر رہے ہیں، وہ دراصل خاندان کی بنیادوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک نفسیاتی رکاوٹ ہے؛ تاکہ کوئی بھی شخص ازدواجی زندگی کو اور اُس تعلق کے ختم کرنے کو بچوں کا کھیل نہ سمجھے۔
    کتاب "حجۃ اللہ البالغۃ" میں ہے: "فِيهِ إذاقة الْفَقْد ومعاقبة على اتِّبَاع دَاعِيَة الضجر من غيرتروي مصلحَة مهمة. أَيْضا: فَفِيهِ إعظام المطلقات الثَّلَاث بَين أَعينهم وَجعلهَا بِحَيْثُ لَا يُبَادر إِلَيْهَا إِلَّا من وَطن نَفسه على ترك الطمع فِيهَا إِلَّا بعد ذل وإرغام أنف لَا مزِيد عَلَيْهِ." [ج: ۲، ص: ۴۳۰، ط: دار ابن کثیر - دمشق] (یعنی: اِس حکم میں شوہر کو بیوی کی جدائی کا مزہ چکھانا ہے اور اہم مصلحت کو سوچے بغیر تنگ دلی کے تقاضے کی پیروی کرنے پر سزا ہے۔ نیز اِس حکم میں لوگوں کی نگاہوں میں تین طلاقوں کو سنگین بنانا ہے اور تین طلاقوں کو ایسا کردینا ہے کہ اُن کی طرف صرف وہی سبقت کرے جس نے خود کو اُس عورت کی آرزو چھوڑدینے کا خوگر بنالیا ہو اور اپنی انتہائی درجہ کی رسوائی اور بےعزتی کے بعد ہی اُسے واپس لانے کا سوچا ہو۔) مطلب یہ ہے کہ جب بیوی عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرے گی تو شوہر اُس کی جدائی کا مزہ چکھے گا، اور یہ بات اُس کے لیے سزا ہوگی کہ اُس نے اہم مصلحت کو سوچے بغیر ناراضگی اور تنگ دلی کی پیروی کیوں کی؟ اور آخری درجہ کا اِقدام کیوں کیا؟ نیز دوسرے نکاح کی شرط لگاکر تین طلاقوں کی سنگینی لوگوں کے ذہنوں میں بٹھائی گئی ہے کہ تین طلاقیں وہی دے گا جس نے قطعی طور پر طے کرلیا ہو کہ اُسے بیوی کو چھوڑنا ہی ہے اور اگر واپس لانا ہے تو اپنی ایسی رسوائی اور بےعزتی کے بعد لانا ہے جس سے بڑی کوئی رسوائی اور بےعزتی نہیں ہوسکتی۔
​     آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سوشل میڈیا کے اِس دور میں جہاں معلومات سے زیادہ پروپیگنڈے کا غلبہ ہے، وہاں ہمارا کام صرف مدافعت کرنا نہیں ہے، بلکہ اسلام کے خاندانی نظام کی خوبصورتی کو پیش کرنا بھی ہے۔ ہمیں حکمت کے ساتھ یہ بتانا چاہیے کہ اسلام نکاح کو ایک عبادت اور ذمہ داری سمجھتا ہے، اور جو لوگ اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام ہوکر حدودِ الٰہی کو توڑتے ہیں، اُن کے لیے قانون کی گرفت اُتنی ہی سخت ہوتی ہے۔ حلالہ کی شرمناک تصویر کشی دراصل انفرادی غلطیوں کو مذہب کے سر تھوپنے کی ایک مذموم کوشش ہے، جس کا جواب علم، وقار اور حقائق کی درست ترجمانی سے ہی دیا جاسکتا ہے۔
(واللہ اعلم بالصواب.)
============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں۔ اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے