(مسئلہ):
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً ومصلیاً ومسلماً، أما بعد!
![]() |
| "عبادت اور خدمت کا حسین سنگم؛ جہاں ایک بیٹا اپنے بوڑھے والد کا سہارا بن کر کعبہ کے سائے میں اپنی جنت سمیٹ رہا ہے۔" |
اس مسئلے کا مدار والد صاحب کی ضرورت
کی نوعیت اور متبادل انتظام پر ہے۔ اگر والد صاحب کی حالت ایسی ہے
کہ وہ اپنا کام خود نہیں کر سکتے، بیمار یا بہت ضعیف و کمزور ہیں، اور آپ کے علاوہ ان کی
خدمت کرنے والا کوئی اور موجود نہیں ہے (مثلاً کوئی اور بھائی، بہن، یا قابلِ
اعتماد خادم نہیں ہے جو آپ کی غیر موجودگی میں ان کا خیال رکھ سکے)، تو ایسی صورت
میں والد صاحب کو اس بے بسی کی حالت میں چھوڑ کر فرض حج کے لیے جانا ناپسندیدہ ہے۔ کتاب
"الفتاویٰ الھندیۃ" میں
ہے: "ویکرہ الخروج الی الحج اذا کرہ احد ابویہ
ان کان الوالد محتاجا الی خدمۃ الولد." [ج:
۱، ص: ۲۴۴، ط: دار الکتب العلمیۃ - بیروت]
(یعنی: اولاد کے لیے اُس صورت میں حج کے لیے جانا مکروہ ہے، جب والدین میں سے
کوئی ایک رضامند نہ ہو، بشرطیکہ اُنھیں اُس کی خدمت کی ضرورت ہو۔) لہٰذا ایسی
حالت میں والد صاحب کی خدمت کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ بوڑھے اور بے بس والد کی جان و
مال اور صحت کی حفاظت اس وقت زیادہ مقدم ہے۔ جب تک والد صاحب کا کوئی مناسب متبادل
انتظام نہ ہو جائے، آپ حج کو مؤخر کریں۔
لیکن اگر والد صاحب خود چلنے
پھرنے کے قابل ہیں، یا اگر وہ ضعیف ہیں لیکن آپ کے دوسرے بھائی، بہنیں، یا کوئی
ایسا خادم موجود ہے جو آپ کے حج پر جانے کی صورت میں والد صاحب کی بخوبی خدمت اور
دیکھ بھال کر سکتا ہے، تو اس صورت میں فرض حج کی ادائیگی کے لیے والد صاحب کی اجازت
شرعاً شرط نہیں ہے۔ کتاب "الفتاویٰ الھندیۃ"
میں ہے: "وان کان مستغنیاً عن خدمتہ
فلاباس."
[حوالۂ سابق] (یعنی: اگر اُنھیں اُس کی خدمت کی ضرورت نہ ہو تو جانے میں کوئی
حرج نہیں ہے۔) لٰہذا اگر متبادل انتظام ہونے کے باوجود والد صاحب محض اپنی شفقت،
محبت، قلبی لگاؤ، یا کسی طبعی الجھن کی وجہ سے جانے سے روک رہے ہیں، تو آپ پر فرض ہے کہ آپ حج
کے لیے روانہ ہوں۔ البتہ، اس صورت میں بھی آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ والد صاحب سے سختی سے پیش نہ آئیں، بلکہ انتہائی حکمت، محبت، اور نرمی کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کریں،
ان کے پاؤں دبائیں، ان کی منت سماجت کریں اور انہیں راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
اور اگر آپ کا یہ فرض حج نہ
ہوتا، بلکہ نفلی حج یا عمرہ ہوتا، تو پھر والد صاحب کی اجازت کے بغیر جانا کسی بھی صورت
میں جائز نہ تھا، چاہے والد صاحب صحت مند ہی کیوں نہ ہوں۔ کتاب "رد
المحتار" میں "البحر"
کے حوالے سے ہے: "وھٰذا کلہ فی حج الفرض، اما حج
النفل فطاعۃ الوالدین اولیٰ مطلقاً."
[ج: ۳، ص: ۴۵۴، ط: دار عالم الکتب – الریاض] (یعنی یہ سب تفصیل اُس وقت ہے جب حجِ فرض کی بات ہو،
لیکن اگر نفلی حج ہے تو پھر مطلقاً ہر حال میں والدین کی اطاعت قابلِ ترجیح ہے۔)
لیکن چونکہ آپ پر حج فرض ہو چکا ہے، اس لیے فرض کی ادائیگی
میں مخلوق کی اطاعت (بجز شدید مجبوری کے) آڑے نہیں آ سکتی۔
خلاصہ یہ کہ اگر کوئی اور بہن یا بھائی والد صاحب کے پاس رہ سکتا ہے، تو آپ ان کی ڈیوٹی لگا کر اور والد صاحب کے سامنے اپنے ہاتھ پاؤں جوڑ کر، اُن کی دعائیں لے کر حج کے لیے روانہ ہو جائیں۔ اور اگر والد صاحب بالکل اکیلے اور بے بس ہیں، تو پھر ان کی خدمت کو غنیمت جانیں۔
(واللہ اعلم بالصواب.)- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

0 تبصرے