(سوال):
(رہنمائی):
![]() |
| مسجد کے پرسکون ماحول میں "صلاۃ" کی خطاطی اور کھلی ہوئی علمی کتاب۔ |
کتاب "رد المحتار" میں "شرح المنیۃ" کے حوالے سے ہے: "والحاصل أن متابعة الإمام في الفرائض والواجبات من غير تأخير واجبة، فإن عارضها واجب لا ينبغي أن يفوته بل يأتي به ثم يتابع، كما لو قام الإمام قبل أن يتم المقتدي التشهد فإنه يتمه ثم يقوم لأن الإتيان به لا يفوت المتابعة بالكلية، وإنما يؤخرها، والمتابعة مع قطعه تفوته بالكلية، فكان تأخير أحد الواجبين مع الإتيان بهما أولى من ترك أحدهما بالكلية، بخلاف ما إذا عارضها سنة كما لو رفع الإمام قبل تسبيح المقتدي ثلاثا فالأصح أنه يتابعه لأن ترك السنة أولى من تأخير الواجب." [ج: ۱، ص: ۲۰۰، ط: دار عالم الکتب - الریاض] (یعنی: حاصل یہ ہے کہ امام صاحب کی اتباع فرائض اور واجبات میں بغیر کسی تاخیر کے واجب ہے، لیکن اگر اُس اتباعِ امام سے کوئی واجب چیز معارض ہوجائے تو اُس واجب کو فوت نہیں ہونے دینا چاہیے، بلکہ اُسے ادا کرنا چاہیے، پھر امام صاحب کی اتباع کرنی چاہیے، مثلاً اگر امام صاحب مقتدی کے تشہد پورا کرنے سے پہلے (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوجائیں تو مقتدی تشہد کو پورا کرے گا، پھر (اگلی رکعت کے لیے) کھڑا ہوگا؛ اس لیے کہ ایسا کرنا (تشہد، جو کہ واجب ہے، اُس میں) امام صاحب کی اتباع کو کلی طور پر فوت نہیں ہونے دیتا، اُسے صرف تھوڑا سا مؤخر کرتا ہے، جبکہ تشہد کو روک کر امام صاحب کی اتباع کرنا تشہد (کے واجب) کو کلی طور پر فوت کردیتا ہے۔ لہٰذا دو واجب چیزوں میں سے ایک کو تھوڑا سا تاخیر سے ہی سہی ادا کرلینا جس سے کہ دونوں واجب چیزیں (تشہد بھی اور امام صاحب کی اتباع بھی) ادا ہوجائیں، یہ لائقِ ترجیح ہے اُن دونوں میں ایک کو پورے طور پر چھوڑدینے سے۔ برخلاف اُس صورت کے جبکہ امام صاحب کی اتباع سے کوئی سنت چیز معارض ہوجائے، مثلاً اگر امام صاحب رکوع سے یا سجدے سے مقتدی کے تین مرتبہ تسبیح کہنے سے پہلے ہی اُٹھ جائیں تو اصح یہ ہے کہ یہاں مقتدی امام صاحب کی اتباع کرے گا (اور وہ بھی اُسی وقت اُٹھ جائے گا)؛ کیوں کہ واجب کو مؤخر کرنے کے مقابلے میں سنت کو چھوڑنا قابلِ اولیٰ ہے۔)
دراصل التحیات کا پڑھنا قعدہ میں بذاتِ خود ایک مستقل واجب ہے، اور مقتدی پر امام صاحب کی اتباع اسی وقت لازم ہوتی ہے جب امام صاحب کسی سنت یا جائز فعل کی طرف منتقل ہو رہے ہوں۔ اگر مقتدی تشہد مکمل کیے بغیر کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کا ایک واجب ترک ہو جائے گا، جو کہ نماز کے کمال کے خلاف ہے۔ اتباعِ امام کا وجوب اس وقت التحیات مکمل کرنے کے وجوب کے معارض ہوتا ہے، اور ایسی صورت میں واجبِ مقصود (تشہد) کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ لہذا، مقتدی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ التحیات "اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ" تک مکمل کرے اور پھر امام صاحب کے ساتھ مل جائے۔ ہاں اگر اُسے یہ اندیشہ ہو کہ تشہد مکمل کرنے تک امام صاحب تیسری رکعت کے لئے رکوع میں چلے جائیں گے تو پھر تشہد کی جتنی مقدار پڑھ چکا ہے، اسی پر بس کرکے کھڑا ہوجائے اور امام صاحب کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔ [مستفاد از فتوائے "دار العلوم دیوبند"، ف: 605675]
جہاں تک اس صورت کا تعلق ہے کہ امام صاحب نے سلام پھیر دیا ہو، تو یہاں بھی یہی حکم لاگو ہوگا کہ مقتدی پہلے اپنی التحیات پوری کرے اور پھر سلام پھیرے۔ اگر مقتدی نے تشہد مکمل کیے بغیر امام صاحب کے ساتھ سلام پھیر دیا تو اس کی نماز تو ادا ہو جائے گی، لیکن ایک واجب کے ترک ہونے کی وجہ سے یہ عمل کراہت سے خالی نہ ہوگا۔
کتاب "الفتاویٰ الھندیۃ" میں "الغیاثیۃ" کے حوالے سے ہے: "إذَا ..... سَلَّمَ الْإِمَامُ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُتِمَّ الْمُقْتَدِي التَّشَهُّدَ فَالْمُخْتَارُ أَنْ يُتِمَّ التَّشَهُّدَ." [ج: ۱، ص: ۹۹، ط: دار الکتب العلمیۃ - بیروت] (یعنی: جب امام صاحب نماز کے آخر میں مقتدی کے تشہد مکمل کرنے سے پہلے سلام پھیردیں تو راجح یہ ہے کہ مقتدی تشہد کو مکمل کرے۔) اور کتاب "رد المحتار" میں ہے: "ولو لم يتم، جاز. معناه صح مع الكراهة التحريمية." [ج: ۲، ص: ۲۰۰، ط: دار عالم الکتب - الریاض] (یعنی: اگر مقتدی تشہد مکمل نہ کرے (اور امام صاحب کے ساتھ سلام پھیردے) تو یہ جائز ہوجائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ صحیح تو ہوجائے گا لیکن کراہتِ تحریمی کے ساتھ۔)
یاد رکھنا چاہیے کہ نماز محض حرکات کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کے حضور ایک باادب حاضری ہے، جس میں ہر رکن اور ہر ذکر کو اس کے حق کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ مقتدی کو چاہیے کہ وہ اپنی نماز کو نقص سے بچانے کے لیے اس مختصر وقفے میں تشہد کی تکمیل کو ترجیح دے۔
(واللہ اعلم بالصواب.)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

0 تبصرے