(سوال):
ہمارے چچا زاد بھائی بنگلہ دیش میں MBBS مکمل کرنے کے بعد انٹرن شپ کر رہے ہیں۔ وہاں کا ضابطہ یہ ہے کہ انٹرن شپ کے لیے تین لاکھ روپے جمع کرانا لازمی ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی طالب علم صرف MBBS کر کے انٹرن شپ نہ بھی کرے تب بھی یہ رقم دینا ضروری ہوتی ہے۔
انٹرن شپ کا طریقۂ کار یہ ہے کہ یونیورسٹی کی طرف سے طالب علم ہسپتال میں آنے والے مریضوں کا علاج کرتا ہے۔ اس سے یونیورسٹی کو مریضوں کی فیس کی صورت میں فائدہ ہوتا ہے اور طالب علم کو تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ انٹرن شپ کے دوران طالب علم کو ماہانہ تقریباً ۱۹ یا ۲۰ ہزار روپے بطور اجرت دیے جاتے ہیں۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہ اجرت اسی فیس میں سے دی جاتی ہے جو طالب علم سے سال کے شروع میں لی جاتی ہے۔
یونیورسٹی کے اصول کے مطابق انٹرن شپ کرنے والے طالب علم کے لیے حاضری کے ساتھ عملی کام (یعنی مریض کا علاج کرنا) بھی ضروری ہے، لیکن اجرت ملنے کا مدار عملی کام پر نہیں بلکہ صرف حاضری پر رکھا گیا ہے۔ حاضری کا طریقہ یہ ہے کہ اگر طالب علم فنگر پرنٹ لگا دے تو وہ حاضر شمار ہوتا ہے، خواہ وہ مریض کا علاج کرے یا نہ کرے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم صرف حاضری دے اور عملی کام انجام نہ دے، تو کیا اس کے لیے یہ اجرت لینا درست ہے؟ جبکہ یونیورسٹی کی طرف سے حاضری اور عمل دونوں کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً ومصلیاً ومسلماً، أما بعد!
![]() |
| میڈیکل انٹرن شپ: فرائض کی ادائیگی اور وظیفے کی شرعی و اخلاقی حیثیت |
سوال میں ذکر کی گئی صورت میں طالبِ علم اور یونیورسٹی کے درمیان جو معاملہ ہے، وہ اجارہ (Employment) کا معاملہ ہے۔ طالبِ علم یہاں اجیر (Employee) کی حیثیت رکھتا ہے۔ شرعی اصول ہے: المسلمون على شروطهم [جامع ترمذی، حدیث:١٣٥٢] (یعنی: مسلمان اپنی طے کردہ شرطوں کے پابند ہیں)۔ جب یونیورسٹی کی طرف سے صراحتاً یہ اصول موجود ہے کہ انٹرن شپ کے دوران حاضری کے ساتھ ساتھ عملی کام (مریضوں کا علاج) بھی لازمی ہے، تو طالبِ علم پر ان دونوں شرطوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔
اگر کوئی طالبِ علم صرف فنگر پرنٹ (Biometric) لگاکر حاضر شمار ہو جاتا ہے، لیکن عملی کام (جس کا اس سے معاہدہ ہوا ہے) جان بوجھ کر نہیں کرتا، تو یہ دھوکہ دہی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ حدیثِ شریف میں ہے: "مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا" [صحیح مسلم، حدیث: ١٠١] (یعنی: جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے)۔ فنگر پرنٹ محض حاضری کو یقینی بنانے کا ایک مشینی ذریعہ ہے، یہ کام سے مستثنیٰ ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ہے۔
فقہی اصول کے مطابق، اجیرِ خاص (جو کسی خاص وقت کے لیے پابند ہو) تسلیم النفس اور مستعد للعمل ہونے پر، یعنی اپنی حاضری اور کام کے لیے آمادگی کی صورت میں، اجرت کا مستحق ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ حاضر تو ہو جائے مگر کام کرنے سے جان بوجھ کر گریز کرے (جبکہ اس کے ذمے کام لگایا گیا ہو)، تو وہ اس وقت کی اجرت کا مستحق نہیں رہتا۔ لہٰذا، عملی کام کیے بغیر جو رقم وصول کی جائے گی، وہ حلال نہیں ہوگی، بلکہ یہ اکلِ مال بالباطل، یعنی ناحق مال کھانے، کے زمرے میں آئے گی۔
یہ سوچنا کہ سال کے شروع میں جو تین لاکھ روپے جمع کرائے گئے تھے، یہ اجرت اسی میں سے مل رہی ہے، درست عذر نہیں ہے۔ جب طالبِ علم نے وہ رقم فیس یا کسی بھی مد میں یونیورسٹی کو ادا کر دی، تو وہ رقم یونیورسٹی کی ملکیت (ملکِ خبیث یا طیب) بن گئی۔ اب جو وظیفہ (Stipend) مل رہا ہے، وہ ایک نئے معاہدے (انٹرن شپ کے کام) کے عوض مل رہا ہے۔ لہٰذا اسے اپنا ہی پیسہ سمجھ کر بغیر کام کیے وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ چونکہ یونیورسٹی کے اصول کے مطابق حاضری اور عملی کام (مریضوں کا علاج) دونوں لازمی ہیں، اس لیے طالبِ علم پر لازم ہے کہ وہ دیانت داری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام دے۔ محض حاضری (فنگر پرنٹ) لگاکر عملی کام سے بچنا دھوکہ دہی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا عملی کام کیے بغیر صرف حاضری کی بنیاد پر جو اجرت (Stipend) لی جائے گی، وہ جائز اور حلال نہیں ہوگی۔ یہ گمان کرنا کہ یہ رقم طالبِ علم کی جمع کردہ فیس ہی سے واپس آرہی ہے، اس عمل کو جائز نہیں بناتا؛ کیونکہ کام کی اجرت کا استحقاق شرط کے مطابق کام کرنے پر ہی موقوف ہے۔
(واللہ اعلم بالصواب.)
=============================================
=============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

0 تبصرے