حج کیے ہوئے نابالغ اور مجنون پر، بلوغت اور افاقے کے بعد حج کے حکم کے بارے میں رہنمائی


(سوال):

    اگر کوئی نابالغ بچہ یا مجنون (پاگل) شخص حج کرلے، پھر وہ بچہ بالغ ہوجائے یا اُس مجنون شخص کو پاگل پن سے افاقہ ہوجائے تو اُس کا کیا حکم ہے؟ آیا اُس کا فریضۂ حج ادا ہوچکا یا ذمہ میں ابھی بھی باقی ہے؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حامداً ومصلیاً ومسلماً، أما بعد!

مسجد الحرام کے اندر مصلے پر رکھی ہوئی ایک قدیم فقہی کتاب اور لکڑی کی تسبیح، جس کے پس منظر میں سنہری روشنی میں نہایا ہوا کعبہ شریف اور مسجد کے ستون نظر آ رہے ہیں۔
مسجد الحرام میں فقہ کی کتاب اور تسبیح کا ایک پرسکون منظر، جہاں پس منظر میں کعبہ شریف کی جھلک علم اور عبادت کے امتزاج کو ظاہر کر رہی ہے۔

حج کے فرض ہونے کے لیے عاقل اور بالغ ہونا بنیادی شرطوں میں سے ہے۔ جب کوئی نابالغ بچہ یا بچی یا ایسا شخص جو عقل و شعور سے محروم دیوانہ اور پاگل ہو، حج ادا کرتا ہے، تو پروردگار کے ہاں وہ عمل ضائع نہیں ہوتا بلکہ اُس کی دوڑ بھاگ اور نیت کی برکت سے اُسے بڑا ثواب حاصل ہوتا ہے، تاہم وہ حج ایک نفلی حج ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت میں حج کی فرضیت کا خطاب ان لوگوں سے ہے جو مکلف ہوں، اور مکلف ہونے کے لیے بلوغت اور عقل شرطِ اول ہے۔ کتاب "بدائع الصنائع" میں ہے: "مِنْهَا الْعَقْلُ فَلَا حَجَّ عَلَى الصَّبِيِّ، وَالْمَجْنُونِ؛ لِأَنَّهُ لَا خِطَابَ عَلَيْهِمَا فَلَا يَلْزَمُهُمَا الْحَجُّ." [ج: ۳، ص: ۴۴، ط: دار الکتب العلمیہ بیروت] (یعنی: حج کے فرض ہونے کی ایک شرط صاحبِ عقل ہونا ہے۔ لہٰذا نابالغ اور مجنون پر حج فرض نہیں ہے؛ اس لیے کہ وہ دونوں کسی شرعی حکم کے مخاطب نہیں بن سکتے، اِس وجہ سے اُن دونوں پر حج لازم نہیں ہے۔)

اگر کسی نابالغ نے ہوش مندی کے ساتھ حج کے ارکان ادا کیے یا اس کے ولی نے اُسے احرام باندھ کر اُس سے مناسک پورے کروائے، اور پھر وہ بچہ بالغ ہوگیا، تو اس پر واجب ہے کہ وہ صاحبِ استطاعت ہونے کی صورت میں اپنا فرض حج ادا کرے۔ بچپن میں کیا گیا حج اس کے ذمے سے فرض کو ساقط نہیں کرتا؛ کیونکہ فرضیت کا تعلق اُس وقت سے ہے جب وہ انسان مکمل طور پر احکامِ الٰہی کا مخاطب بن جائے۔ یہی حکم اس مجنون یا دیوانے شخص کا بھی ہے جسے حج کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مکمل صحت اور افاقہ عطا فرما دیا ہو۔ یعنی اگر افاقے کے بعد وہ صاحبِ استطاعت ہو، تو اسے اپنی زندگی کا باقاعدہ فرض حج نئے سرے سے کرنا ہوگا؛ کیونکہ حالتِ جنون میں اس کی عبادت نفل کے درجے میں تھی اور اس وقت وہ شرعی احکام کا مکلف نہیں تھا۔ کتاب "بدائع الصنائع" میں ہے: "لَوْ حَجَّا، ثُمَّ بَلَغَ الصَّبِيُّ، وَأَفَاقَ الْمَجْنُونُ فَعَلَيْهِمَا حَجَّةُ الْإِسْلَامِ، وَمَا فَعَلَهُ الصَّبِيُّ قَبْلَ الْبُلُوغِ يَكُونُ تَطَوُّعًا. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: أَيُّمَا صَبِيٍّ حَجَّ عَشْرَ حِجَجٍ ثُمَّ بَلَغَ فَعَلَيْهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ." [حوالۂ سابق] (یعنی: اگر نابالغ بچہ اور مجنون حج کرلیں، پھر وہ بچہ بالغ ہوجائے اور اُس مجنون کو افاقہ ہوجائے تو اُن دونوں پر (استطاعت کی صورت میں) حج فرض ہے۔ اور اُس بچہ نے بلوغ سے پہلے جو حج کیا تھا (اور ایسے ہی اُس مجنون نے بھی افاقہ سے پہلے جو حج کیا تھا) وہ نفل ہوگا۔ اور حضرت نبی (صلی اللہ علیہ و سلم) سے منقول ہے، آپؐ نے فرمایا کہ: نابالغ بچہ دس حج بھی کرلے، پھر وہ بالغ ہوجائے، تو اُس پر (استطاعت کی صورت میں) حج فرض ہے۔)

در اصل حج محض ایک جسمانی محنت والی عبادت ہی نہیں ہے، بلکہ وہ ساتھ ساتھ ایک عظیم روحانی اور مالی عبادت بھی ہے جو انسان کی پختگی اور ذمہ داری کے دور میں اس سے مطلوب ہے۔ نابالغ اور مجنون کی عبادت اللہ کے فضل سے مقبول تو ہوتی ہے لیکن اسے وہ مقامِ فرضیت حاصل نہیں ہوسکتا جو ایک عاقل و بالغ انسان کی شعوری ادائیگی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا، ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ جوانی یا صحت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس مبارک فریضے کی ادائیگی کی فکر کرے؛ تاکہ اس کے ذمے جو فرض حج ہے، وہ بحسن و خوبی ادا ہو جائے اور وہ بارگاہِ الٰہی میں سرخرو ہو سکے۔

خلاصہ یہ ہے کہ بلوغت اور عقل سے پہلے کیا گیا حج نفلی ہوتا ہے اور اُس کے بعد جب انسان شرعی طور پر صاحبِ استطاعت بن جائے، تو اسے مستقل طور پر ایک علیحدہ حج کرنا لازم ہوتا ہے جو اس کی زندگی کا اصل فرض حج تسلیم کیا جائےگا۔

(واللہ اعلم بالصواب)
============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے