(سوال): ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...
(مسئلہ):
اگر کوئی مسلمان لڑکا کسی غیر مسلم لڑکی سے نکاح کرنا چاہے، اور وہ لڑکی (نکاح کی غرض سے یا اپنی مرضی سے) اسلام قبول کر کے مسلمان ہو جائے، تو اس صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟ کیا ایسی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے؟ نیز، ایک مسلمان شوہر کے لیے اس لڑکی میں کن کن خوبیوں اور اوصاف کو پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان کی ازدواجی زندگی شرعی حدود کے مطابق گزر سکے؟
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جب کوئی غیر مسلم خاتون صدقِ دل سے اسلام قبول کر لیتی ہے اور توحید و رسالت کی گواہی دے دیتی ہے، تو وہ اسی لمحے سے ملتِ اسلامیہ کا حصہ بن جاتی ہے اور اس کے وہ تمام حقوق ثابت ہو جاتے ہیں جو ایک پیدائشی مسلمان خاتون کے ہوتے ہیں۔ ایسی خاتون سے کسی بھی مسلمان مرد کا نکاح شرعاً نہ صرف جائز ہے بلکہ اگر نیت اس خاتون کی دینی تربیت اور اسے کفر کے ماحول سے نکال کر ایمانی زندگی فراہم کرنا ہو، تو یہ عمل باعثِ اجر و ثواب بھی ہے۔ نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام شرعی تقاضے پورے کیے جائیں جو ایک مستند نکاح کے لیے لازم ہیں، جن میں ایجاب و قبول، دو گواہان کی موجودگی اور مہر کا تعین بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
قانونی اور انتظامی اعتبار سے اس طرح کے معاملات میں احتیاط برتنا نہایت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ شرعی طور پر نکاح کے درست ہونے کے ساتھ ساتھ، ملکی قانون (بالخصوص انڈیا کے تناظر میں) کے مطابق تبدیلئ مذہب کے قانونی دستاویزات، حلف نامہ (Affidavit) اور نکاح کا سرکاری رجسٹریشن کروالینا انتہائی ضروری ہےَ؛ تاکہ زوجین کے حقوق کا تحفظ ہوسکے اور کسی قانونی اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔ نکاح سے قبل اس بات کا یقین کر لینا بھی لازم ہے کہ خاتون نے کسی جبر یا دباؤ کے بغیر، محض اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کیا ہے؛ کیونکہ اسلام میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور قانونی طور پر بھی زبردستی کی تبدیلئ مذہب سنگین جرم کے زمرے میں آتی ہے۔
ایک مسلمان شوہر کے لیے نکاح کے بعد سب سے بڑی ذمہ داری اس نئی مسلمہ کی تربیت اور تالیفِ قلب ہے۔ شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی شریکِ حیات کے لیے ایک ہمدرد استاد اور بہترین رفیق کا کردار ادا کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی اہلیہ میں سب سے پہلے بنیادی عقائد، نماز، روزہ اور دیگر ضروری احکامِ دین کی رغبت پیدا کرے۔ یہ عمل انتہائی صبر، حکمت اور تدبر کا طالب ہے؛ کیونکہ ایک دم سے تمام شرعی پابندیاں لاگو کرنے کے بجائے بتدریج اور محبت کے ساتھ اسے دین کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شوہر کا اپنا اخلاق اور اس کا برتاؤ اتنا بلند ہونا چاہیے کہ اس خاتون کو عملی طور پر اسلام کی خوبصورتی کا مشاہدہ ہو سکے؛ کیونکہ نئی مسلمہ کے لیے اس کا شوہر ہی اسلام کا پہلا عملی نمونہ ہوتا ہے۔
ازدواجی زندگی کی کامیابی کے لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی اہلیہ کے اندر حیا، پردہ، شوہر کی اطاعت اور گھریلو ذمہ داریوں کے احساس جیسے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اسے چاہیے کہ وہ اسے ایسے دینی ماحول اور صحبت میں رکھے جہاں اسے دین سیکھنے کے مواقع ملیں اور وہ کفر و شرک کے سابقہ اثرات سے مکمل طور پر نکل سکے۔ شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے اور اسے وہ تمام عزت و احترام دے جس کی وہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے مستحق ہے۔ اگر شوہر عزم و استقلال اور حکمتِ عملی سے کام لے، تو یہ نکاح نہ صرف ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کی ضمانت بنے گا، بلکہ اس کے لیے صدقۂ جاریہ بھی ثابت ہوگا۔
(واللہ اعلم بالصواب)
=============================================
=============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں