نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

غیر مسلم بینکوں کے سود کا مسئلہ اور رہنمائی


(مسئلہ):

     میں نے ایک ویڈیو میں ایک عالمِ دین کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اگر کوئی بینک غیر مسلموں (خصوصاً ہندوؤں) کے زیرِ انتظام ہو یا اس کے مالکان ہندو ہوں، تو ایسے بینکوں میں جمع شدہ رقم پر ملنے والا اضافی منافع یا سود مسلمانوں کے لیے لینا جائز ہے۔
​     دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میں نے یہ بات درست سنی ہے؟ اور کیا شرعی طور پر غیر مسلموں کے بینکوں سے حاصل ہونے والے سود یا نفع کا حکم وہی ہے جو عام بینکوں کا ہے، یا اس میں کوئی استثنائی صورت موجود ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کی مکمل وضاحت فرما دیں تاکہ اطمینانِ قلب حاصل ہو سکے۔

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

     سود کی حرمت قرآن و سنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے اور اس پر پوری امتِ مسلمہ کا اجماع ہے کہ یہ ایک سنگین معصیت ہے جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے اعلانِ جنگ کیا گیا ہے۔

     جہاں تک غیر مسلموں کے زیرِ انتظام بینکوں سے حاصل ہونے والے نفع یا سود کا تعلق ہے، تو اس سلسلے میں فقہائے احناف کے قدیم متون میں ایک مخصوص بحث ملتی ہے، جس میں امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒ کی طرف سے ایک اِس طرح کا قول منقول ہے کہ دار الحرب میں مسلم اور حربی کے درمیان ربا (سود) کا تحقق نہیں ہوتا۔ اسی قول کی بنیاد پر بعض جدید دور کے علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ غیر مسلم ممالک یا ایسی جگہوں پر جہاں غیر مسلموں کا غلبہ ہو، وہاں کے بینکوں سے ملنے والا سود لیا جا سکتا ہے اور اسے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔ تاہم، اس مسئلے کی گہرائی میں جانے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ علمی بحث ہے اور موجودہ دور کے اکثر محقق علماء اور مفتیانِ کرام اس قول پر فتویٰ دینے میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں۔

​     موجودہ دور کے جلیل القدر فقہاء اور فتویٰ دینے والے بڑے اداروں (مثلاً دارالعلوم دیوبند اور دیگر عالمی فقہ اکیڈمیوں) کا موقف یہ ہے کہ عصرِ حاضر کے عالمی بینکنگ نظام میں مروجہ سود کی ہر شکل حرام ہے، چاہے وہ مسلم بینک ہو یا غیر مسلم۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آج کے دور میں ممالک کے درمیان جو معاہدات اور بین الاقوامی قوانین موجود ہیں، ان کی موجودگی میں دار الحرب کی وہ قدیم فقہی تعریف اور اس پر مرتب ہونے والے احکام کا منطبق ہونا بہت مشکل ہے۔ مزید یہ کہ سود کی حرمت کے بارے میں قرآنِ مجید کے احکام عام ہیں جن میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے۔ لہٰذا، محض ایک ضعیف قول یا مخصوص حالات کے لیے دی گئی رعایت کو عام قاعدہ بنا لینا دین کے مجموعی مزاج اور تقویٰ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ مالِ حرام کا اثر انسان کی عبادتوں، دعاؤں اور اخلاقیات پر پڑتا ہے، اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی آمدنی کو ہر قسم کے شبہ سے پاک رکھے۔

ایک علامتی تصویر جو بینک کے سود اور اسے صدقہ کرنے کے شرعی حکم کو ترازو اور امدادی عمل کے ذریعے واضح کرتی ہے، تاکہ مال پاک ہو سکے
بینک سود کا شرعی حل: سود کی رقم کو اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے ثواب کی نیت کے بغیر فقراء اور مساکین میں تقسیم کرنے کی فقہی وضاحت

​     اس مسئلے کا حکیمانہ حل یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری (مثلاً رقم کی حفاظت) کے تحت ایسے بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنا پڑے جہاں سود مل رہا ہو، تو اس سود کی رقم کو بینک میں چھوڑنے کے بجائے وہاں سے نکال لینا چاہیے؛ تاکہ وہ رقم غیر مسلموں کے دیگر مفادات میں استعمال نہ ہو۔ لیکن اس نکالی گئی رقم کو اپنی ذات، گھر والوں یا کاروبار پر خرچ کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ بلکہ شرعی حکم یہ ہے کہ اس رقم کو بغیر ثواب کی نیت کے فقراء، مساکین یا رفاہی کاموں میں خرچ کر دیا جائے۔ یہ طریقہ نہ صرف انسان کے اپنے مال کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ اس سے اس فتنے کے دروازے کو بھی بند کیا جاسکتا ہے جہاں لوگ دنیاوی مفاد کے لیے ضعیف اقوال کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ ایک عالمِ دین اور مفتی کی شان یہ ہے کہ وہ اِس قسم کے معاملات میں عوام کو رخصت کے بجائے عزیمت اور تقویٰ کا راستہ دکھائے؛ تاکہ مسلمانوں کا مالی وقار اور ایمانی شفافیت برقرار رہے۔

​(واللہ اعلم بالصواب)


============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غسلِ احرام کے بعد اگر سِلے ہوئے کپڑے پہن لیے تو کیا غسل دوبارہ کرنا ہوگا؟

  (مسئلہ):      مجھے عمرے کے لیے احرام باندھنا تھا، اس کے لیے میں نے غسل بھی کر لیا تھا، لیکن چونکہ مغرب کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، تو میں نے جلدی میں نارمل (سِلے ہوئے) کپڑے ہی پہن کر مغرب کی نماز ادا کر لی (کیوں کہ احرام کو اچھی طرح سیٹ کر کے باندھنے میں مجھے تھوڑا وقت لگتا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا احرام باندھنے کے لیے مجھے دوبارہ غسل کرنا ہوگا یا وہی پہلے والا غسل کافی ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      اس معاملے میں آپ مکمل اطمینان رکھیں کہ مغرب سے پہلے کیا گیا آپ کا غسل شرعی طور پر بدستور کارآمد ہے اور احرام کی نیت کے لیے آپ پر دوبارہ غسل کرنا ہرگز لازم نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احرام سے قبل غسل کرنا ایک مسنون عمل ہے جس کی حیثیت "شرط" کی نہیں بلکہ ایک مستحب تیاری کی ہے، جس کا منشاء جسمانی میل کچیل دور کرنا اور تازگی حاصل کرنا ہے، جسے فقہی اصطلاح میں "للنظافۃ" (صفائی کے لیے) کہا جاتا ہے نہ کہ "للطہارۃ" (پاکی حاصل کرنے کے لیے)۔ چونکہ آپ نے ابھی کچھ دیر قبل ہی غسل کیا تھا اور درمیان میں صرف مغرب کی نماز کا وقفہ آیا ہے جس میں آپ نے س...

انتقال کے بعد کھانے کی دعوت اور رسمی قرآن خوانی: ایک متوازن رہنمائی

(مسئلہ):      معاشرے میں ایک رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اُس کے اہلِ خانہ ایصالِ ثواب کی نیت سے فوراً اگلے دن یا تیجہ وغیرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں قریبی رشتہ دار اور دیگر متعلقین شریک ہوتے ہیں۔ شرعی نقطۂ نظر سے غم کے موقع پر سوگوار خاندان کی طرف سے اِس طرح کی دعوت کا کیا حکم ہے؟ نیز ایصالِ ثواب کی ایک دوسری رائج صورت یہ بھی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو بلا کر اجتماعی قرآن خوانی کروائی جاتی ہے یا مدرسہ میں ہی ختمِ قرآن کروا کر اُن کی طعام و نقود سے تواضع کی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہے اور کیا اِس طرح پڑھوانے سے میت کو ثواب پہنچتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غم، ہر موقع پر انسانی فطرت اور نفسیات کی رعایت رکھتے ہوئے احکام وضع کیے ہیں؛ تاکہ لوگ افراط و تفریط سے بچے رہیں۔      جہاں تک میت کے اہل خانہ کی جانب سے انتقال کے فوراً بعد یا اگلے دن یا تیجہ و چالیسواں کے نام پر برادری اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام اور محدثین نے ...

مرحوم بےاولاد چچا کی وراثت کی تقسیم: بیوہ، بہن اور بھائیوں کے ساتھ بھتیجوں کی بھی موجودگی کی صورت میں

(مسئلہ):     ایک صاحب نے دریافت کیا ہے کہ  میرے دادا کا انتقال 1965ء میں ہوا، ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑے بیٹے کا انتقال 2010ء میں ہوا جن کے تین بچے ہیں۔ سب سے چھوٹے چچا کا انتقال 2020ء میں ہوا اور ان کی بیوہ کا بھی حال ہی میں انتقال ہو گیا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم لاولد چچا کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا ان کے باقی ماندہ تین بھائیوں اور فوت شدہ بھائی کے بچوں (بھتیجوں) کے درمیان تقسیم ہوگی یا کوئی اور حکم ہے؟ (( [نوٹ]: یہ سوال واٹس ایپ کے ایک گروپ میں بذریعہ  ٹیکسٹ  موصول ہوا تھا، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ضروری نوک پلک سنوارنے کے بعد معمولی لفظی تبدیلیوں کے ساتھ یہاں پیش کیا گیا ہے۔)) (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ سے توفیق مانگتے ہوئے، اِس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ:     پوچھی گئی  صورت میں چوں کہ مرحوم چچا بے اولاد تھے، لہذا قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق ان کی بیوہ کا حصہ کل جائیداد میں ایک چوتھائی (1/4) مقرر ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: " وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُ...