(مسئلہ):
(رہنمائی):
سود کی حرمت قرآن و سنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے اور اس پر پوری امتِ مسلمہ کا اجماع ہے کہ یہ ایک سنگین معصیت ہے جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے اعلانِ جنگ کیا گیا ہے۔
جہاں تک غیر مسلموں کے زیرِ انتظام بینکوں سے حاصل ہونے والے نفع یا سود کا تعلق ہے، تو اس سلسلے میں فقہائے احناف کے قدیم متون میں ایک مخصوص بحث ملتی ہے، جس میں امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒ کی طرف سے ایک اِس طرح کا قول منقول ہے کہ دار الحرب میں مسلم اور حربی کے درمیان ربا (سود) کا تحقق نہیں ہوتا۔ اسی قول کی بنیاد پر بعض جدید دور کے علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ غیر مسلم ممالک یا ایسی جگہوں پر جہاں غیر مسلموں کا غلبہ ہو، وہاں کے بینکوں سے ملنے والا سود لیا جا سکتا ہے اور اسے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔ تاہم، اس مسئلے کی گہرائی میں جانے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ علمی بحث ہے اور موجودہ دور کے اکثر محقق علماء اور مفتیانِ کرام اس قول پر فتویٰ دینے میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں۔
موجودہ دور کے جلیل القدر فقہاء اور فتویٰ دینے والے بڑے اداروں (مثلاً دارالعلوم دیوبند اور دیگر عالمی فقہ اکیڈمیوں) کا موقف یہ ہے کہ عصرِ حاضر کے عالمی بینکنگ نظام میں مروجہ سود کی ہر شکل حرام ہے، چاہے وہ مسلم بینک ہو یا غیر مسلم۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آج کے دور میں ممالک کے درمیان جو معاہدات اور بین الاقوامی قوانین موجود ہیں، ان کی موجودگی میں دار الحرب کی وہ قدیم فقہی تعریف اور اس پر مرتب ہونے والے احکام کا منطبق ہونا بہت مشکل ہے۔ مزید یہ کہ سود کی حرمت کے بارے میں قرآنِ مجید کے احکام عام ہیں جن میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے۔ لہٰذا، محض ایک ضعیف قول یا مخصوص حالات کے لیے دی گئی رعایت کو عام قاعدہ بنا لینا دین کے مجموعی مزاج اور تقویٰ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ مالِ حرام کا اثر انسان کی عبادتوں، دعاؤں اور اخلاقیات پر پڑتا ہے، اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی آمدنی کو ہر قسم کے شبہ سے پاک رکھے۔
بینک سود کا شرعی حل: سود کی رقم کو اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے ثواب کی نیت کے بغیر فقراء اور مساکین میں تقسیم کرنے کی فقہی وضاحت اس مسئلے کا حکیمانہ حل یہ ہے کہ اگر کسی مجبوری (مثلاً رقم کی حفاظت) کے تحت ایسے بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنا پڑے جہاں سود مل رہا ہو، تو اس سود کی رقم کو بینک میں چھوڑنے کے بجائے وہاں سے نکال لینا چاہیے؛ تاکہ وہ رقم غیر مسلموں کے دیگر مفادات میں استعمال نہ ہو۔ لیکن اس نکالی گئی رقم کو اپنی ذات، گھر والوں یا کاروبار پر خرچ کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ بلکہ شرعی حکم یہ ہے کہ اس رقم کو بغیر ثواب کی نیت کے فقراء، مساکین یا رفاہی کاموں میں خرچ کر دیا جائے۔ یہ طریقہ نہ صرف انسان کے اپنے مال کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ اس سے اس فتنے کے دروازے کو بھی بند کیا جاسکتا ہے جہاں لوگ دنیاوی مفاد کے لیے ضعیف اقوال کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ ایک عالمِ دین اور مفتی کی شان یہ ہے کہ وہ اِس قسم کے معاملات میں عوام کو رخصت کے بجائے عزیمت اور تقویٰ کا راستہ دکھائے؛ تاکہ مسلمانوں کا مالی وقار اور ایمانی شفافیت برقرار رہے۔
(واللہ اعلم بالصواب)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں