کیا سوشل میڈیا پر بے پردہ خواتین والے اشتہارات چلا کر پیسے کمانا جائز ہے؟


(سوال):

    ایک نوجوانوں کا گروپ Instagram پر مختلف کمپنیوں کے اشتہارات شائع کرتا ہے اور اس کے عوض معاوضہ لیتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے ایسی ویڈیوز بھیجتی ہیں جن میں بے پردہ یا نیم عریاں غیر محرم خواتین موجود ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسی ویڈیوز کو اپنے اکاؤنٹ پر شائع کرکے اشتہاری خدمات انجام دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے یا حرام؟

(رہنمائی):

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حامداً ومصلیاً ومسلماً، أما بعد!
ایک نوجوان مسلمان ڈیجیٹل مارکیٹر لیپ ٹاپ پر بیٹھا ہے، جس کی سکرین پر بے پردہ اور غیر شرعی مواد کو مسترد (Reject) اور حلال و پاکیزہ مصنوعات کی مارکیٹنگ کو منظور (Approve) کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں شرعی حدود: ایک مسلمان مارکیٹر غیر شرعی مواد کو مسترد اور پاکیزہ اشتہارات کا انتخاب کرتے ہوئے

شرعی حکم

    اصولی طور پر کسی بھی حلال اور جائز پروڈکٹ یا سروس کی تشہیر (Marketing/Advertisement) کرنا اور اس کام پر طے شدہ اجرت (معاوضہ) لینا درست ہے، اور جو کام خود جائز نہ ہو، اُس کام پر اُجرت لینا بھی درست نہیں ہے۔ تشہیر کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا طریقۂ کار بھی صحیح اصولوں کے مطابق ہو۔ لہٰذا جن اشتہارات (ویڈیوز یا تصاویر) میں نامحرم خواتین بلا کسی شرعی ضرورت کے، بے پردہ یا نامناسب انداز میں ظاہر کی گئی ہوں، ان کی تشہیر کرنا ناجائز ہے۔

    قرآنِ مجید کی سورۃ النور، آیت نمر: ۳۰ میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو غَضِ بصر (اپنی نگاہیں نیچی رکھنے) کا حکم دیا ہے، سورۃ المائدہ، آیت نمبر: ۲ میں گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرنے کا حکم دیا ہے، سورۃ الأحزاب، آیت نمبر: ۱۹ میں معاشرے میں بے حیائی کو پھیلانے والوں کے لیے درد ناک عذاب کی سخت وعید سنائی ہے، اور صحیح مسلم کی حدیث نمبر: ۱۰۱۷ میں حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) نے بےحیائی پھیلانے کا ذریعہ اور سبب بننے والے شخص کو اُس گناہ میں برابر کا شریک قرار دیا ہے۔ لہٰذا جو ویڈیوز بے پردہ یا نیم برہنہ خواتین پر مشتمل ہوں، اُنہیں دیکھنا یا دوسروں تک پہنچانا درست نہیں ہے؛ کیونکہ خود ان ویڈیوز کو دیکھنا نگاہوں کی حفاظت کے قرآنی حکم کے خلاف ہے اور اُنہیں اپنے پلیٹ فارم پر شائع کرنا لاکھوں لوگوں تک فتنے اور فحاشی کو پہنچانے کا سبب بننا ہے، جو کہ گناہ پر معاونت بھی ہے اور دردناک عذاب کا باعث بھی۔ نیز عموماً ایسی ویڈیوز میں پس منظر (Background) میں موسیقی بھی ہوتی ہے، جو کہ ایک مزید مستقل شرعی ممانعت ہے۔

آمدنی کا حکم

    اب کسی جائز پروڈکٹ یا سروس کے لیے کمپنیوں ایسے اشتہارات جن میں کوئی خرابی، یعنی غیر شرعی چیز (مثلاً: خواتین کی نمائش، موسیقی، جھوٹ، یا کسی حرام چیز کی تشہیر) شامل نہ ہو، ان اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی بالکل حلال اور پاکیزہ ہے۔ البتہ، وہ مخصوص اشتہارات جن میں نامحرم خواتین کی نمائش کی گئی ہو، چونکہ اس عمل (Service) میں گناہ کا ارتکاب ہے، اس لیے اس مخصوص تشہیر سے حاصل ہونے والی آمدنی طیب (پاکیزہ) نہیں ہے۔ ایسی آمدنی کراہتِ تحریمی کے زمرے میں آتی ہے۔ لہٰذا جتنا معاوضہ خالصتاً ایسے غیر شرعی اشتہارات چلانے کے عوض حاصل ہوا ہے، اس کا استعمال اپنے ذاتی طعام و قیام وغیرہ میں کرنا درست نہیں ہے۔ اور وبال سے بچنے کے لیے اس رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر (صدقۂ واجبہ کے طور پر) غریبوں اور مستحقین میں تقسیم کرنا لازم ہے۔

عملی حل

    ان نوجوانوں کو رہنمائی اور عملی مشورہ یہ ہے کہ انہیں اپنا یہ کاروبار بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اسے پاکیزہ بنانے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا وہ کمپنیوں سے معاہدہ کرتے وقت یہ شرط ضرور رکھا کریں کہ وہ صرف ایسے اشتہارات چلائیں گے جو اخلاقی اور شرعی دائرے میں ہوں، ایسے اشتہارات قبول کرنے سے صاف انکار کردیں جن کی تصاویر یا ویڈیوز میں بے پردہ خواتین ہوں، چاہے معاوضہ کتنا ہی پُرکشش کیوں نہ ہو۔ معاہدے میں اِس طرح کی شق بھی صاف طور پر شامل کریں کہ اگر کمپنی کوئی ایسی ویڈیو بھیجے جس میں خواتین شامل ہوں، تو وہ ایڈیٹنگ کے ذریعے اس حصے کو کاٹ دیں گے (Trim کردیں گے)، یا کم از کم خواتین کے چہروں اور جسم کو دھندلا (Blur) کر کے اور موسیقی ہٹا کر وائس اوور (Voice-over) لگا کر پوسٹ کریں گے، اگر کمپنی کو یہ منظور ہو تو ٹھیک، ورنہ اپنے پلیٹ فارم سے اُن کی تشہیر سے انکار کردیں۔ اور اگر انہوں نے سابق میں ایسی آمدنی حاصل کی ہو تو اُسے بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں پر صدقہ کر دیں۔ اور آئندہ وہ صرف اُن اشتہارات تک اپنی خدمات محدود رکھیں جن کا مواد پاکیزہ ہو۔ اللہ تعالیٰ سے حلال رزق مانگیں، قرآنِ مجید کی سورۃ الطلاق، آیت نمبر: ۲ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی زندگی کے تمام امور و معاملات میں تقویٰ والوں کے لیے راستہ نکالنے اور بے گمان جگہوں سے رزق عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔

     اِس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص اللہ کی خاطر کوئی غلط کام چھوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتے ہیں۔ اور حلال روزی کی برکت دنیا اور آخرت دونوں میں نصیب ہوتی ہے، جبکہ حرام کمائی میں بظاہر نفع دکھائی دے لیکن وہ وقتی اور عارضی ہوتا ہے اور اُس کا انجام نقصاندہ ہی ہوتا ہے۔

     خلاصہ یہ کہ مصنوعات حلال ہوں تو کام جائز ہے، لیکن بے پردگی اور موسیقی والا اشتہار گناہ ہے، جس کی آمدنی صدقہ کرنا لازم ہے۔

(واللہ اعلم بالصواب.)

============================================= =============================================
(کچھ ضروری باتیں)
  • یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
  • اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
  • آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "سوال پوچھیں" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
  • اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں. اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے