اجتماعی قربانی میں وکیل کے نفع کے حوالے سے شرعی حدود کیا ہیں؟


    السلام علیکم! ہمارے علاقے میں اجتماعی قربانی کی ایک مروجہ صورت یہ بھی چل رہی ہے کہ ادارے والے بعض حضرات کو کچھ مخصوص رقم (مثلاً 7000) اس بات کی صراحت کے ساتھ حوالے کر دیتے ہیں کہ اس رقم میں سے ہماری مطلوبہ شرائط (مثلاً جانور کا وزن کم از کم 40 کلو ہو، عمر کم از کم دو سال ہو وغیرہ) کے مطابق جانور خرید کر باقی آپ جتنا نفع رکھیں، اس کی آپ کو اجازت ہے، جانور چاہے آپ 4000 میں خریدیں، 3000 میں خریدیں یا اس سے بھی کم میں۔ 
    کیا یہ صورت جائز ہوگی،جب کہ اس میں اجرت مجہول ہوتی ہے، کیا عرف کی وجہ سے اس مجہول اجرت کو معلوم و متعین مان کر اسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟
=====

ایک علمی اور فقہی ماحول کی عکاسی کرتی تصویر جس میں بائیں جانب روایتی اسلامی لباس اور پگڑی پہنے ایک مفتی یا عالمِ دین بغیر چہرے کے مہروں (ناک، نقشہ اور آنکھوں) کے میز پر کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ پسِ منظر میں کتابوں کی الماری موجود ہے۔ دائیں جانب ایک خوبصورت فریم کے اندر نستعلیق خط میں 'قربانی میں شرعی رہنمائی' اور دیگر وضاحتی اردو تحریر لکھی ہوئی ہے۔
اجتماعی قربانی جیسے اہم اور نازک عمل میں درپیش جدید مالی و انتظامی معاملات کو، اسلامی رہنمائی کی روشنی میں انجام دینے کی ضرورت کو ظاہر کرتی تصویر۔

    وعلیکم السلام! اجتماعی قربانی کے مروجہ طریقوں میں شفافیت اور شرعی احکام کی پاسداری نہایت ضروری ہے؛ کیونکہ قربانی محض ایک مالی معاملہ نہیں ہے، بلکہ ایک اہم ترین بدنی و مالی عبادت ہے۔ آپ نے جس صورتِ حال کا ذکر کیا ہے، وہ ایک اہم شرعی مسئلے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ذیل میں اس معاملے کی شرعی حیثیت، اس کی خامیاں اور اس کا درست متبادل پیش کیا جا رہا ہے۔

مسئلہ کی بنیاد اور اصولی موقف

    جب کوئی ادارہ یا فرد کسی دوسرے شخص کو رقم دے کر جانور خریدنے کا پابند کرتا ہے، تو یہ "وکالت" (Agency) کا معاملہ ہوتا ہے، جس میں رقم دینے والا "مؤکل" اور خریدنے والا "وکیل" ہوتا ہے۔ اگر اس خدمت پر کوئی اجرت طے کی جائے تو یہ "وکالت بالاجرت" کا عقد بن جاتا ہے، جس میں اجرتِ کار کا پہلے سے معلوم اور متعین ہونا شرطِ لازم ہے۔ خرید و فروخت اور اجارہ داری کے معاملات میں ہر ایسی جہالت (مبہم بات) منع ہے جو بعد میں جھگڑے یا ناانصافی کا باعث بنے۔

    مذکورہ صورت میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ "باقی رقم تمہارا نفع ہے، چاہے جانور کتنے ہی میں ملے"، تو یہاں وکیل کی اجرت بالکل مجہول (نامعلوم) رہ جاتی ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اسے اجرت کے طور پر ایک ہزار روپے ملیں گے، تین ہزار ملیں گے یا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ ایسی مجہول اجرت پر عقد کرنا فاسد ہوتا ہے، اس لیے محض اس جملے کی بنیاد پر یہ معاملہ کرنا درست نہیں ہے۔

اجرت میں جہالت اور اس کے مفاسد

    اس معاملے کے درست نہ ہونے کی ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اس میں مؤکل اور وکیل کے مفادات میں براہِ راست ٹکراؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ امانت دار (وکیل) کو اپنے مؤکل کی خیر خواہی کرنی چاہیے، لیکن اس مروجہ طریقے میں وکیل کی پوری کوشش بظاہر یہی ہوگی کہ وہ کم سے کم قیمت کا اور ہلکے سے ہلکا جانور خریدے؛ تاکہ اس کا اپنا نفع زیادہ سے زیادہ ہو سکے۔ اگرچہ ادارے نے وزن اور عمر کی کم از کم شرطیں لگا دی ہیں، لیکن جانوروں کی صحت، خوبصورتی اور معیار میں بڑا فرق ہوتا ہے۔

    اس طریقے سے، قربانی جیسے عظیم الشان شعار کی روح متاثر ہوتی ہے؛ کیونکہ وکیل زیادہ نفع کمانے کی لالچ میں معیار پر سمجھوتہ کرسکتا ہے، جو کہ قربانی کے جذبے (کہ بہترین اور عمدہ جانور بارگاہِ الٰہی میں پیش کیا جائے) کے منافی ہے۔ لہٰذا، ایسی مبہم شرط لگانا جس میں ایک فریق کا فائدہ دوسرے کے نقصان یا عبادت کے معیار کے گرنے سے جڑا ہو، ممنوع ہے۔

عرف اور رواج کی حیثیت

    آپ کا یہ سوال نہایت بصیرت افروز ہے کہ کیا موجودہ دور کے عرف (رواج) کی وجہ سے اس مجہول اجرت کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ عرف اور تعامل کو صرف ان جگہوں پر قبول کیا جاسکتا ہے جہاں کوئی واضح اور قطعی حکم متاثر نہ ہو رہا ہو، یا جہاں جہالت بہت معمولی ہو جس سے جھگڑے کا اندیشہ نہ ہو۔

    موجودہ صورت میں جو جہالت ہے، وہ "جہالتِ فاحشہ" (بڑی جہالت) کے زمرے میں آتی ہے؛ کیونکہ نفع کی مقدار کا تعین مکمل طور پر مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور وکیل کی چالبازی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسا عرف جو شریعت کے بنیادی اصول (اجرت کا معلوم ہونا) سے ٹکراتا ہو اور جس میں خریدار یا قربانی کرنے والوں کی حق تلفی کا واضح اندیشہ ہو، وہ "عرفِ فاسد" (غلط رواج) ہے۔ ایسے رواج کی وجہ سے کسی فاسد معاملے کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا، بلکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے عرف کو شریعت کے تابع کریں۔

معاملے کو درست کرنے کی متبادل صورتیں

    اگر ادارے اور وہ حضرات اس معاملے کو بالکل حلال اور طیب طریقے سے کرنا چاہتے ہیں، تو اس کے دو آسان اور متبادل راستے ہوسکتے ہیں، جن پر عمل کرنے سے یہ معاملہ بغیر کسی کراہت کے درست ہوسکتا ہے۔

    پہلی اور زیادہ پسندیدہ صورت یہ ہے کہ ادارے والے اس شخص کو خریدنے کا وکیل ہی بنائیں، لیکن اس کی اجرت پہلے سے بالکل متعین کردیں۔ مثلاً اس سے کہیں کہ آپ ہمارے لیے ان شرائط کے مطابق جانور خریدیں، اس خدمت کے عوض ہم آپ کو فی جانور ایک ہزار روپے (یا جو بھی مناسب رقم ہو) اجرت دیں گے۔ جانور جتنے میں بھی خریدیں گے، اس کی اصل رسید یا قیمت ادارے کو دینا ہوگی اور باقی رقم ادارے کو واپس کرنا ہوگی۔ اس طرح اجرت معلوم ہو جائے گی اور معاملہ شرعاً بالکل صاف ستھرا ہو جائے گا۔

    دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ معاملے کی نوعیت کو "وکالت" کے بجائے "بیع" (خرید و فروخت) میں تبدیل کردیا جائے۔ ادارہ اس شخص سے کہے کہ ہمیں اس معیار اور ان شرائط کا جانور اتنی رقم (مثلاً 7000) میں درکار ہے۔ وہ شخص پہلے مارکیٹ سے اپنے پیسوں سے یا اپنے رسک پر وہ جانور خریدے، جب جانور اس کی ملکیت اور قبضے میں آجائے، تو وہ ادارہ کو وہ جانور سات ہزار روپے میں بیچ دے۔ اس صورت میں وہ شخص وکیل نہیں بلکہ "بائع" (بیچنے والا) ہوگا، اور ایک تاجر کی حیثیت سے وہ مناسب حد تک جتنا چاہے نفع کما سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مطلوبہ شرائط کا جانور فراہم کرے۔ اس متبادل طریقے سے دونوں فریقین کا مقصد بھی حاصل ہو جائے گا اور معاملہ قباحتوں سے بھی پاک رہے گا۔ (واللہ اعلم!)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے