قرآنِ کریم کو حفظ کرنے کے بعد
اسے یاد رکھنا اور بھولنے سے بچانے کی فکر کرنا ایک انتہائی مستحسن اور قابلِ
ستائش جذبہ ہے۔ ایک عمر دراز خاتون کا اپنے حفظ کو برقرار رکھنے کے لیے دور کا
اہتمام کرنا ان کی دین داری اور کلامِ الٰہی سے سچی محبت کی دلیل ہے۔ اِس سلسلے
میں کسی غیر محرم مرد کو قرآن سنانے کے حوالے سے رہنمائی ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔
عورت کی آواز
عورت کی عام اور سادہ آواز بذاتِ خود ستر (چھپانے کی چیز) نہیں ہے،
یہی وجہ ہے کہ ضرورت کے وقت پردے کے پیچھے سے نامحرم مرد سے گفتگو کی اجازت ہے۔ لیکن اجنبی مردوں کے سامنے آواز کو خوبصورت بناکر پیش کرنا، یا تلاوتِ
قرآن کے مخصوص لب و لہجہ، ترنم اور لچک کے ساتھ پڑھنا فتنہ کے خوف کی وجہ سے ممنوع ہے۔ ایک جوان خاتون کے لیے تو نامحرم مردوں کے سامنے بلند آواز سے قرآنِ پاک
پڑھنے کی سخت ممانعت ہے؛ کیونکہ اِس صورت میں نفسانی میلان اور فتنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
عمر رسیدہ خاتون کے لیے رخصت کا پہلو
جہاں تک معاملہ ایک عمر دراز
اور بوڑھی خاتون کا ہے، تو عمر کے اس حصے میں فتنہ کا اندیشہ ختم
یا انتہائی کم ہوجانے کی وجہ سے معاملہ میں کچھ حد تک نرمی ہے۔ اگر وہ خاتون
اتنی بڑی عمر کی ہیں کہ اب ان کی طرف کسی قسم کے فتنے یا نفسانی جھکاؤ کا کوئی
احتمال باقی نہیں رہا، تو حفظِ قرآن کو بھولنے سے بچانے کی اہم ترین ضرورت کے
پیشِ نظر، وہ کسی دین دار، متقی اور اچھے اخلاق کے حامل غیر محرم قاری یا عالم کو اپنا قرآن سنا سکتی ہیں۔ ضرورت کے مواقع پر اِس طرح کی استثنائی
گنجائشیں ہوتی ہیں۔
ضروری حدود اور شرطیں
اس اجازت سے فائدہ اٹھانے کے
لیے کچھ شرطوں کا لحاظ رکھنا لازم ہے؛ تاکہ تقویٰ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ تلاوت کے دوران آواز میں کسی قسم کا تصنع، بناوٹ، لچک یا
ترنم پیدا نہ کیا جائے، بلکہ صرف الفاظ کی درستی اور یادداشت کی جانچ کے مقصد سے
بالکل سیدھے، سادہ اور سنجیدہ انداز میں پڑھا جائے۔ دوسری اہم شرط یہ ہے کہ یہ
پورا عمل کسی موٹے پردے یا حجاب کے پیچھے سے ہو، یعنی آمنے سامنے بیٹھنے کے بجائے
درمیان میں اوٹ کا ہونا ضروری ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی یقینی بنائی جائے
کہ وہاں خلوتِ صحیحہ یعنی تنہائی کی صورت بالکل نہ بنے، بلکہ گھر کا کوئی اور فرد
یا کم از کم سننے والے کے ساتھ ایک تیسرا شخص وہاں ضرور موجود رہے۔
موجودہ دور کے لحاظ سے حکیمانہ اور محتاط متبادل
اگرچہ شدید ضرورت اور مذکورہ شرطوں کے ساتھ یہ گنجائش ہے، لیکن موجودہ دور میں تقویٰ، احتیاط
اور دل کے اطمینان کا تقاضا کچھ اور ہے۔ آج کے دور میں الحمد للہ ایسے متعدد
متبادل اور سہولیات میسر ہیں جن کی موجودگی میں غیر محرم مرد کو سنانے کی حاجت
باقی نہیں رہتی۔ سب سے بہتر اور پسندیدہ طریقہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں کسی
محرم (جیسے بیٹا، بھائی، شوہر، پوتا یا نواسا وغیرہ) کو سنائیں اگر وہ حافظ ہوں،
یا پھر کسی مستند اور ماہرِ قرآن مسلم خاتون (حافظہ یا قاریہ) سے رابطہ قائم کرکے
ان کے ساتھ دور کا سلسلہ شروع کریں۔
اِس کے علاوہ، موجودہ دور کی جدید ٹیکنالوجی نے اس الجھن کو مزید آسان کر دیا ہے۔ وہ خاتون مثلاً اسمارٹ فون پر کسی اچھے قاری کی تلاوت چلاکر اس کے ساتھ ساتھ پڑھ سکتی ہیں، یا اپنی تلاوت کو فون میں ریکارڈ کرکے خود سن سکتی ہیں؛تاکہ اپنی غلطیوں کی خود ہی نشاندہی کر سکیں۔ لہٰذا، حکمت اور مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ حتی الامکان پہلے ان متبادل ذرائع کو اختیار کرنے کی کوشش کی جائے، اور اگر کوئی بھی متبادل راستہ ممکن نہ ہو اور حفظ بھول جانے کا قوی اندیشہ ہو، تبھی شدید ضرورت کے تحت پردے کے پیچھے سے سادہ آواز میں کسی معتمد غیر محرم کو سنایا جائے۔

0 تبصرے