کیا غصے یا ڈرانے کے لیے، شرط پر معلق کرکے دی گئی صریح طلاق کی دھمکی سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

     ایک شخص (زید) نے اپنی بیوی (خالدہ) کو ناپسندیدہ لوگوں کے ساتھ مخفی مالی معاملات کرنے پر تنبیہ اور خوف زدہ کرنے کے ارادے سے یہ جملہ کہا: "جب تک یہ معاملہ برقرار رہے گا، تب تک میں تم سے صحبت نہیں کروں گا، اور اگر صحبت کروں گا تو تم پر طلاق پڑ جائے گی"۔ شوہر اس وقت یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ معاملہ صرف دو ماہ تک چلے گا اور اس کی نیت بھی اتنی ہی مدت کے لیے صحبت سے رکنے کی تھی، جبکہ حقیقت میں وہ معاملہ چار ماہ کا تھا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا طلاق کو صحبت پر معلق کرنے اور شوہر کے طلاق کا پختہ ارادہ نہ ہونے (صرف ڈرانے کی نیت ہونے) کے باوجود، مذکورہ مدت (خواہ دو ماہ ہو یا چار ماہ) کے اندر صحبت کرنے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ اور شوہر کی مدت سے متعلق غلط فہمی کا اس معاملے پر کیا اثر پڑے گا؟


ایک قدیم اسلامی کتب خانے کا منظر، جہاں لکڑی کی میز پر چمڑے کی جلد والی ضخیم فقہی کتب (کتبِ فتاویٰ) رکھی ہیں جن پر سنہری عربی خطاطی نمایاں ہے۔ میز پر ایک کھلا ہوا رجسٹر، روایتی قلم، دوات اور تسبیح موجود ہے، اور پسِ منظر میں کتابوں سے بھری الماریاں اور ایک محراب دار کھڑکی نظر آ رہی ہے جس سے ہلکی روشنی چھن کر آ رہی ہے۔
اسلامی کتب، قلم اور دوات سے سجی ایک روایتی اسلامی کتب خانے کی میز، جہاں سے گویا مسائل کے حکیمانہ حل تلاش کیے جاتے ہیں۔

     یہ معاملہ طلاق کو شرط پر معلق کرنے (تعلیقِ طلاق) اور اس میں شوہر کی نیت و غلط فہمی کے اثرات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بارے میں رہنمائی ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔

طلاق کو شرط پر معلق کرنا

     جب طلاق کو کسی شرط پر معلق کر دیا جائے، تو جیسے ہی وہ شرط پائی جائے گی، طلاق فوراً واقع ہو جائے گی۔ اس معاملے میں شوہر کا یہ کہنا کہ "اگر میں صحبت کروں گا تو تم پر طلاق پڑ جائے گی" تعلیقِ طلاق کہلاتا ہے، جس میں صحبت کو طلاق کے وقوع کے لیے شرط بنایا گیا ہے۔ طلاق کی تعلیق بالکل معتبر اور لازم ہوتی ہے، اس لیے جیسے ہی شوہر اپنی بیوی سے صحبت کرے گا، شرط پوری ہوتے ہی یہاں طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی۔

ڈرانے اور دھمکانے کی نیت کا اثر

     انسانی نفسیات اور خاندانی جھگڑوں میں عام طور پر شوہر طلاق کا لفظ بیوی پر رعب جمانے یا اسے کسی کام سے روکنے کے لیے بولتے ہیں۔ سوال میں ہے کہ زید کا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا، بلکہ وہ صرف بیوی کو ڈرانا اور اس کے اندر خوف پیدا کرنا چاہتا تھا۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ طلاق کے واضح اور صریح الفاظ (جیسے "طلاق پڑ جائے گی") میں شوہر کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص ہنسی مذاق، غصے، یا صرف ڈرانے دھمکانے کے لیے بھی طلاق کے صریح الفاظ کو کسی شرط سے جوڑ دیتا ہے، تو اسے محض دھمکی کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا، بلکہ شرط پوری ہونے پر طلاق کا حکم نافذ ہو جاتا ہے۔

مدت کی غلط فہمی اور جملے کی ساخت کا فرق

     یہاں ایک اہم باریکی شوہر کی اس غلط فہمی سے جڑی ہے کہ وہ معاملے کو دو ماہ کا سمجھ رہا تھا جبکہ معاملہ چار ماہ کا تھا۔ زید نے اپنے جملے کی ابتدا میں کہا: "جب تک یہ معاملہ برقرار رہے گا، تب تک میں تم سے صحبت نہیں کروں گا"۔ یہ پہلا جملہ ایک قسم یا وعدے کی حیثیت رکھتا ہے جس میں اس نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ لیکن طلاق کی شرط والا اگلا جملہ مستقل اور عام ہے: "اور اگر صحبت کروں گا تو تم پر طلاق پڑ جائے گی"۔ اس دوسرے جملے کو زید نے صراحتاً دو یا چار مہینے کی کسی خاص مدت کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ چونکہ طلاق کا جملہ عام ہے اور وہ اس پورے "معاملے کے برقرار رہنے" سے جڑا ہوا ہے، اس لیے جب تک وہ مالی معاملہ (خواہ وہ دو ماہ چلے یا چار ماہ) ختم نہیں ہو جاتا، زید جب بھی صحبت کرے گا، طلاق واقع ہو جائے گی۔ شوہر کے ذہن میں جو دو ماہ کا خیال تھا، وہ اس کے دل کی نیت تھی، اور صریح الفاظ کے مقابلے میں دل کی ایسی نیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا جو زبان سے ادا نہ ہوئی ہو۔

خلاصہ اور حل

     حاصلِ کلام یہ ہے کہ مذکورہ صورتِ حال میں زید کا یہ جملہ بولنے کے بعد طلاق کا معاملہ معلق ہو چکا ہے۔ اب اگر وہ مالی معاملہ ختم ہونے سے پہلے اپنی بیوی سے صحبت (جماع) کرلیتا ہے، تو خالدہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی۔ چونکہ یہ طلاقِ رجعی ہوگی، اس لیے زید کو حق ہوگا کہ وہ طلاق واقع ہونے کے فوراً بعد، بیوی کی عدت (پوری تین ماہواریاں) کے اندر اندر رجوع کر لے، یعنی اسے دوبارہ اپنے نکاح میں بحال کر لے۔ رجوع کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ زبان سے کہہ دے کہ "میں نے رجوع کیا" یا "میں نے تمہیں دوبارہ اپنے نکاح میں لیا"۔ اس رجوع کے بعد دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے دوبارہ رہ سکتے ہیں اور کسی نئے نکاح کی ضرورت نہیں ہوگی، البتہ زید کے پاس مستقبل کے لیے صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہ جائے گا۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ یا تو وہ مالی معاملہ ختم ہونے کا انتظار کرے، یا پھر صحبت کر کے ایک طلاق واقع ہونے کے بعد عدت کے اندر رجوع کرلے اور آئندہ ایسے نازک الفاظ استعمال کرنے سے مکمل گریز کرے۔

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے