کیا نیشنل پنشن اسکیم (NPS) نجی ملازمین کے لیے ایک محفوظ اور سودمند طویل مدتی سرمایہ کاری کا ذریعہ ہو سکتی ہے؟
نیشنل پنشن اسکیم (NPS) کے طریقۂ کار کا خلاصہ یہ ہے کہ ملازمین کی تنخواہ سے ہر ماہ کچھ رقم کٹ کر NPS میں جمع ہوتی ہے۔ یہ رقم حکومتی انفراسٹرکچر یا کاروباری پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جس سے حاصل ہونے والا منافع ریٹائرمنٹ کے وقت ملازم کو ملتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت، کل جمع شدہ رقم کا 50% سے 60% حصہ یکمشت (Lumpsum) مل جاتا ہے، جبکہ باقی ماندہ 40% رقم بینکوں میں رکھ دی جاتی ہے، جس کے منافع (Interest) سے ملازم کو ہر ماہ پنشن ملتی ہے۔
یہ اسکیم نہ صرف سرکاری ملازمین کے لیے ہے بلکہ نجی شعبے کے ملازمین بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ نجی ملازمین کے لیے یہ اسکیم طویل مدتی بچت کا ایک باقاعدہ اور خودکار طریقہ ہو سکتا ہے، جہاں تنخواہ سے کچھ حصہ کٹ کر خود بخود محفوظ ہوتا رہتا ہے۔ اس کے ذریعے ریٹائرمنٹ کے بعد ماہانہ پنشن کا حصول یقینی بنایا جا سکتا ہے، جو مالی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
میرا خدشہ یہ ہے کہ کیا اس اسکیم میں سرمایہ کاری کرنا، نجی ملازمین کے مستقبل کے لیے مکمل طور پر درست اور محفوظ قدم ہوگا، یا اس کے متبادل راستے بھی موجود ہیں جن پر غور کرنا چاہیے؟
![]() |
| نیشنل پنشن اسکیم جیسی سودی سرمایہ کاری اور حلال ذرائعِ آمدنی کے درمیان ایک واضح موازنہ۔ |
رزقِ حلال کی اہمیت اور مستقبل کی منصوبہ بندی
انسان کو اپنی اور اہل و عیال کی ضروریاتِ زندگی کے لیے معاشی تگ و دو کرنا اور معاشی مستقبل کو محفوظ کرنے کی کوشش کرنا ایک بالکل بجا اور درست رویہ ہے۔ بچوں کے روشن مستقبل اور ان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لیے کچھ نہ کچھ جوڑ کر رکھنا ایک فطری، مستحسن اور نہایت ذمہ دارانہ عمل ہے۔ تاہم، اس معاشی جدوجہد میں صحیح اور غلط کی تمیز کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ سرمایہ کاری کا کوئی بھی طریقۂ کار اختیار کرنے سے پہلے، اس کے ہر پہلو کا بغور جائزہ لیا جانا چاہیے؛ تاکہ کمائی ہر قسم کی سودی آمیزش سے پاک رہے۔
نیشنل پنشن اسکیم (این پی ایس) کا اسٹرکچر اور سرمایہ کاری کا طریقۂ کار
سوال میں جس نیشنل پنشن اسکیم (NPS) کا اور اس کے بنیادی طریقۂ کار کا تذکرہ ہے، اگر اُس پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جمع ہونے والی رقم مختلف جگہوں پر انویسٹ کی جاتی ہے، جن میں سرکاری بانڈز، کارپوریٹ ڈیبٹس اور شیئر مارکیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر سرمایہ کاری ایسے ذرائع میں ہوتی ہے جو روایتی سودی نظام پر مبنی ہوتے ہیں۔ کسی بھی ایسے فنڈ میں اپنی مرضی سے سرمایہ کاری کرنا جہاں ہماری رقم کو سودی کاروبار یا خلافِ شریعت مقاصد میں استعمال کیا جاتا ہو، درست نہیں ہے۔ چونکہ اس اسکیم کا ایک بڑا حصہ براہِ راست سودی بانڈز اور تمویل (Interest-based financing) میں گردش کرتا ہے، اس لیے اس کی بنیاد ہی میں واضح قباحت موجود ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی
پنشن اور اینیوٹی (Annuity)
اس اسکیم کا دوسرا اور سب سے
اہم پہلو وہ ہے جس کی طرف سوال میں خود بخوبی اشارہ کیا گیا ہے کہ ریٹائرمنٹ (ساٹھ تا پینسٹھ سال) کی عمر کے
بعد، جمع شدہ کل رقم کا چالیس فیصد حصہ لازمی طور پر کسی بینک یا لائف انشورنس
کمپنی وغیرہ کے پاس رکھ دیا جاتا ہے، جس کے منافع یا سود سے ہر ماہ پنشن جاری ہوتی ہے۔ یہ طریقۂ کار صریح طور پر سود اور دھوکہ یا غیر یقینی صورتحال کے زمرے میں آتا ہے۔ انشورنس کمپنیوں یا
بینکوں سے خریدی گئی یہ اینیوٹی (Annuity) دراصل ایک ایسا عقد ہے جس میں آپ اپنی جمع شدہ رقم دے کر اس پر
ایک متعین شرح سے سود وصول کرتے ہیں، اور سود کا لین دین قطعی طور پر
غلط ہے۔
سرکاری اور نجی ملازمین کے لیے احکام کا فرق
یہاں یہ بات سمجھنا نہایت ضروری
ہے کہ اکثر سرکاری ملازمین (جن کے لیے یہ کٹوتی لازمی ہوتی
ہے) اور نجی شعبے کے ملازمین (جو اپنی مرضی سے اس کا انتخاب کرتے ہیں) کے احکام
میں نمایاں فرق ہے۔ اگر حکومت یا متعلقہ ادارہ کسی ملازم کی تنخواہ سے جبراً، یعنی
اس کے اختیار اور رضامندی کے بغیر، کوئی رقم کاٹ کر اس اسکیم میں لگاتا ہے، تو وہ
ملازم اس خلافِ شریعت عمل کا گناہ گار نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں ریٹائرمنٹ کے بعد
ملنے والی اضافی رقم کو محکمے کی طرف سے انعام، عطیہ یا تبرع سمجھ کر استعمال کرنے
کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ لیکن چونکہ نجی ملازمین کے لیے اس اسکیم میں شمولیت
بالعموم اختیاری ہوتی ہے، اس لیے ان کا اپنی خوشی اور ارادے سے ایک سودی اور خلافِ شریعت نظام کا حصہ بننا درست نہیں ہے۔
خلاصۂ کلام اور مشورہ
مذکورہ بالا باتوں کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ایک پرائیویٹ یا نجی ملازم کے لیے نیشنل پنشن اسکیم (NPS) میں اپنے اختیار سے سرمایہ کاری کرنا درست نہیں ہے۔ ہم سب اپنے اور اپنی نسلوں کی بہتر پرورش کے لیے ہی حلال روزی کماتے ہیں، اور اگر اس سرمائے میں سود کی ملاوٹ ہو جائے تو وہ برکت سے یکسر خالی ہوجاتا ہے۔ اس سودی اسکیم کے متبادل کے طور پر دیگر درست ذرائع، مثلاً کسی مناسب اور محفوظ پراپرٹی کی خریداری، سونے میں سرمایہ کاری، یا شریعہ کمپلائنٹ (حلال) میوچل فنڈز وغیرہ کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ یہ متبادلات نہ صرف درست اور پاکیزہ ہیں، بلکہ معاشی لحاظ سے بھی مستقبل کے لیے کہیں زیادہ محفوظ اور منافع بخش حکمت عملی ثابت ہو سکتے ہیں۔

0 تبصرے