شوقیہ بلی پالنے کا کیا حکم ہے اور شریعت نے اس کو کس نظر سے دیکھا ہے؟
![]() |
| بلی: گھروں میں کثرت سے آنے جانے والی اور ہر وقت انسانوں کے آس پاس چکر لگاتے رہنے والی، اللہ کی ایک بڑی پیاری مخلوق |
جانوروں سے حسنِ سلوک
دینِ اسلام ایک کامل ضابطۂ حیات ہے جس نے نہ صرف انسانوں کے حقوق مقرر کیے ہیں، بلکہ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ بھی رحمت و شفقت کی بھرپور تعلیم دی ہے۔ بے زبان جانوروں پر رحم کھانا اور ان کی طبعی ضروریات کا خیال رکھنا انتہائی پسندیدہ عمل ہے، اور بسا اوقات یہ انسان کی مغفرت اور رضائے الٰہی کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ انسان کو اس بات کی مکمل اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی طبعی انسیت کے تحت بعض حلال اور غیر موذی جانوروں کو اپنے پاس رکھ سکے۔
بلی پالنے کی حیثیت
جہاں تک شوقیہ طور پر بلی پالنے کا تعلق ہے، تو گھروں میں بلی پالنا بالکل مباح اور جائز عمل ہے۔ اسے محض شوق یا انسیت کی وجہ سے پالنے میں کوئی قباحت یا گناہ نہیں ہے۔ اسلام نے بلی کو ایک پاکیزہ، مانوس اور گھر کے ماحول کا حصہ بننے والی جانور قرار دیا ہے، جو عام طور پر انسانوں کے درمیان گھومنے پھرنے کی عادی ہوتی ہے۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
اس جواز کی ایک روشن دلیل جلیل القدر صحابی حضرت عبد الرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ کی مشہور کنیت "ابو ہریرہ" (یعنی بلی کے بچے والے) ہے۔ وہ ایک چھوٹی سی بلی سے محبت کرتے تھے اور اسے اپنے ساتھ رکھتے تھے، جس پر، ایک تحقیق کے مطابق، نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس پیاری کنیت سے نوازا اور ان کے اس عمل پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد ہے کہ بلی ناپاک نہیں ہے، بلکہ یہ تو تم پر کثرت سے چکر لگانے والیوں اور تمہارے گھروں میں طواف کرنے والیوں میں سے ہے۔ [جامع ترمذی، حدیث نمبر: ٩٢]
بلی کی طہارت
بلی کا وجود پاک ہے۔ اگر بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے یا پانی پی لے، تو اس کا جھوٹا پانی یا کھانا فی نفسہٖ ناپاک نہیں ہوتا۔ تاہم، اگر کوئی دوسرا صاف پانی یا کھانا موجود ہو تو نزاکت اور احتیاط کے پیشِ نظر بلی کے جھوٹے پانی کو استعمال کرنا پسندیدہ نہیں ہے، لیکن اگر کوئی اور پانی دستیاب نہ ہو تو اسی پانی سے وضو کرنا بلا کراہت درست ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ گھر میں اس کی موجودگی کو کتنی وسعت اور سہولت بخشی گئی ہے۔
بلی پالنے والوں کے لیے اہم ہدایات و ذمہ داریاں
جواز کے اس حکم کے ساتھ کچھ اہم ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ جو شخص بھی بلی کو پالے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی خوراک، پانی اور سردی گرمی سے بچاؤ کا مناسب اور بروقت انتظام کرے۔ اسے بھوکا پیاسا رکھنا، بلاوجہ قید کرکے تکلیف دینا یا مارنا پیٹنا سخت گناہ ہے۔ احادیث میں اس عورت کا واقعہ صراحت سے موجود ہے جسے محض اس لیے جہنم کے عذاب کا سامنا کرنا پڑا کہ اس نے ایک بلی کو قید کر رکھا تھا، نہ اسے خود کھانا دیتی تھی اور نہ ہی اسے چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاکر اپنا پیٹ بھر سکے۔ [صحیح بخاری، حدیث نمبر: ٢٣٦٥] لہٰذا، اگر کوئی شخص اس بے زبان جانور کے حقوق اور طبعی ضروریات پوری کرنے کی مکمل استطاعت اور احساسِ ذمہ داری رکھتا ہے، تو اس کے لیے اسے شوقیہ پالنا بلاشبہ درست ہے۔

0 تبصرے