کیا زمین پر قبضے سے پہلے اسے آگے فروخت کر کے نفع کمانا درست ہے؟

     تین افراد: زید، عمر اور خالد (فرضی نام) کے درمیان زمین کی خرید و فروخت کی ایک صورت پیش آئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ عمر نے زید (جو زمین کا اصل مالک ہے) سے اس کی زمین بارہ لاکھ ساٹھ ہزار (12,60,000) روپے کے عوض خریدنے کا سودا کیا، اور یہ طے پایا کہ وہ 20 دن کے اندر رقم کی ادائیگی کردے گا جس کے بعد زید کاغذات سے اپنا نام ہٹاکر خریدار کا نام شامل کردے گا۔ اس سودے کو پختہ کرنے اور زمین کو اپنے لیے روکنے کی خاطر عمر نے اپنی جیب سے پانچ ہزار روپے بطورِ بیعانہ (ٹوکن منی) زید کو ادا کر دیے؛ تاکہ وہ یہ زمین کسی اور کو فروخت نہ کرے۔ اس کے بعد عمر نے وہی زمین آگے خالد کو اپنے خرید کردہ نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت کردی۔ جب خالد نے عمر کو رقم ادا کی، تو عمر نے اس میں سے زید کو اس کے طے شدہ بارہ لاکھ ساٹھ ہزار روپے ادا کر دیے اور باقی اوپر کی رقم بطورِ منافع اپنے پاس رکھ لی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا عمر کے لیے اس طرح کا نفع کمانا اور اپنے پاس رکھنا درست ہے؟

کُرتا شلوار پہنے تین مرد ایک کھلے زمین کے پلاٹ پر کھڑے ہیں۔ ایک مرد دوسرے کو پیسے دے رہا ہے، جب کہ تیسرا میز پر رکھے ہوئے نقشے اور کاغذات کو دیکھ رہا ہے۔ پس منظر میں ایک لکڑی کا بورڈ ہے جس پر غیر منقولہ جائیداد پر قبضہ سے پہلے فروخت کے شرعی حکم کے بارے میں اردو متن لکھا ہے۔
زمین کے سودے کا منظر جہاں تین افراد بیعانہ کی ادائیگی اور کاغذات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

ایجاب و قبول سے ملکیت کا ثبوت

اس معاملے میں، عمر کا زید سے زمین خرید کر، اُس پر مکمل قبضہ یا کاغذات کی منتقلی سے پہلے ہی اسے خالد کو بیچ کر نفع کمانا، درست ہے؛ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خرید و فروخت کا معاملہ ایجاب و قبول سے ہی منعقد ہو جاتا ہے۔ لہٰذا جب عمر نے زید کو بیعانہ دے کر یہ واضح کردیا کہ "میں اس کا سودا پکا کر رہا ہوں" اور زید اس پر راضی ہو گیا، تو اسی وقت زمین عمر کی ملکیت میں آگئی۔ اب اگرچہ پوری رقم کی ادائیگی باقی تھی یا سرکاری کاغذات میں نام تبدیل نہیں ہوا تھا، لیکن ملکیت ثابت ہو جانے کی وجہ سے عمر کو یہ اختیار حاصل ہو گیا کہ وہ اپنی چیز کو آگے فروخت کر سکے۔

منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد (عقار) کا فرق

ویسے تو عام طور پر کسی چیز کو خرید کر اس پر قبضہ کرنے سے پہلے آگے بیچنا منع ہوتا ہے، لیکن امامِ اعظم ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے نزدیک یہ ممانعت منقولی چیزوں (جیسے گاڑی، اناج وغیرہ) کے لیے ہے؛ کیونکہ ان میں ہلاک ہونے یا غائب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ جب کہ "عقار" یعنی زمین، پلاٹ یا مکان جیسی غیر منقولی جائیداد کو قبضہ کرنے سے پہلے بھی آگے بیچنا ان حضرات کے نزدیک درست ہے؛ کیونکہ زمین اپنی جگہ قائم رہتی ہے اور اس کے ہلاک ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ "ہدایہ" وغیرہ سے یہی معلوم ہوتا ہے، یعنی زمین کو قبضے سے پہلے بیچنا شیخین کے نزدیک درست ہے۔

"الخراج بالضمان" کا اصول

اب جہاں تک اس نفع کا تعلق ہے جسے عمر نے زید کی رقم ادا کرنے کے بعد اپنے پاس رکھ لیا، تو وہ بھی درست ہے؛ کیونکہ مشہور اصول ہے "الخراج بالضمان" یعنی نفع اسی کا ہوتا ہے جو نقصان کا ذمہ دار ہو۔ چونکہ سودا پکا ہوتے ہی زمین کا رسک عمر کے سر آگیا تھا کہ اگر خدانخواستہ زمین کی قیمت گرجاتی تو نقصان عمر کا ہوتا، لہٰذا اب جب قیمت بڑھنے سے فائدہ ہوا تو اس فائدے کا حق دار بھی عمر ہی ہے۔ اس لیے عمر نے خالد سے رقم لے کر پہلے زید کا قرض اتارا اور باقی رقم نفع کے طور پر خود رکھی، یہ عمل درست ہے اور اس کمائی میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ہاں اگر عمر نے زید سے سودا پکا نہ کیا ہوتا، بلکہ صرف "ایجنٹ" بن کر بیچتا، تو پھر وہ چھپا کر نفع نہیں رکھ سکتا تھا، بلکہ صرف طے شدہ کمیشن لے سکتا تھا۔ لیکن یہاں سوال سے صاف ظاہر ہے کہ عمر نے زمین خریدی تھی، اس لیے وہ مالک بن کر آگے جس قیمت پر چاہے بیچ سکتا ہے۔

باقاعدہ سودا اور وعدۂ بیع کا فرق

مذکورہ بالا جواب اس صورت میں ہے جب زید اور عمر کے درمیان باقاعدہ سودا (ایجاب و قبول) طے پاگیا ہو اور بیع منعقد ہوچکی ہو، جیسا کہ اوپر والے سوال سے بظاہر ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر "ٹوکن" صرف اس لیے دیا گیا تھا کہ "مستقبل میں سودا کریں گے" (یعنی صرف وعدہ تھا، سودا نہیں) تو پھر عمر کا مالک بننے سے پہلے آگے بیچنا درست نہیں ہوگا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے