اختلافِ افتاء کی صورت میں سائل کی ذمہ داری کیا ہے؟

     ایک شخص نے گناہوں سے بچنے کے مخلصانہ جذبے کے تحت، مگر حد سے بڑھے ہوئے جذبات میں آکر، اپنے اوپر نکاح کے تمام ممکنہ راستے بند کرنے کی سخت قسمیں کھالیں اور مستقبل میں ہونے والے کسی بھی نکاح، یہاں تک کہ نکاحِ فضولی (ایسا نکاح جو عاقل بالغ کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا کروا دے اور بعد میں وہ اجازت دے) پر بھی تین طلاقیں معلق کردیں۔

     اِس انتہائی پیچیدہ اور سنگین صورتِ حال میں جب انہوں نے اِبتدائی طور پر مفتیانِ کرام سے رجوع کیا تو متضاد آراء سامنے آئیں، جہاں کچھ نے اِس تعلیق کی شدت کو دیکھتے ہوئے دوسرے مکاتبِ فکر کی رخصتوں سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا اور کچھ نے حنفی اصولوں کے اندر رہتے ہوئے ہی کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کی، جس پر سائل کو اِس کے اِلفاظِ قسم کی وجہ سے مزید شبہات ہو گئے۔ اب سائل نے اِس شدید ذہنی و شرعی الجھن کو حل کرنے کے لیے ملک کے ایک مقتدر، مسلم الثبوت اور صاحبِ بصیرت فقیہِ اعظم کے سامنے اپنی پوری صورتِ حال، نیت اور الفاظِ قسم کا تفصیلی خاکہ رکھ دیا ہے۔

     سوال یہ ہے کہ کیا شریعتِ اِسلامیہ کے اصولوں کی روشنی میں ایسے جلیل القدر اور صاحبِ افتاء فقیہ کا اِنفرادی فیصلہ اور جواب سائل کے لیے حتمی، اِطمینان بخش اور واجب العمل مانا جائے گا، یا اِس کے بعد بھی سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنے اِطمینان کے لیے دوسرے ہم پلہ فقہاء سے مسئلہ دریافت کرے اور اِس سلسلے میں شریعت کا عمومی مزاج اور ضابطہ کیا ہے؟


کتابوں سے بھری روایتی اسلامی لائبریری میں بیٹھے ایک بزرگ فقیہ اور نوجوان سائل کی تصویر، جس میں شرعی و تنظیمی مقاصد کے تحت دونوں کے چہرے دھندلے (blur) کیے گئے ہیں۔
گویا مفتئ اعظم اور سائل کے درمیان علمی و ناصحانہ گفتگو کا ایک منظر


اختلافِ افتاء، اور اکابر فقہاء سے رجوع کا اصولی طریقہ

     جب خاص طور پر کسی انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی مسئلے میں عام مفتیانِ کرام کی آراء میں اِختلاف ہوجائے، تو سائل کو اِسلامی قانون کے سب سے متبحر اور صاحبِ تقویٰ فقیہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ ایک عامی (عام انسان) کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ اِختلافِ آراء کے وقت اپنے دور کے ایسے فقیہِ نفس کی رائے پر اِعتماد کرے جو نہ صرف جزئیاتِ فقہ پر گہری نظر رکھتا ہو بلکہ حالاتِ زمانہ، اِنسانی نفسیات اور مقاصدِ شریعت سے بھی پوری طرح باخبر ہو۔

     جب ایک مقتدر اور جید فقیہ، جس کی علمی جلالت اور تقویٰ پر امت کے خواص و عوام کا اِعتماد ہو، پورے اِنشراحِ صدر کے ساتھ الفاظِ قسم کی نوعیت، سائل کی نیت اور فقہی باریکیوں وغیرہ کا جائزہ لے کر کوئی فیصلہ صادر فرما دیتا ہے، تو وہ فیصلہ سائل کے حق میں حجت اور اِطمینان کا باعث بن جاتا ہے، اس لیے کہ اِسلامی قانون میں مفتیِ اعظم کا مقام سائل کے لیے ایک حاکم کی طرح ہوتا ہے جو اُس کے دینی اضطراب کو دور کرتا ہے۔

فقیہِ نفس کے فیصلے کی حتمیت اور وسوسوں کا سدِ باب

     کسی مستند اور جلیل القدر فقیہِ عصر کی طرف سے تفصیلی غور و خوض کے بعد دیے گئے جواب کو حتمی نہ ماننا اور مسلسل نئے فقہاء کی طرف اُسی ایک مسئلے کو لے کر بھاگتے رہنا شرعی اور نفسیاتی دونوں لحاظ سے انتہائی نقصان دہ عمل ہے۔ شریعت میں اِسے "تتبعِ رخص" (اپنی خواہش کے مطابق آسانیاں تلاش کرنا) یا "وسوسہ اندازی" سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو اِنسان کو دین کے معاملے میں مستقل شک اور تذبذب کا شکار کر دیتا ہے۔

     ہمارے زمانے کے جو اکابر اور مقتدر فقہاء ہیں، وہ جب ایسے سنگین مسائل میں کوئی فتویٰ یا مخرج (راستہ) تلاش کرتے ہیں، تو وہ محض ایک اِنفرادی رائے نہیں ہوتی، بلکہ اُن کے پسِ پشت اسلاف کی پوری علمی روایت، اجتماعی دانش اور شریعت کا روحِ اعتدال شامل ہوتا ہے۔ چنانچہ جب اُن میں سے کوئی بھی فقیہ سائل کے سامنے ایک شرعی مخرج رکھ دے، تو سائل پر لازم ہے کہ وہ اپنے شکوک و شبہات کو یکسر مسترد کر کے اُسی جواب پر عمل کرے اور اُسے اللہ کی طرف سے اِکرام (مہربانی) اور رخصت سمجھے، کیونکہ اُس کے بعد مزید کٹ حجتی کرنا یا نئے فتاویٰ جمع کرنا شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔

حکمتِ افتاء اور نازک معاملات میں اعتدال کی ضرورت

     اِس پورے معاملے کا ایک اہم ترین پہلو یہ بھی ہے کہ شریعت نے اِنسان کو خود پر حد سے زیادہ سختی کرنے اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرنے کے جذباتی اِقدامات سے منع فرمایا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ماہر فقیہ کی حکمتِ عملی ظاہر ہوتی ہے۔ گناہوں سے بچنے کا جذبہ یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن اِس کے لیے نکاح جیسے اِنسانی اور فطری راستے کو تعلیقِ طلاق کے ذریعے مسدود کردینا ایک ایسی بے اعتدالی ہے جو اِنسان کو بعد میں شدید تر گناہوں یا مستقل نفسیاتی عذاب میں مبتلا کر دیتی ہے۔

     ایسے نازک مواقع پر جب کوئی متبحر فقیہ سائل کی دستگیری کرتا ہے اور الفاظِ قسم کی نحوی و فقهی تاویلات کے ذریعے یا نکاحِ فضولی کے پیچیدہ اصولوں کو بروئے کار لا کر کوئی شرعی گنجائش نکالتا ہے، تو وہ دراصل سائل کو ایک بڑی تباہی سے بچا رہا ہوتا ہے۔ اِسی لیے اِس طرح کے فتاویٰ کو پبلک اسٹنٹ یا اِدارتی مناظروں کا موضوع بنانے کے بجائے، ایک اِنفرادی رحمت سمجھ کر قبول کرلینا چاہیے اور اِسی میں سائل کی عافیت، دین کی حفاظت اور امت میں فتنہ و فساد کا سدِ باب ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے