میرے کچھ سوالات ہیں، رہنمائی چاہتا ہوں:
مختلف عمر (مثلاً 5 سال، 10 سال اور 15 سال) کے بچوں کو مالیاتی خواندگی (Financial Literacy) سکھانے کے لیے والدین گھر پر کیا عملی سرگرمیاں کروا سکتے ہیں؟
اگر بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی عملی طریقوں کے ذریعے فائنانشیل لٹریسی سکھائی جائے تو کیا یہ طرزِ عمل اُن کے اندر بچپن سے ہی دولت پسندی، مادہ پرستی اور دنیا طلبی پیدا ہونے کا سبب نہیں بنے گا؟ میرا خیال ہے کہ اگر ایسا ہوا تو یہ اسلام کے مطلوبہ مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہوگا! اِس سے بچانے کے لیے شاید بچوں کو عملی طور پر صدقہ کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالنا مفید ہوسکتا ہے، لیکن یہ کیسے ڈالی جاسکتی ہے تاکہ ان کے دل میں مال کی محبت پیدا نہ ہو؟
جب بچوں کو باقاعدہ ماہانہ یا ہفتہ وار جیب خرچ (Pocket Money) دینا شروع کیا جائے، تو والدین کو کون سے بنیادی اصول طے کرنے چاہئیں تاکہ بچے اس رقم کا غلط استعمال نہ کریں؟ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں ایک نیا مسئلہ سامنے آیا ہے کہ اگر بچہ آن لائن گیمز (جیسے پب جی وغیرہ) یا موبائل ایپس میں پیسے خرچ کرنے کی ضد کرے تو والدین کو اس صورتحال کو کیسے سنبھالنا چاہیے؟
![]() |
| مادہ پرستی کے دور میں اسلامی اقدار اور حسنِ تدبیر کے ساتھ نئی نسل کی مالیاتی تربیت |
آپ نے دورِ حاضر کے ایک انتہائی اہم، نازک اور سلگتے ہوئے موضوع پر نہایت بصیرت افروز سوالات اٹھائے ہیں۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) نے انسانی نفسیات اور معاشرتی اقدار کو جس طرح متاثر کیا ہے، اس کے پیشِ نظر نئی نسل کو مالیاتی معاملات میں اسلامی خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو مادی اور روحانی تقاضوں کے درمیان ایک حسین اور فطری توازن قائم کرتا ہے۔ اسلام میں مال کو نہ تو مقصودِ حیات قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی کلی نفی کی گئی ہے، بلکہ اسے اِس دنیا میں زندگی گزارنے کا ایک بنیادی ذریعہ ("قیام") اور اللہ کی دی ہوئی ایک امانت قرار دیا گیا ہے۔ آپ کے اٹھائے گئے نکات کی روشنی میں بچوں کی مالیاتی اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے کچھ ضروری گزارشات ذیل میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
بچوں کی عمر کے لحاظ سے مالیاتی تربیت کا تدریجی اور عملی طریقہ
پانچ سال کی عمر
پانچ سال کی عمر کے بچوں میں چیزوں کو سمجھنے اور مشاہدہ کرنے کی صلاحیت بیدار ہو رہی ہوتی ہے، اس عمر کے بچے چیزوں کو دیکھ اور چھو کر جلدی سیکھتے ہیں، اس عمر میں اُنھیں پیسے کی پہچان، اُس کی بنیادی حقیقت، اُس کے بنیادی تصورات اور خاص طور پر بچت کے تصور سے روشناس کرایا جاسکتا ہے۔
ان کے لیے کچھ بہترین عملی سرگرمیاں مثلاً یہ ہوسکتی ہیں کہ: شفاف مرتبان کا استعمال کیا جائے، یعنی مٹی یا ٹین کے بند غلے کے بجائے شیشے یا پلاسٹک کے شفاف مرتبان استعمال کریں۔ جب بچہ سکے یا نوٹ اس میں ڈالے گا تو وہ اپنے پیسوں کو روز بروز بڑھتے ہوئے دیکھے گا۔ یہ بصری طریقہ انہیں بچت کی طرف راغب کرتا ہے۔ اِسی طرح، گھر میں ''کھلونا دکان'' لگائی جائے، یعنی گھر کی کچھ روزمرہ اشیاء، بسکٹ یا کھلونوں پر قیمت کی چھوٹی چھوٹی پرچیاں لگادیں۔ بچے کو کچھ نقلی یا اصلی سکے دیں اور اسے اپنی پسند کی چیز خریدنے کا کہیں۔ اس سے وہ سیکھے گا کہ چیزیں مفت نہیں آتیں، ان کے بدلے کوئی قدر (Value) دینی پڑتی ہے۔ ایسے ہی انہیں خریداری کے وقت اپنے ساتھ رکھا جائے اور ادائیگی کے وقت رقم ان کے ہاتھ سے دکاندار کو دلوائی جائے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ اشیاء کے حصول کے لیے مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اِسی طرح، انتظار کی عادت ڈالی جائے، یعنی اگر بچہ کوئی بڑا کھلونا مانگے، تو اسے فوراً لے کر دینے کے بجائے کہیں کہ "ہمیں اس کے لیے پیسے جمع کرنے ہوں گے"۔ صبر کرنا اور اپنی خواہش کے لیے انتظار کرنا مالیاتی شعور (Financial Literacy) کا ایک بہت بڑا اصول ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو آگے چل کر بچوں کو فضول خرچی سے محفوظ رکھنے کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوگی۔
دس سال کی عمر
دس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے بچوں کی ذہنی سطح کافی حد تک پختہ ہوجاتی ہے اور وہ نفع نقصان کو سمجھنے لگتے ہیں۔ اس عمر تک بچے ریاضی کے بنیادی اصول (جمع، تفریق، ضرب، تقسیم) سیکھ چکے ہوتے ہیں اور ان میں اچھے برے کی پہچان آجاتی ہے۔ لہٰذا اس مرحلے پر ان کی مالیاتی تربیت کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے انہیں "ضروریات" اور "خواہشات" کے درمیان فرق کرنا، نیز کمانا اور بجٹ بنانا بھی سکھایا جانا چاہیے۔
والدین و سرپرست حضرات اس کے لیے کچھ نہایت مفید عملی سرگرمیاں مثلاً یہ کرواسکتے ہیں کہ: اُنھیں تین حصوں (خرچ، بچت اور صدقہ) والا غلہ مہیا کرایا جائے، یعنی بچے کو جو بھی جیب خرچ یا عیدی وغیرہ ملے، اسے تین حصوں میں بانٹنے کی عادت ڈالیں: ایک وہ حصہ جو وہ اپنی مرضی سے ٹافی یا کھلونے پر خرچ کر سکے، دوسرا وہ حصہ جو وہ کسی بڑی چیز کو خریدنے کے لیے بچت کے طور پر رکھے اور تیسرا وہ حصہ جو وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق، غریبوں کی مدد کے لیے مختص کرے۔ اِسی طرح گھر کے کاموں پر کچھ پیسے دیے جائیں، یعنی ان کے ذاتی کاموں (جیسے بستر ٹھیک کرنا یا ہوم ورک کرنا وغیرہ) پر تو پیسے نہ دیں، لیکن اضافی کاموں (جیسے گاڑی دھونا، لان کی صفائی یا گھر کی ترتیب میں مدد) پر انہیں کچھ پیسے دیں تاکہ وہ ''محنت'' اور ''کمائی'' کا براہِ راست تعلق سمجھ سکیں۔ ایسے ہی، بچوں کو "خریداری معاون" بنایا جائے، یعنی سودا وغیرہ خریدنے کے لیے بازار جاتے وقت انہیں ایک چھوٹا سا بجٹ (مثلاً 300 روپے) دیں اور کہیں کہ وہ کفایت شعاری کے ساتھ اس رقم کے اندر اندر اپنی اور گھر کی ضرورت کے لیے 2 یا 3 مخصوص چیزیں خریدیں۔ اگر وہ سمجھداری سے سستی چیزیں ڈھونڈ کر پیسے بچاتے ہیں، تو بچی ہوئی رقم انہیں انعام کے طور پر رکھ لینے دیں۔ یعنی دوسرے لفظوں میں: جب گھر کے راشن یا سودے کی فہرست بنائی جائے تو بچے کو پاس بٹھا کر اس سے مشورہ لیا جائے اور بجٹ کا ایک خاکہ اس کے سامنے رکھا جائے۔ سپر مارکیٹ یا بازار میں اسے ایک محدود رقم دے کر کہا جائے کہ وہ اپنی سمجھ کے مطابق فلاں فلاں ضروری اشیاء خرید کر لائے اور دیکھے کہ کس طرح بجٹ کے اندر رہتے ہوئے بہترین چیز کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ یہ مشق بچوں کے اندر حسنِ تدبیر اور گھریلو معاشیات کی بنیادیں مضبوط کرے گی اور اُنھیں احساس ہوگا کہ وسائل محدود ہوتے ہیں جنہیں حکمت اور منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرنا ہی عقلمندی اور شریعت کا تقاضا ہے۔
پندرہ سال کی عمر
پندرہ سال کی عمر حقیقی دنیا کی معیشت اور ذمہ داری کو سمجھنے کی عمر ہوتی ہے۔ نیز پندرہ سال کے آس پاس کی عمر عموماً بلوغت اور پختہ شعور کی دہلیز ہوتی ہے جہاں شرعی اعتبار سے بھی بچے احکامات کے مکمل مکلف بن چکے ہوتے ہیں۔ اس عمر میں بچوں کو مال کمانے کے حلال و حرام طریقوں، سرمایہ کاری، اور بینکنگ کے بنیادی تصورات سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ عمر عملی زندگی میں قدم رکھنے سے ذرا پہلے کی ہوتی ہے۔ یہاں انہیں حقیقی دنیا کے تجربات کی ضرورت ہوتی ہے۔
اِس عمر کے لحاظ سے کچھ کارآمد عملی سرگرمیاں مثلاً یہ کروائی جاسکتی ہیں کہ: بینک اکاؤنٹ یا موبائل والٹ شروع کروایا جائے، یعنی اس عمر میں بچے کا اپنا اسٹوڈنٹ بینک اکاؤنٹ یا کوئی موبائل والٹ کھلوا دیں۔ ان کا ماہانہ جیب خرچ کیش کی صورت میں دینے کے بجائے ڈیجیٹل ٹرانسفر کریں تاکہ وہ آن لائن پیسوں کا انتظام، ٹرانزیکشن ہسٹری دیکھنا اور ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کا محتاط استعمال سیکھیں۔ اگر ان کی بچت نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے، تو انہیں زکوٰۃ کا حساب کرنا اور ادا کرنا بھی سکھایا جائے۔ اِسی طرح، گھر کے بجٹ کی مشاورت میں اُنھیں شامل کیا جائے، یعنی مہینے کا راشن لاتے وقت یا بجلی اور گیس کا بل ادا کرتے وقت انہیں اپنے ساتھ بٹھائیں۔ انہیں بتائیں کہ گھر کی ماہانہ آمدنی کیا ہے، کتنے فیصد بلوں میں جاتا ہے اور کتنے فیصد راشن میں۔ اس سے ان میں زبردست احساسِ ذمہ داری پیدا ہوگا۔ اس عمر کے بچوں کو گھر کے کچھ مخصوص اخراجات (جیسے ان کے اپنے کپڑے، کتابیں یا تعلیمی اخراجات) کی ذمہ داری ایک مخصوص ماہانہ بجٹ دے کر سونپ دی جانی چاہیے تاکہ وہ خود اپنے پیسوں کا انتظام کریں۔ ایسے ہی، مماثل شراکت کا طریقہ اختیار کیا جائے، یعنی اگر وہ کوئی مہنگی چیز (جیسے نیا موبائل فون، گھڑی یا لیپ ٹاپ) خریدنا چاہتے ہیں، تو ان کے ساتھ مماثل شراکت کا ایک معاملہ کریں کہ مثلاً آدھے پیسے تم اپنے جیب خرچ سے جمع کرو، باقی آدھے پیسے میں ملاؤں گا۔ اس سے وہ اپنا ہدف بنا کر مستقل مزاجی سے بچت کرنا سیکھتے ہیں۔ اِسی طرح، انہیں یہ سکھایا جائے کہ مال کمانا بذاتِ خود کوئی کمال نہیں ہے بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ اسے حلال طریقے سے کمایا جائے اور جائز جگہوں پر خرچ کیا جائے۔ انہیں تجارت کی ترغیب دی جائے اور اگر ممکن ہو تو گرمیوں کی چھٹیوں میں کسی حلال کاروباری ماحول کا حصہ بنایا جائے تاکہ وہ محنت کی عظمت اور رزقِ حلال کی برکت کو عملی طور پر محسوس کر سکیں۔ یہ تدریجی عمل انہیں زندگی کے عملی چیلنجز کے لیے پوری طرح تیار کر دے گا۔
الغرَض، مرحلہ بہ مرحلہ یہ تمام سرگرمیاں بچوں کی شخصیت میں ٹھہراؤ اور پیسے کے معاملات میں اعتدال کے ساتھ پختگی لاتی ہیں۔
گرمیوں کی چھٹیاں بچوں کو عملی زندگی اور تجارت سے متعارف کروانے کا ایک بہترین اور سنہری موقع ہوتی ہیں۔ پندرہ سال کی عمر ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب بچوں میں شعور، توانائی اور کچھ نیا سیکھنے کی لگن اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ اس عمر میں انہیں عملی تجارت کی طرف راغب کرنا دراصل انہیں معاشی خود مختاری اور سنتِ نبوی ﷺ کے قریب کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ بچوں کو تجارت کی ترغیب دینے اور خاص طور پر گرمیوں کی چھٹیوں میں انہیں کسی حلال کاروباری ماحول کا حصہ بنانے کے لیے کچھ کارآمد عملی سرگرمیاں مثلاً یہ کروائی جاسکتی ہیں کہ: بچوں کو بتائیں کہ تجارت صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے نبی ﷺ اور کئی جلیل القدر صحابہ کرام (جیسے حضرت خدیجہ، حضرت عثمان غنی اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم) کا معزز پیشہ رہا ہے۔ اس سے ان کے ذہن میں تجارت کا ایک انتہائی قابلِ احترام خاکہ بنے گا۔ اِسی طرح، اپنے محلے، خاندان یا دوستوں میں سے کسی ایسے قابلِ اعتماد اور دیندار تاجر کا انتخاب کریں جو دیانتداری سے کام کرتا ہو۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں روزانہ چند گھنٹوں کے لیے بچے کو اس کی دکان یا دفتر میں بھیجیں۔ مقصد اجرت کمانا نہیں، بلکہ یہ سیکھنا ہونا چاہیے کہ گاہک سے کیسے بات کی جاتی ہے، حساب کتاب کیسے ہوتا ہے اور رزقِ حلال کے لیے صبح سویرے جا کر محنت کیسے کی جاتی ہے۔ ایسے ہی، بچے کو تھوڑا سا سرمایہ دیں اور اسے بتائیں کہ یہ رقم اب اس کی ذمہ داری ہے۔ جب بچے کو فیصلہ کرنے کا اختیار ملتا ہے، تو اس میں خود اعتمادی اور دلچسپی قدرتی طور پر پیدا ہوتی ہے۔
اس عمر کے بچوں کے لیے ایسے کاروبار مناسب ہیں جن میں سرمایہ کم ہو، سیکھنے کا موقع زیادہ ہو اور اخلاقی حدود کی مکمل پاسداری کی جا سکے۔ چند بہترین عملی منصوبے مثلاً یہ ہوسکتے ہیں کہ: آج کے دور کے لحاظ سے ایک بہت ہی آسان اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ بچہ ہول سیل مارکیٹ سے کچھ مفید اور حلال اشیاء (مثلاً اسلامی کتابیں، جائے نماز، تسبیحات، عطر، یا موبائل اسیسریز) خرید کر لا سکتا ہے۔ وہ واٹس ایپ گروپس یا ایک سادہ سا فیس بک/ انسٹاگرام پیج بنا کر انہیں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی محفل میں بیچ سکتا ہے۔ اس سے وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، پیکیجنگ اور کسٹمر ڈیلنگ وغیرہ سیکھے گا۔ اِسی طرح، اگر بچی/ بچے کو کوکنگ یا بیکنگ کا شوق ہے، تو وہ گھر میں صاف ستھرے ماحول میں کپ کیکس، سینڈوچز یا گرمیوں کے لحاظ سے لیموں پانی اور شربت تیار کرسکتا ہے۔ وہ اسے اپنی سوسائٹی کے پارک میں یا کسی قریبی محفوظ مقام پر اسٹال لگا کر بیچ سکتا ہے۔ اس میں اسے لاگت، ضبطِ معیار (Quality Control) اور براہِ راست فروختگی کا زبردست تجربہ ہوگا۔ ایسے ہی، اگر بچے کو کمپیوٹر یا ٹیکنالوجی کا شوق ہے، تو اسے گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ یا ویب ڈیولپمنٹ کا کوئی مختصر کورس کروائیں۔ وہ انٹرنیٹ پر فری لانسنگ کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کر کے حلال روزی کما سکتا ہے۔ یہ بھی ایک بہترین کاروبار ہے جس میں دماغی محنت شامل ہے۔ اِسی طرح، بچے ہول سیل سے اسٹیشنری کا سامان (پین، کاپیاں، کلرز وغیرہ) یا عید/خوشی کے مواقع کے لیے تحائف لا کر ان کی خوبصورت پیکنگ کر سکتے ہیں اور انہیں "اسکول کٹس" یا "گفٹ ہیمپرز" کے طور پر فروخت کر سکتے ہیں۔ اس سے ان میں جمالیاتی حس اور کسی عام چیز کو خاص بنانے کا ہنر پیدا ہوتا ہے۔ ایسے ہی، بچہ گھر کی چھت یا صحن میں چھوٹے گملوں میں پودینے، دھنیے یا سجاوٹی پودوں کی پنیری لگا سکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی پرسکون اور حلال کاروبار ہے۔ جب پودے تھوڑے بڑے ہو جائیں تو انہیں خوبصورت گملوں میں سجا کر محلے میں یا آن لائن بیچا جاسکتا ہے۔ یہ کاروبار بچے کو فطرت سے جوڑتا ہے اور اس میں صبر کی عادت پیدا کرتا ہے۔
اور ان تمام سرگرمیوں کے دوران بچے کو مسلسل یاد دلاتے رہیں کہ اپنی چیز کا کوئی عیب نہیں چھپانا، ناپ تول پورا رکھنا ہے، اور جو بھی منافع ہو اس میں سے کچھ رقم صدقہ ضرور کرنی ہے۔
مالیاتی شعور اور مادہ پرستی کے مابین فرق اور انفاق فی سبیل اللہ کی عملی تربیت
آپ کا یہ اندیشہ بالکل درست اور مبنی بر حقیقت ہے کہ اگر مالیاتی تربیت میں اسلامی روح شامل نہ ہو تو یہ عمل بچے کو مادہ پرست اور دنیا طلب بناسکتا ہے۔ اسلام میں زہد (دنیا سے بے رغبتی) کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ انسان کے پاس مال نہ ہو، بلکہ زہد کی اصل حقیقت یہ ہے کہ مال انسان کی جیب اور ہاتھ میں تو ہو لیکن اس کے دل پر سوار نہ ہو۔ جس طرح کشتی پانی پر تیرتی ہے اور پانی اس کے لیے سفَر کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن اگر وہی پانی کشتی کے اندر داخل ہوجائے تو اسے ڈبو دیتا ہے، بالکل اسی طرح مال اگر دل میں داخل ہو کر مقصودِ حیات بن جائے تو وہ روحانیت اور ایمان کو غرق کر دیتا ہے۔ بچوں کو یہ حقیقت سمجھانی چاہیے کہ دنیا کا مال آخرت کی کھیتی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ایک وسیلہ و ذریعہ ہے۔ صحابۂ کِرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین)، جیسے حضرت عثمان غنی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہما)، بے پناہ مالدار تھے لیکن مال ان کے قدموں کی دھول تھا، جس کا ثبوت انہوں نے ہر غزوے اور مشکل وقت میں اپنا مال اللہ کے راستے میں لٹا کر دیا۔
بچوں کے دلوں میں مال کی محبت پیدا نہ ہونے دینے اور ان میں سخاوت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے محض زبانی نصیحتیں کافی نہیں ہوتیں۔ بچپن میں اپنائی گئی عملی عادتیں ہی ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بنتی ہیں۔ بچوں کو مال کی محبت اور بخل جیسی مہلک بیماریوں سے بچانے، نیز اُن کو عملی طور پر صدقہ کرنے کی اور دوسروں کا احساس کرنے کی عادت ڈالنے کے لیے، انفاق فی سبیل اللہ (صدقہ و خیرات) کی عملی تربیت سب سے مؤثر اور مجرب قرآنی نسخہ ہے۔
مثال کے طور پر یہ کچھ مؤثر اور خوبصورت طریقے اپنائے جاسکتے ہیں: گھر کے کسی نمایاں حصے میں ایک شیشے کا ڈبہ یا غلہ رکھیں اور اس پر خوشخطی میں "صدقہ" لکھ دیں۔ بچوں کو اُن کی ذہن سازی کرتے ہوئے یہ عادت ڈالیں کہ انہیں ملنے والے جیب خرچ یا تحفہ کی رقم میں سے ایک چھوٹی سی رقم (مثلاً تین - چار فیصد) وہ خوش دلی کے ساتھ اس باکس میں ڈالیں۔ پھر مہینے کے آخر میں وہ جمع شدہ رقم بچوں ہی کے ذریعے گنواکر اُنہی کے ہاتھوں کسی غریب رشتے دار، یتیم خانے، یا مستحق طالبِ علم وغیرہ تک پہنچائیں۔ جب بچہ اپنے کمائے یا بچائے ہوئے پیسوں سے کسی غریب کے چہرے پر خوشی دیکھے گا، تو اس کے دل میں ہمدردی، ایثار اور سخاوت کے جذبات پروان چڑھیں گے جو مادہ پرستی کے جراثیم کو ختم کریں گے۔ یہ عملی طریقہ بچے کو سکھائے گا کہ مال کا اصل اور دیرپا فائدہ اسے صرف جوڑ جوڑ کر رکھتے رہنے میں نہیں ہے، بلکہ اللہ کی مخلوق پر خرچ کرنے میں ہے۔ اِسی طرح، بچے سن کر کم اور دیکھ کر زیادہ سیکھتے ہیں۔ جب بھی آپ کسی ضرورت مند کی مدد کرنے لگیں، یا مسجد کے چندہ باکس میں پیسے ڈالنے لگیں، تو رقم براہِ راست دینے کے بجائے بچے کے ہاتھ میں دیں اور اس سے ڈلوائیں۔ جب بچہ اپنے ہاتھ سے کسی غریب کو پیسے یا کھانا دیتا ہے اور بدلے میں اس کے چہرے کی خوشی اور دعائیں دیکھتا ہے، تو اس کے اندر دینے کی خوشی کا ایسا شاندار احساس پیدا ہوتا ہے جو مال کی محبت پر غالب آ جاتا ہے۔ ایسے ہی، قرآن مجید کا ایک انتہائی خوبصورت اصول ہے: "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّـٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ" [سورۂ آل عمران، آیت نمبر: ۹۲] (تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو۔) عام طور پر ہم پرانے کپڑے یا ٹوٹے ہوئے کھلونے غریبوں کو دیتے ہیں۔ بچوں کو یہ فرق سکھائیں۔ جب وہ اپنے کپڑے یا کھلونے الگ کر رہے ہوں، تو ان سے کہیں کہ بیٹا، ان پرانے کھلونوں کے ساتھ اپنا کوئی ایک ایسا کھلونا بھی اللہ کی رضا کے لیے غریب بچوں کو دو جو تمہیں بہت پسند ہے۔ یہ مشق ان کے معصوم دل پر لگ سکنے والی مادیت کی گِرہ کو لگنے نہیں دے گی اور انہیں قربانی کا اصل مطلب سمجھائے گی۔ اِسی طرح، بچوں کا ذہن واقعات کو جوڑ کر سیکھتا ہے۔ جب بھی گھر میں کوئی خوشی کا موقع ہو (بچے کا اچھے نمبروں سے پاس ہونا، کوئی انعام جیتنا) یا اگر بچہ بیمار ہو جائے، تو فوراً اس کے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ صدقہ نکلوائیں۔ انہیں بتائیں کہ صدقہ اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ بیماریوں اور مصیبتوں کو ٹالتا ہے۔ اس طرح ان کا تعلق براہِ راست اللہ کی ذات سے جڑنے لگے گا۔ ایسے ہی بچوں کو یہ بھی بتائیں کہ سخاوت صرف پیسوں سے مشروط نہیں ہے۔ اگر کسی کے پاس پیسے نہیں ہیں، تب بھی وہ بہت بڑے صدقے کر سکتا ہے۔ مثلاً گرمیوں میں پرندوں کے لیے چھت پر پانی اور دانہ رکھنا، گلی یا محلے میں سے کوئی پتھر یا کانٹے دار چیز ہٹا دینا، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں یا دوستوں کی پڑھائی میں مدد کر دینا، کسی سے مسکرا کر اور اچھے اخلاق سے بات کرنا ۔۔۔۔۔ یہ سب بھی صدقے کی مختلف شکلیں ہیں۔
جیب خرچ کے بنیادی اصول اور ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کا حکیمانہ حل
بچوں کو باقاعدہ جیب خرچ دینا انہیں عملی طور پر مالیاتی شعور سکھانے کا ایک بہت ہی اہم قدم ہوتا ہے۔ تاہم، اگر اس کے ساتھ کچھ بنیادی اصولوں کا خیال نہ رکھا جائے تو بچے فضول خرچی کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے والدین اور سرپرستوں کو جیب خرچ شروع کرتے وقت کچھ اہم اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے اور کچھ واضح حدود طے کرلینی چاہئیں تاکہ بچہ اسے اپنا غیر مشروط حق نہ سمجھے اور اس میں بے اعتدالی پیدا نہ ہو۔
بچے کو جیب خرچ دیتے وقت واضح طور پر بتائیں کہ یہ رقم کن چیزوں کے لیے ہے اور کن کے لیے نہیں۔ مثلاً، آپ طے کر سکتے ہیں کہ اسکول کینٹین کا خرچہ، چاکلیٹس اور چھوٹے کھلونے وہ ان پیسوں سے خریدے گا، جبکہ کپڑے، جوتے اور اسکول کی کتابیں والدین لے کر دیں گے۔ اس سے بچے کو پتہ ہوتا ہے کہ اسے اپنی رقم کہاں استعمال کرنی ہے۔ اِسی طرح، جیب خرچ دینے کا ایک دن مقرر کریں (مثلاً ہر پیر کو یا مہینے کی پہلی تاریخ کو) اور اس کی سختی سے پابندی کریں۔ اس سے بچے کو اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اپنی رقم کتنے دن تک چلانی ہے۔ یہ دراصل بجٹ بنانے کی سب سے پہلی اور اہم سیڑھی ہے۔ ایسے ہی، اگر آپ نے بچے کو ہفتے کا جیب خرچ دیا اور اس نے دوسرے دن ہی سب خرچ کر دیا، تو اس کے رونے یا ضد کرنے پر اسے مزید پیسے ہرگز نہ دیں۔ اسے پیار سے سمجھائیں کہ اب اسے اگلے ہفتے تک انتظار کرنا پڑے گا۔ اس سے وہ سیکھے گا کہ پیسے محدود ہوتے ہیں اور انہیں سوچ سمجھ کر خرچ کرنا چاہیے۔ یہ ایک بڑا ہی اہم اصول ہے۔ اِسی طرح، اسلام کا مزاج یہ ہے کہ انسان کو اپنی ہر نعمت کا حساب دینا ہے، لہٰذا والدین دوستانہ ماحول میں بچے سے اس کے خرچ کا حساب ضرور لیں۔ بچے کو ایک چھوٹی ڈائری یا نوٹ بک دیں اور کہیں کہ وہ اس میں لکھے کہ اس نے کتنے پیسے کہاں خرچ کیے۔ مہینے کے آخر میں اس کے ساتھ بیٹھ کر جائزہ لیں۔ اس پر تنقید کرنے کے بجائے دوستانہ انداز میں بات کریں، جیسے: "اگر تم پچھلے ہفتے اتنے زیادہ چپس نہ کھاتے، تو آج تم اپنی پسند کی وہ ویڈیو گیم (مثلاً) خرید سکتے تھے۔" یہ چیز انہیں اپنی ترجیحات طے کرنا سکھاتی ہے۔ ایسے ہی، بچے کو اتنی کم رقم بھی نہ دی جائے کہ وہ احساسِ کمتری اور حرص کا شکار ہوکر چوری پر مائل ہو، اور اتنی زیادہ بھی نہ دی جائے کہ وہ فضول خرچی (اسراف) اور ناجائز کاموں (تبذیر) کا عادی ہو جائے۔ اِسی طرح، جیب خرچ کو بچے کے رویے اور اخلاق کے ساتھ مشروط کیا جائے، یعنی اگر وہ نمازوں کی پابندی، گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور اگر وہ غلط روش اپنائے تو عارضی طور پر جیب خرچ روک کر اسے احساس دلایا جائے۔ لیکن اِسی کے ساتھ، اگر وہ کوئی اضافی اچھا کام کرے (جیسے لان صاف کرنا) تو اسے بونس یا انعام بھی ضرور دیا جاسکتا ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں آن لائن گیمز (جیسے پب جی وغیرہ) اور مختلف موبائل ایپس میں پیسے خرچ کرنے کا رجحان ایک بہت بڑا اور خطرناک فتنہ بن کر ابھرا ہے۔ ان گیمز میں پیسے خرچ کرنا کئی وجوہات کی بنا پر درست نہیں ہے، مثلاً: ایک تو یہ کہ اس میں اسراف اور مال کا ضیاع (تبذیر) پایا جاتا ہے جس سے قرآن نے سختی سے منع کیا ہے۔ دوسرا ان گیمز میں عموماً Loot Boxes اور انعامات وغیرہ خریدنے کا ایسا نظام ہوتا ہے جو سراسر جوئے کی ایک جدید شکل ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اس مسئلے کو صرف سختی یا ڈانٹ ڈپٹ سے حل کرنے کے بجائے حکمت اور مکالمے سے کام لیں۔ پندرہ سال کے بچے کو پاس بٹھا کر ان گیمز کی نفسیاتی اور تجارتی حقیقت سمجھائی جائے کہ کس طرح یہ کمپنیاں انسانی دماغ کے Dopamine (خوشی کا ہارمون) سسٹم کو ہیک کرکے لوگوں کی جیبیں خالی کرتی ہیں۔ بچوں کو یہ باور کرایا جائے کہ ہمارا مال اللہ کی امانت ہے جسے ہم ان مجازی (Virtual) اور بے مقصد چیزوں پر اڑا کر اللہ کے غضب کو دعوت نہیں دے سکتے۔
اس صورتحال پر عملی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز اور ڈیجیٹل والٹس کے پاس ورڈز اور او ٹی پی (OTP) تک بچوں کی رسائی کو مکمل طور پر ناممکن بنائیں۔ تاہم، چونکہ انسانی فطرت تفریح اور متبادل چاہتی ہے، اس لیے اسلام کے مزاجِ اعتدال کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کو جائز اور صحت مند تفریحات کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہیں کسی اچھے سپورٹس کلب کا حصہ بنایا جائے، ان کے ساتھ مل کر جسمانی کھیل کھیلے جائیں، اور ان کی توانائیوں کو کسی مثبت ہنر یا تعلیمی کورسز کی طرف موڑ دیا جائے۔ جب گھر کا ماحول دوستانہ، دینی اور فکری اعتبار سے مضبوط ہوگا، تو بچے خود بخود ان ڈیجیٹل خرافات سے دور ہو کر ایک متوازن، ذمہ دار اور باشعور مسلمان کی حیثیت سے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

0 تبصرے