خطبۂ نکاح کی روشنی میں خاص طور پر دولہے اور اُس کے گھر والوں کو کیا رہنما اور مفید ہدایات دی جاسکتی ہیں؟
![]() |
| مسجد میں نکاح کا خطبہ: ایک عالم دین خوبصورت مسجد کے اندر دولہے اور شرکاء کو خطاب فرما رہے ہیں۔ |
خطبۂ نکاح محض چند قرآنی آیات کی رسمی تلاوت اور ایک سماجی معاہدے کا اعلان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم الشان خاندانی اور معاشرتی نظام کا وہ الٰہی دستور ہے جو دو انسانوں اور دو خاندانوں کو ایک پاکیزہ رشتے میں باندھتا ہے۔ اس خطبے میں سب سے زیادہ اور براہِ راست خطاب اگرچہ بظاہر عمومی ہے، لیکن اس کا سب سے بھاری بوجھ اور ذمہ داری دولہے اور اس کے گھر والوں کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ اس رشتے میں ایک طرح کی بالادستی یا میزبانی کے مقام پر ہوتے ہیں۔ خطبۂ نکاح کی روشنی میں دولہے اور اس کے خاندان کو یہ کچھ حکیمانہ اور بصیرت افروز ہدایات بھی دی جاسکتی ہیں:
تقویٰ اور احساسِ جوابدہی، خاندانی نظام کی سب سے مستحکم بنیاد
خطبۂ
نکاح میں سورۂ نساء، سورۂ آل عمران اور سورۂ احزاب کی جن آیات کا انتخاب کیا
گیا ہے، ان سب میں قدرِ مشترک "تقویٰ" یعنی اللہ کا ڈر اور احساسِ جوابدہی ہے۔
دولہے اور اس کے گھر والوں کے لیے اس میں یہ عظیم پیغام پوشیدہ ہے کہ وہ جس لڑکی
کو اپنے گھر لا رہے ہیں، وہ کوئی عام متاع یا دنیاوی ملکیت نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ
کے نام اور اس کے کلمے کی بنیاد پر لی گئی ایک عظیم امانت ہے۔ تقویٰ کا تقاضا یہ
ہے کہ دولہا اور اس کے والدین یہ بات ہر دم یاد رکھیں کہ اس کمزور اور نئے ماحول
میں آنے والی لڑکی کے ساتھ ان کا رویہ صرف سماجی رسم و رواج کے تابع نہیں ہونا
چاہیے، بلکہ انہیں اس کے ہر آنسو، ہر مسکراہٹ اور ہر حق کے لیے آسمان و زمین کے
مالک کو جواب دینا ہے۔ جب تک گھر کے ماحول میں تقویٰ یعنی اللہ کی نگرانی کا احساس
زندہ رہتا ہے، تب تک وہاں ظلم، طعنہ زنی، اور بے جا مطالبات کا گزر نہیں ہوسکتا۔
دولہے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس کی قوامیت (سرپرستی) اسے محض حاکم یا آمر نہیں بناتی،
بلکہ اسے ایک محافظ، خادم اور خدا کے سامنے جوابدہ انسان بھی بناتی ہے جسے اپنی بیوی
کے مادی، جذباتی اور روحانی تحفظ کا ہر حال میں بندوبست کرنا ہے۔
نفسِ واحدہ کا شعور (تکریمِ نسواں اور برابری کا احساس)
خطبے
کی ابتدا جس آیت (سورۂ نساء والی) سے ہوتی ہے، اس میں خالقِ کائنات نے واضح کر دیا ہے
کہ ہم نے تم سب کو ایک ہی جان (نفسِ واحدہ) سے پیدا کیا ہے اور اسی سے اس کا جوڑا
بنایا۔ دولہے کے گھر والوں کے لیے اس میں ایک زبردست نفسیاتی اور سماجی اصلاح کا
پہلو موجود ہے کہ وہ بہو کو کسی کمتر درجے کی مخلوق یا محض گھر کی خدمت گزار مشین
نہ سمجھیں۔ وہ اسی مٹی، اسی روح اور اسی انسانیت کا حصہ ہے جس سے دولہا اور اس کے
گھر والے بنے ہیں۔ اس آیت کی روشنی میں دولہے کے والدین کو یہ رہنمائی دی جاتی ہے
کہ وہ بہو کو بیٹی کا درجہ محض زبانی دعووں کی حد تک نہ دیں، بلکہ اپنے عمل سے
ثابت کریں کہ اس کی عزتِ نفس اور تکریم ان کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی اپنی سگی
بیٹی کی۔ جب انسان یہ سوچ لیتا ہے کہ میری بیوی یا میری بہو کا وجود مجھ ہی سے ہے
اور ہم ایک ہی اکائی کے دو حصے ہیں، تو پھر استحصال، جہیز کے لالچ، اور چھوٹی
چھوٹی باتوں پر تذلیل کا مائنڈ سیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ باہمی
احترام اور محبت لے لیتی ہے۔
قولِ سدید (شفاف گفتگو، سچی ہمدردی اور جذباتی تحفظ کی فراہمی)
خطبے میں سورۂ احزاب کی آیت کے ذریعے "قولِ سدید" یعنی بالکل سیدھی، سچی اور کھری بات کہنے کا جو حکم دیا گیا ہے، وہ ازدواجی اور خاندانی زندگی کا سب سے بڑا راز ہے۔ دولہے اور اس کے خاندان کے لیے اس میں یہ ہدایت ہے کہ گھر کا ماحول ابہام، طعنوں، منافقت اور دوہری باتوں سے مکمل طور پر پاک ہونا چاہیے۔ ساس، سسر اور نندوں سمیت تمام اہل خانہ اور بالخصوص شوہر کو چاہیے کہ وہ نئی آنے والی لڑکی سے اپنائیت بھرا، واضح اور محبت آمیز اندازِ گفتگو اختیار کریں۔ اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے، یا اس کے کام کا طریقہ مختلف ہو، تو اسے طعنہ دینے یا رشتوں میں دراڑیں ڈالنے کے بجائے قولِ سدید سے کام لیتے ہوئے حکمت، نرمی اور درگزر کے ساتھ سمجھایا جائے۔ قولِ سدید صرف سچ بولنا نہیں، بلکہ موقع محل کے مطابق ایسی بات کرنا ہے جو دلوں کو جوڑے اور رشتوں میں بگاڑ پیدا نہ ہونے دے۔ قرآنِ مجید اسی قولِ سدید کا یہ انعام بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست فرما دے گا اور تمہارے معاملات میں برکت ڈال دے گا۔ ایک صاحبِ بصیرت مفکر یہی سمجھاتا ہے کہ گھر کا سکون مہنگے فرنیچر سے نہیں، بلکہ مٹھاس اور سچائی سے بھرپور گفتگو سے آتا ہے۔
ارحام کی پاسداری (لڑکی کے
خاندانی رشتوں کا احترام اور ہمدردی)
خطبۂ نکاح میں تقویٰ کے فوراً بعد "الارحام" یعنی رشتے داریوں اور خاص طور پر رحم کے رشتوں کا لحاظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خصوصاً دولہے اور اس کے خاندان کو یہ بات گہرائی تک سمجھنی چاہیے کہ شادی کے بعد لڑکی کا اپنے میکے، اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے رشتہ ختم نہیں ہو جاتا۔ دولہے کے خاندان کو چاہیے کہ وہ لڑکی کے والدین کے اس عظیم احسان کو مانیں جنہوں نے اپنے خون پسینے سے سینچ کر اپنا جگر کا ٹکڑا ان کے حوالے کر دیا ہے۔ لڑکی کو اس کے رشتوں سے کاٹنا، اسے اپنے مائیکے جانے سے بلاوجہ روکنا، یا اس کے والدین کو حقیر سمجھنا قرآن کے اس صریح حکم کی خلاف ورزی ہے۔ دولہے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کے دل میں اس کے والدین کے لیے موجود محبت کا احترام کرے اور اس کے خاندان والوں کے ساتھ وہی عزت اور توقیر کا برتاؤ کرے جو وہ اپنی بیوی سے اپنے والدین کے لیے چاہتا ہے۔ خاندانی جڑوں سے جڑے رہنے دینا لڑکی کو وہ نفسیاتی تحفظ فراہم کرتا ہے جس کے بعد وہ اپنے سسرال کو اپنا حقیقی گھر مان کر اس کی تعمیر و ترقی میں اپنی پوری جان لگا دیتی ہے۔

0 تبصرے