فکرِ اقبال کی حقیقی روح اور گہرائی تک رسائی کیسے ممکن ہے؟

     علامہ اقبال (رح) کے کلام اور ان کے اشعار کی اصل فکر کو کس طریقہ سے سمجھا جاسکتا ہے؟ کیا ان کی فکر کی گہرائی تک پہنچنے کے لئے محض ان کے اشعار کی شروحات کا مطالعہ کافی ہے؟ اور ان کے کلام کے ذریعہ نئی نوجوان نسل کی تربیت کس حد تک مفید ہو سکتی ہے؟ اور کلام اقبال کے ذریعہ ان کی تربیت کا کیا طریقۂ کار ہو سکتا ہے؟


ایک خوبصورت روایتی برآمدے میں علامہ اقبال کتاب ہاتھ میں لیے نوجوان لڑکوں کو درس دے رہے ہیں، جبکہ سامنے فرش پر کتابیں کھلی ہیں، پس منظر میں تاریخی مسجد اور فضا میں اڑتا ہوا شاہین نمایاں ہے۔
فکرِ اقبال کے سائے میں شاہین صفت نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت


فکرِ اقبال کی تفہیم اور شروحات کی حقیقت

     حکیم الامت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا کلام محض قافیہ و ردیف کا دلکش امتزاج یا روایتی غزل سرائی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بحرِ بیکراں ہے جس میں اسلامی فکر، فلسفہ، تاریخ اور تصوف کے انمول موتی پنہاں ہیں۔ ان کے اشعار کی اصل فکر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے صرف لفظوں کے معانی یا سطحی تفہیم پر قناعت نہیں کی جاسکتی۔

     جہاں تک کلامِ اقبال کی شروحات کا تعلق ہے، تو یہ بلاشبہ ابتدائی طالبِ علم کے لیے ایک ناگزیر ضرورت اور تفہیم کا پہلا زینہ ہیں جو اشعار کے لغوی سرمائے اور تاریخی تلمیحات کے بند قفل کھولنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم، ان شروحات کو تفہیمِ اقبال کا حتمی ذریعہ سمجھ لینا ایک فکری مغالطہ ہوگا کیونکہ شرح نگار عام طور پر اپنے فہم، زمانے اور فکری حدود کا اسیر ہوتا ہے۔

     اقبال کی روح تک پہنچنے کے لیے قاری کو خود اس سرچشمے سے سیراب ہونا پڑے گا جہاں سے اقبال نے روشنی حاصل کی، اور وہ سرچشمہ قرآنِ حکیم کی عالمگیر حکمت، عیش پرست ملوکیت و رسمی خانقاہیت سے پاک حقیقی تاریخِ اسلام اور مولانا جلال الدین رومی کا سوزِ دروں ہے۔ جب تک انسان مغرب کے فکری ارتقا اور مشرق کے زوال کے اسباب سے واقف نہ ہو، اور جب تک اس کے دل میں امتِ مسلمہ کے عروج و زوال کا وہی تڑپا دینے والا درد موجود نہ ہو جو اقبال کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھا، تب تک فکرِ اقبال کی حقیقی گہرائی اور اس کا وجدانی کیف حاصل ہونا ممکن نہیں ہے۔

نوجوان نسل کی تعمیر و تربیت میں کلامِ اقبال کی افادیت

     موجودہ دور کی نوجوان نسل جس فکری انتشار، شناخت کے بحران اور مادہ پرستی کی یلغار کا شکار ہے، اس میں کلامِ اقبال کی افادیت کسی آبِ حیات سے کم نہیں ہے۔ اقبال کا پیغام مایوسی کے گھور اندھیروں میں امید کی ایک ایسی شمع ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کراتی ہے۔ نئی نسل کی تربیت کے لیے اقبال کا کلام اس لیے بے حد مفید اور ناگزیر ہے کیونکہ یہ انہیں محض ماضی کے قصے نہیں سناتا، بلکہ انہیں مستقبل کا معمار بننے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اقبال نے نوجوانوں کو ''شاہین'' کے استعارے سے نوازا ہے، جو بلندئ پرواز، خودداری، غیرتِ ایمانی اور دوسروں کے آشیانے پر قناعت نہ کرنے کی علامت ہے۔

     آج کے دور میں جب نوجوانوں کو سستی شہرت، مادی آسائشوں اور فکری غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اقبال کی شاعری ان کے اندر ''خودی'' کا احساس بیدار کرتی ہے۔ یہ کلام نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے اور انہیں یہ باور کراتا ہے کہ وہ بےبس نہیں ہیں، بلکہ اپنے عزم و عمل سے اپنی تقدیریں طے کرانے کے اہل ہیں۔ چنانچہ، کلامِ اقبال کے ذریعے کی جانے والی تربیت نئی نسل کو ایک باکردار، بااصول اور صاحبِ بصیرت انسان بناتی ہے جو دنیا کی امامت کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو سکے۔

کلامِ اقبال کے ذریعے تربیت کا حکیمانہ طریقۂ کار

تربیت کا یہ طریقۂ کار روایتی، خشک اور امتحانی نصاب کی حد تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے ایک تدریجی اور وجودی عمل بنانا ہوگا جو نوجوان کے دل و دماغ کو بیک وقت مسخر کر سکے۔

     پہلے مرحلے میں نوجوانوں کے اندر کلامِ اقبال کی شعری جمالیات، بحروں کے ترنم اور الفاظ کے جاہ و جلال کے لیے ایک فطری محبت اور رغبت پیدا کی جائے، جس کے لیے بانگِ درا کی ان نظموں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے جو بظاہر سادہ مگر اثر انگیزی میں بے مثال ہیں۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں، انہیں الفاظ کے سحر سے آگے لے جاکر نظریاتی و فکری گہرائی سے متعارف کروایا جائے، جہاں بالِ جبریل اور ضربِ کلیم کے منتخب حصوں کے ذریعے ''خودی''، ''فقر''، ''عشق'' اور ''جہدِ مسلسل'' جیسے بنیادی تصورات کی تشریح کی جائے۔ استاد یا مربی کا کام صرف شعر پڑھا دینا نہیں، بلکہ اقبال کے فلسفے کو موجودہ دور کے سائنسی، سیاسی اور سماجی چیلنجز کے تناظر میں لاگو کرکے دکھانا ہے تاکہ نوجوان یہ دیکھ سکیں کہ اقبال کا فکری نظام کس طرح آج کے الجھے ہوئے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔

     سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس تربیت کو محض علم اور بحث تک محدود رکھنے کے بجائے ''عمل'' میں تبدیل کیا جائے؛ یعنی اقبال کی بتائی ہوئی خودداری، بلند نظری اور اخلاقی پاکیزگی نوجوانوں کے روزمرہ کے کردار، ان کی پڑھائی، ان کے مقاصد اور ان کی گفتگو سے جھلکنے لگے۔ جب کلامِ اقبال کا یہ سوزِ دروں ایک مربی کی حکیمانہ رہنمائی میں نوجوان کے خون میں شامل ہو جائے گا، تو وہ حقیقی معنوں میں مردِ مومن کے قالب میں ڈھلنے لگے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے