کیا سالم یا ثابت مشروم کھانا ٹھیک ہے؟

     کیا سالم یا ثابت مشروم (جنہیں اردو میں کھمبی کہا جاتا ہے) کھانا شرعاً جائز ہے؟ عصرِ حاضر میں بازاروں میں یا ڈبوں میں پیک شدہ ایسی کھمبیاں عام دستیاب ہوتی ہیں جنہیں کاٹے بغیر ہی پکایا یا براہِ راست کھا لیا جاتا ہے، تو کیا انہیں اس طرح ثابت اور مکمل حالت میں استعمال کرنے میں حلال و حرام کے حوالے سے کوئی شرعی قباحت یا ممانعت تو لازم نہیں آتی، نیز کیا اس حوالے سے شریعتِ مطہرہ ہماری کوئی خاص رہنمائی فرماتی ہے؟


ایک شخص کا ہاتھ لکڑی کی میز پر پڑے پیالے سے بٹن مشروم اٹھاتے ہوئے، جہاں دیگر اقسام کے مشروم، ہرے دھنیے کی گڈی، اور ہاون دستہ بھی موجود ہے۔ پس منظر میں ایک کھڑکی ہے جس سے باہر ایک خوبصورت باغ اور دور مسجد کا مینار نظر آ رہا ہے۔
باورچی خانے کی میز پر تازہ اور مختلف اقسام کے مشروم


مشروم (کھمبی) کی حیثیت

     کائنات کی تمام نباتات، سبزیاں اور پھل اس وقت تک حلال اور پاک ہیں جب تک کہ ان کی حرمت، نجاست یا انسانی جان کے لیے ان کے نقصان دہ ہونے کی کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو۔ مشروم، جسے اردو میں کھمبی کہا جاتا ہے، طبعاً ایک پاکیزہ، طیب اور حلال نباتاتی پیداوار ہے جس کے کھانے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

     یہاں یہ باریک علمی اور طبی وضاحت ضروری ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں جس "الْكَمْأَةُ" کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور جس کے پانی کو آنکھوں کے لیے شفا قرار دیا گیا ہے، [صحیح بخاری: 4478، صحیح مسلم: 2049] وہ سائنسی اور لغوی طور پر ''ٹرفلز'' (Truffles) ہیں، جو زمین کے نیچے اگنے والی ایک نایاب اور قیمتی فنگس ہے۔ چونکہ مشروم اور ٹرفلز دونوں کا نباتاتی خاندان (Fungi) ایک ہی ہے، اس لیے برصغیر کے مترجمین نے عام فہم ترجمے میں اسے ''کھمبی'' لکھ دیا۔ تاہم، آنکھوں کی شفا کا یہ خاص وصف صرف ٹرفلز کے عرق کے ساتھ مخصوص ہے، جبکہ عام مشروم اپنے دیگر طبی و غذائی فوائد کی وجہ سے روزمرہ خوراک کا حصہ بنانے کے لیے ایک بہترین اور حلال غذا ہے۔ اگرچہ عام مشروم کا پانی آنکھ میں نہیں ڈالا جا سکتا، لیکن مشرومز میں وٹامن بی (B-complex)، وٹامن ڈی، اینٹی آکسیڈنٹس اور پوٹاشیم وافر مقدار میں ہوتے ہیں۔ یہ غذائی اجزاء انسانی جسم کی قوتِ مدافعت (Immunity) کو بڑھاتے ہیں، اعصابی نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور بالواسطہ طور پر آنکھوں کی عمومی صحت اور بینائی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ 

سالم یا ثابت حالت میں کھانا 

     جہاں تک مشروم کو سالم یعنی بغیر کاٹے مکمل حالت میں کھانے کا تعلق ہے، تو اس میں بھی کوئی قباحت یا ممانعت نہیں ہے۔ کسی بھی حلال سبزی یا پھل کو کاٹ کر کھانا یا اسے ثابت حالت میں پکا کر تناول کرنا محض ایک طبعی اور معاشرتی رجحان ہے جس کا حلال و حرام کے شرعی احکام سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ البتہ اس بات کی ضرور بڑی اہمیت ہوتی ہے کہ جو چیز کھائی جارہی ہو وہ ظاہری اور باطنی نجاستوں سے پاک ہو اور اس میں کوئی ایسی چیز شامل نہ ہو جس کا کھانا ممنوع ہے، مثلاً کیڑے مکوڑے۔ اگر مشروم کسی ایسے علاقے سے حاصل کیے گئے ہیں جہاں ان کے اندر کیڑوں کے پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے، تو پھر احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں کاٹ کر اندر سے اچھی طرح جانچ لیا جائے تاکہ کوئی حرام جاندار (کیڑا وغیرہ) پیٹ میں نہ چلا جائے۔ لیکن آج کل جو مشروم تجارتی بنیادوں پر انتہائی صاف ستھرے اور کنٹرولڈ ماحول میں اگائے جاتے ہیں (جیسے بٹن مشروم وغیرہ) اور ان میں کیڑے ہونے کا کوئی خطرہ یا گمان نہیں ہوتا، انہیں بلا تکلف ثابت اور سالم حالت میں پکانا اور کھانا مکمل طور پر درست ہے۔

طہارت اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی پاسداری

     اسلام دینِ فطرت ہے جو طہارت، صفائی اور حفظانِ صحت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، اس لیے کسی بھی غذا کے استعمال سے پہلے ان اصولوں کی رعایت حد درجہ ضروری ہے۔ مشروم چونکہ زمین، مٹی یا خاص قسم کی کھادوں پر اگتے ہیں، اس لیے انہیں پکانے یا کھانے سے پہلے پانی سے نہایت اچھی طرح دھو کر صاف کرلینا چاہیے تاکہ ان پر لگی ہوئی مٹی، گرد و غبار یا کوئی اور ناپاکی مکمل طور پر زائل ہو جائے۔ مزید یہ کہ، یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جنگلوں میں خود رو اگنے والے تمام مشروم کھانے کے قابل نہیں ہوتے، بلکہ ان میں سے بعض اقسام انتہائی زہریلی اور انسانی جان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا اپنے آپ کو نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے صرف وہی مشروم استعمال کیے جائیں جن کا غیر زہریلا اور صحت کے لیے محفوظ ہونا یقینی ہو۔ الغرض، اگر مشروم پاک، صاف اور غیر زہریلے ہیں، تو انہیں ثابت اور مکمل حالت میں کھانا ہر لحاظ سے درست ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے