کیا موجودہ دور میں دستیاب ایسے پرفیومز، عطریات اور ڈی او ڈورنٹس کا استعمال درست ہے جن کی تیاری میں الکحل (Alcohol) کی آمیزش ہوتی ہے؟ نیز، روزمرہ زندگی میں ان الکحلِک پرفیومز کو کپڑوں یا جسم پر لگا کر عبادات خصوصاً نماز ادا کرنا کیسا ہے؟ اور کیا یہ الکحل ناپاک تصور ہوگی یا اس کے استعمال کی کوئی معقول اور واضح گنجائش موجود ہے؟
![]() |
| طہارت اور عبادات کے لیے جدید الکحلک پرفیوم کے استعمال کا ایک منظر |
الکحل کی حیثیت اور اس کی اقسام میں بنیادی فرق
الکحل کے استعمال کے حوالے سے حتمی رائے قائم کرنے کے لیے سب سے پہلے الکحل کی اقسام اور ان کے ماخذ کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ جو شراب ناپاک اور ممنوع ہے، وہ "خمر" ہے، اور اس کا اطلاق خالصتاً اس الکحل پر ہوتا ہے جو انگور یا کھجور کے رس سے کشید کی گئی ہو۔ اگر کسی بھی قسم کی الکحل ان دو مخصوص پھلوں سے حاصل کی گئی ہو، تو وہ ناپاک ہے اور اس کا پینا، اسے کسی بھی بیرونی مقصد کے لیے استعمال کرنا، یا کپڑوں پر لگانا بالکل ممنوع ہے، اور ایسی الکحل والا پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا بھی درست نہیں ہے۔ تاہم، اِس دور کی صنعتی اور کیمیائی ترقی کے بعد الکحل کی وہ قسم جو انگور اور کھجور کے علاوہ دیگر اشیاء مثلاً گنے، مکئی، آلو، گندم، جو، پیٹرولیم یا دیگر کیمیائی مرکبات سے تیار کی جاتی ہے، اس کے بیرونی استعمال کے حوالے سے وسعت اور گنجائش ہے۔
جدید پرفیومز میں شامل الکحل
آج کل مارکیٹ میں دستیاب پرفیومز، باڈی اسپرے، ادویات اور دیگر کاسمیٹکس کی تیاری میں جو الکحل بکثرت استعمال ہوتی ہے، وہ عموماً انگور یا کھجور سے کشید نہیں کی جاتی، بلکہ وہ زیادہ تر گنے کے شیرے (Molasses) یا مختلف کیمیائی اور مصنوعی طریقوں سے تیار کردہ ایتھنول (Ethanol) یا میتھانول ہوتی ہے۔ چونکہ یہ الکحل "خمر" کی تعریف میں داخل نہیں ہے، اس لیے اس کا نشہ آور مقاصد کے سوا صرف بیرونی استعمال یعنی جسم یا کپڑوں پر لگانا درست ہے۔ یہ الکحل ناپاک نہیں ہے، لہٰذا اس کی آمیزش سے تیار کردہ پرفیومز کو استعمال کرنا درست ہے اور اس میں قباحت نہیں ہے۔ انسانی ضروریات اور بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مدِنظر اُن معاملات میں وسعت ہوتی ہے جن میں اصل الاصول اور منصوص احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو رہی ہو۔
لباس کی پاکیزگی اور ایسی حالت میں نماز کی ادائیگی
جب یہ بات واضح ہو گئی کہ جدید صنعتی پرفیومز میں استعمال ہونے والی الکحل ناپاک نہیں ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے پرفیومز کو جسم یا کپڑوں پر لگانے سے نہ تو جسم ناپاک ہوتا ہے اور نہ ہی لباس کو دھونے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایک مسلمان اطمینانِ قلب کے ساتھ الکحل پر مبنی یہ پرفیومز استعمال کر سکتا ہے اور انہیں لگا کر مسجد میں جانا، نماز ادا کرنا، یا قرآن مجید کی تلاوت کرنا درست ہے۔ نماز کی قبولیت یا لباس کی طہارت پر اس پرفیوم کے استعمال سے کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ البتہ، احتیاط اور تقویٰ کا تقاضا یہ ضرور ہے کہ اگر کسی شخص کو صد فیصد یقینی علم ہو کہ کسی مخصوص پرفیوم میں خالص انگور یا کھجور سے کشید کردہ الکحل ہی شامل کی گئی ہے، تو اس کے استعمال سے مکمل اجتناب کیا جائے، لیکن جب تک ایسا کوئی یقینی علم نہ ہو، مارکیٹ میں دستیاب عام پرفیومز کو پاک ہی سمجھا جائے گا اور ان کا استعمال درست ہوگا۔

0 تبصرے