مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی کتاب "علوم القرآن" میں "سبب نزول اور احکام کا عموم و خصوص" عنوان کے تحت یہ بات ذکر کی ہے کہ آیتوں کی ایک قسم وہ ہے جن میں کسی خاص شخص یا گروہ یا چیز کا نام لیے بغیر اس کے کچھ اوصاف بیان کیے گئے ہیں اور ان اوصاف پر کوئی حکم لگایا گیا ہے، لیکن دوسرے دلائل سے یہ ثابت ہے کہ اس سے مراد فلاں شخص یا فلاں معین گروہ یا فلاں معین چیز ہے۔ اس صورت کے بارے میں تمام علما کا اتفاق ہے کہ آیت کا مضمون یا حکم صرف اسی شخص یا گروہ یا چیز کی حد تک مخصوص رہے گا جو قرآنِ کریم کی مراد ہے، اور کوئی دوسرا اس میں داخل نہیں ہوگا خواہ وہ اوصاف اس میں بھی پائے جاتے ہوں۔ مثلا: وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَىۙ الَّذِىۡ يُؤۡتِىۡ مَالَهٗ يَتَزَكّٰىۚ (الیل : 17-18) یہاں اگرچہ حضرت ابو بکر کا نام مذکور نہیں ہے، لیکن اوصاف انہی کے بیان کئے گئے ہیں اور روایات حدیث سے ثابت ہے کہ ان سے مراد حضرت ابوبکر ہیں۔ لہذا اگر کوئی اور شخص بھی اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے لگے تو وہ اس کے لئے کتنا ہی باعث اجر کیوں نہ ہو لیکن آیت بالا کا مصداق ہونے کی فضیلت اسے حاصل نہیں ہو سکتی۔
تو کیا اگر کوئی شخص یہ عمل کرے تو ضروری نہیں ہے کہ اسے بھی آگ سے بچا لیا جائے؟ اور کیا ایسا شخص اس آیت کا مصداق نہیں بن سکتا؟

ایک اسلامی اسکالر لائبریری میں گویا علومِ قرآن کی کسی کتاب کا گہرا مطالعہ کرتے ہوئے
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کی مایۂ ناز تصنیف "علوم القرآن" کے ایک اہم اور دقیق باب سے متعلق آپ کا یہ سوال نہایت بصیرت افروز اور گہری علمی فکر کا غماز ہے۔ علومِ قرآن کے ایک طالبِ علم کے لیے ایسے مقامات پر غور و فکر کرنا اور الفاظ کے ظاہری عموم اور ان کے باطنی و سیاقی خصوص کے درمیان تطبیق کی جستجو کرنا نہایت مبارک اور ضروری ہے۔
آپ کا یہ اشکال دراصل آپ کی طرف سے آیتِ کریمہ کے "مصداقِ اول اور شانِ نزول" اور شریعت کے "عام ضابطۂ جزا و سزا" کے مابین فرق کو پوری طرح ملحوظ نہ رکھ پانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ذیل میں اس علمی الجھن کا ایک حل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں؛ تاکہ اس اصول کی اصل روح نکھر کر سامنے آسکے۔
آیت کا خصوصی سیاق اور "الأتقی" کا مرتبۂ کمال
اس مسئلے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اس آیتِ کریمہ کے لغوی اسلوب اور اس کے پسِ منظر پر غور کرنا ہوگا۔
سورۂ واللیل کی اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے لفظ "الأَتْقَى" استعمال فرمایا ہے، جو عربی زبان کے قواعد کی رو سے "اسمِ تفضیل" کا صیغہ ہے اور اس پر الف لام داخل ہے، اور جب اسمِ تفضیل پر الف لامِ عہد خارجی داخل ہو، تو وہ اپنے لغوی معنی (سب سے بڑا متقی) میں کسی ایک فردِ کامل کے لیے ہی مخصوص ہوجاتا ہے۔
اور احادیثِ مبارکہ و روایاتِ صحیحہ کی روشنی میں یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ یہاں "الأتقی" سے مراد سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی ہے، جنہوں نے مکے کے کڑے حالات میں اپنا مال صرف اس لیے خرچ کیا تھا کہ مظلوم مسلمانوں کو غلامی سے آزادی دلائیں اور ان کا مقصد کسی پر احسان کرنا یا دنیاوی فائدہ حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ یہ کام خالصۃً لوجہ اللہ تھا۔
چنانچہ، جب ہم علومِ قرآن کی میزان پر اس کا جائزہ لیتے ہیں، تو مفتی صاحب کی بات کا مطلب یہ واضح ہوتا ہے کہ اس آیت کا "موضوعِ بحث" اور اس کا "مخاطبِ اول" ایک معین اور مخصوص شخصیت ہے، اور جو فضیلت، اعلیٰ مقام اور "الأتقی" کا عظیم الشان لقب اس آیت میں بیان ہوا ہے، وہ کائنات میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوسکتا، خواہ کوئی کتنا ہی بڑا سخی یا متقی کیوں نہ بن جائے۔
مصداقِ اول اور عمومی جزا و سزا کے اصولوں میں فرق
جہاں تک آپ کے اس سوال کا تعلق ہے کہ "کیا اگر کوئی شخص یہ عمل کرے تو ضروری نہیں کہ اسے بھی آگ سے بچا لیا جائے؟" تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس شخص کو آگ سے نجات ملنا بالکل یقینی اور اللہ کے سچے وعدوں کے مطابق ہے، لیکن اس کی نجات اس مخصوص آیت کے تحت بطورِ "مصداق" کے نہیں ہوگی، بلکہ شریعت کے دیگر ان عمومی دلائل اور وعدوں کی بنیاد پر ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلص خرچ کرنے والے سے کیے ہیں۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ ایسے عمومی اعلانات سے بھرے پڑے ہیں جن میں یہ صراحت موجود ہے کہ جو کوئی بھی اللہ کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرے گا اور اپنے نفس کا تزکیہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے دور رکھیں گے اور جنت میں بلند مقام عطا فرمائیں گے۔
لہٰذا، بعد میں آنے والا کوئی مخلص مسلمان جب اپنا مال راہِ خدا میں لٹاتا ہے، تو اللہ کے ہاں اس کا عمل مقبول ہے اور وہ جہنم سے بچا لیا جائے گا، مگر وہ اس آیت کا "مصداقِ اول" یا اس مخصوص اعزاز کا حامل نہیں بن سکتا جو خاص صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا تھا۔
فہمِ سلف اور اصولِ تفسیر کی روشنی میں حکیمانہ تطبیق
ایک مفسرِ قرآن اور محقق کی نظر ہمیشہ اس باریک فرق پر ہونی چاہیے کہ آیت کا "حکم" (Ruling) اور آیت کا "مقامِ نزول" (Context of Revelation) دو الگ الگ جہتیں ہیں۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے جو اجماع نقل کیا ہے، وہ آیت کے "مضمون کی خصوصیت اور اس کے انفرادی مقامِ نزول" کے بارے میں ہے، نہ کہ اللہ کی رحمت اور جزا کے دروازے بند کرنے کے لیے۔ سلف صالحین اور جمہور مفسرین کا یہ مسلمہ اصول رہا ہے کہ جب کوئی آیت کسی مخصوص شخصیت کی شان میں اس طرح نازل ہو کہ اس کے اوصاف اتنے رفیع الشان ہوں جو کسی دوسرے پر صادق نہ آسکیں، تو اس آیت کا وہ خاص مرتبہ اسی شخصیت کے ساتھ خاص رہتا ہے۔ اگر ہم ہر نیکی کرنے والے کو اس آیت کا مصداق قرار دینے لگیں، تو قرآنِ کریم کا وہ تاریخی اور اعجازی حسن مجروح ہو جائے گا جو صحابۂ کرام کے فضائل کی حفاظت کرتا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمل اس آیت کے نازل ہونے کا "سبب اور علت" تھا، اس لیے وہ اس کے اکیلے حق دار ہیں، جبکہ بعد کے مسلمانوں کا عمل اس اسوۂ صدیقی کی "پیروی اور اقتدا" ہے، جس پر انہیں نجات تو یقیناً ملے گی مگر وہ آیت کے لغوی اور سیاقی مصداق نہیں کہلائیں گے۔
0 تبصرے