نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنائز لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

ایک عالمِ دین کی، خودکشی کرلینے والے اپنے چچازاد بھائی کے جنازے میں شرکت کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ہمارے ایک چچا زاد بھائی نے چند دن قبل زہر کھا لیا تھا، جس کے بعد وہ اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ اب اطلاع ملی ہے کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔      معلوم یہ کرنا ہے کہ فقہائے کرام نے خودکشی کرنے والے شخص کے بارے میں لکھا ہے کہ علماء اور مقتداء سمجھے جانے والے افراد بطورِ زجر و تنبیہ اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کریں۔ احادیث میں بھی آتا ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ خود ادا نہیں فرمائی، البتہ صحابۂ کرام (رضی اللہ عنہم) نے نمازِ جنازہ ادا کی۔      ہمارے والد محترم ہمارے یہاں کی علماء انجمن کے صدر ہیں، اور انجمن کا ایک ضابطہ بھی ہے کہ ایسے شخص کے جنازہ میں علماء کی شرکت نہ ہو۔ اس وقت والد صاحب شہر سے باہر ہیں۔      اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بندہ کے لیے اس جنازہ میں شرکت کیسارہےگا؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      یہ ایک انتہائی کربناک اور حساس معاملہ ہے، خاص طور پر جب معاملہ اپنے ہی قریبی عزیز (چچا زاد بھائی) کا ہو۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ...

انتقال کے بعد کھانے کی دعوت اور رسمی قرآن خوانی: ایک متوازن رہنمائی

(مسئلہ):      معاشرے میں ایک رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اُس کے اہلِ خانہ ایصالِ ثواب کی نیت سے فوراً اگلے دن یا تیجہ وغیرہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں قریبی رشتہ دار اور دیگر متعلقین شریک ہوتے ہیں۔ شرعی نقطۂ نظر سے غم کے موقع پر سوگوار خاندان کی طرف سے اِس طرح کی دعوت کا کیا حکم ہے؟ نیز ایصالِ ثواب کی ایک دوسری رائج صورت یہ بھی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو بلا کر اجتماعی قرآن خوانی کروائی جاتی ہے یا مدرسہ میں ہی ختمِ قرآن کروا کر اُن کی طعام و نقود سے تواضع کی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہے اور کیا اِس طرح پڑھوانے سے میت کو ثواب پہنچتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ نے خوشی اور غم، ہر موقع پر انسانی فطرت اور نفسیات کی رعایت رکھتے ہوئے احکام وضع کیے ہیں؛ تاکہ لوگ افراط و تفریط سے بچے رہیں۔      جہاں تک میت کے اہل خانہ کی جانب سے انتقال کے فوراً بعد یا اگلے دن یا تیجہ و چالیسواں کے نام پر برادری اور رشتہ داروں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنے کا تعلق ہے، تو فقہائے کرام اور محدثین نے ...