نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

زکات لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

غیر سید شوہر اور سید زادی بیوی والے گھرانے کو زکات دینے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ایک شادی شدہ جوڑے کے حوالے سے زکات کا مسئلہ دریافت کرنا ہے۔شوہر "انصاری" (غیر سید) ہے اور زکات کا مستحق ہے، جبکہ بیوی "سادات" (سید خاندان) سے تعلق رکھتی ہے۔      دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسے جوڑے کو زکات دی جا سکتی ہے؟ چونکہ بیوی سید زادی ہے اور سادات پر زکات حرام ہے، جبکہ شوہر غیر سید ہونے کی وجہ سے مستحقِ زکات ہو سکتا ہے، تو اس صورتِ حال میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا اس جوڑے کو دی جانے والی زکات ادا ہو جائے گی یا اس میں کوئی ممانعت ہے؟ ​     براہِ کرم اس حوالے سے مکمل شرعی رہنمائی اور گائیڈ لائنز فراہم فرما دیں۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      ساداتِ کرام کا احترام اور ان کی معاشی کفالت کا مسئلہ امتِ مسلمہ کے لیے ہمیشہ سے نہایت حساس اور اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس مخصوص صورتِ حال میں جہاں شوہر غیر سید (انصاری) اور مستحقِ زکات ہے، جبکہ بیوی سید زادی ہے، شرعی نقطہ نظر سے حکمِ زکات کی وضاحت نہایت باریک بینی کی متقاضی ہے۔      بنو ہاشم (ساداتِ کرام) کی عزت و تکریم کی خاطر ان پر زکات و صدقاتِ وا...

غیر یتیم مگر مستحق طلبہ اور زکات کا استعمال: مدرسے کے ہاسٹل کے لیے شرعی رہنمائی

(مسئلہ):      مدرسے کے ہاسٹل میں جہاں 125 یتیم بچے زیرِ تعلیم اور مقیم ہیں، وہیں کچھ ایسے بچے بھی موجود ہیں جو اگرچہ یتیم نہیں ہیں (یعنی ان کے والدین حیات ہیں) لیکن ان کے والدین انتہائی غریب، نادار اور شرعی طور پر مستحقِ زکات ہیں۔ یہ بچے بھی اسی ہاسٹل میں دیگر یتیم بچوں کے ساتھ رہتے ہیں اور وہیں سے ان کی خوراک اور تعلیم کا انتظام ہوتا ہے۔ ​     دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان بچوں کے لیے بھی زکات کی رقم سے چاول، راشن اور دیگر خورد و نوش کا سامان خرید کر مدرسے میں دینا شرعاً درست ہے؟ کیا ان بچوں کی کفالت میں زکات کی رقم اسی طرح استعمال کی جاسکتی ہے جیسے یتیم بچوں کے معاملے میں دی جاتی ہے، جبکہ ان کے والدین صاحبِ نصاب نہیں بلکہ خود زکات کے حقدار ہیں؟       چونکہ میں رمضان المبارک کی ان مبارک گھڑیوں میں جلد از جلد یہ امداد پہنچانا چاہتی ہوں، اس لیے اس مسئلے کی شرعی حیثیت واضح فرمادیں؛ تاکہ نیکی کا یہ عمل کسی بھی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہو کر انجام دیا جا سکے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کا اصل مدا...

یتیم بچوں کی کفالت اور زکات کے مصارف: کیا مدرسے میں راشن دینا جائز ہے؟

(مسئلہ):      ہمارے علاقے میں ایک مدرسہ قائم ہے جس میں تقریباً 125 یتیم اور نادار بچے مقیم (Hostel) ہیں اور وہیں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میرے مرحوم شوہر اپنی زندگی میں سال بھر اس مدرسے کی بھرپور مالی مدد کرتے تھے، جس میں بچوں کے لیے چاول، راشن اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی شامل تھی۔ وہ قربانی کا گوشت بھی ان بچوں کے لیے بھجوایا کرتے تھے تاکہ ان کی خوراک کا بہتر انتظام ہو سکے۔ ​     اب میں بھی اپنے شوہر کی اس روایت کو زندہ رکھنا چاہتی ہوں اور ان بچوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میں اپنی زکات کی رقم سے ان یتیم اور مستحق بچوں کے لیے چاول اور کھانے پینے کا دیگر سامان خرید کر مدرسے میں دے سکتی ہوں؟ کیا زکات کے پیسوں سے ان بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا شرعاً جائز ہے؟ اگر زکات سے یہ عمل درست نہیں ہے، تو کیا میں اسے عام (نفلی) صدقہ کی رقم سے کروں؟ چونکہ رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے والا ہے، اس لیے میں چاہتی ہوں کہ جلد از جلد یہ سامان مدرسے پہنچا دیا جائے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کا اصل مقصد معاش...

مسجد کے لیے جائے نمازیں خریدنے میں زکات کے استعمال کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ایک بستی کی ایک مسجد میں نمازیوں کے لیے جائے نمازوں (مصلیوں) کی ضرورت ہے۔ میں نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 100 فٹ کے جائے نماز (جو 100 مصلیوں پر مشتمل ہیں) کا آرڈر ایک دکان پر دے دیا ہے اور مجھے اس کے پیسوں کی ادائیگی کرنی ہے۔      میرا اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسجد کے لیے جائے نمازیں خریدنے میں زکات کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے؟ اگر زکات کی رقم مسجد کے اس کام میں لگانا شرعاً جائز نہیں ہے، تو پھر میں یہ رقم اپنے عام پیسوں سے ادا کرنا چاہتی ہوں۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کے لیے ایک بنیادی اور لازمی شرط تملیک ہے، جس کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ زکات کی رقم یا اس سے خریدی گئی چیز کسی مستحقِ زکات مسلمان کو اس طرح مالک بنا کر دی جائے کہ وہ اپنی مرضی سے اسے استعمال کرنے یا تصرف کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہو۔      مسجد چونکہ وقف کے حکم میں ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عام مسلمانوں کی عبادت کے لیے وقف ہوتی ہے، کسی فردِ واحد کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لیے زکات کی رقم مسجد کی تعم...

قیراط کے فرق اور جائیداد نہ ہونے کی صورت میں، زیورات کی زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       سونے پر زکات کے حساب کتاب کا شرعی طریقۂ کار کیا ہے؟ بالخصوص یہ واضح فرمائیں کہ قیمت کا تعین کرتے وقت 24 قیراط (24ct) سونے کا نرخ معتبر ہوگا یا 22 قیراط (22ct) کا؟ چونکہ مستورات کے استعمال میں آنے والے زیورات میں مضبوطی پیدا کرنے کے لیے دیگر دھاتوں کی آمیزش کی جاتی ہے اور وہ سو فیصد خالص نہیں ہوتے، تو کیا ایسی صورت میں زکات کی ادائیگی پورے زیور کی مالیت پر ہوگی یا صرف اس میں موجود خالص سونے کی مقدار پر؟ ​     اِس کے علاوہ، اگر کسی شخص کی ملکیت میں کوئی جائیداد، ذاتی مکان یا زمین وغیرہ جیسے دیگر اثاثے موجود نہ ہوں اور اس کے پاس واحد اثاثہ صرف سونا ہی ہو (جو نصاب کو پہنچتا ہو)، تو کیا ایسی صورت میں بھی اس پر زکات کی ادائیگی لازم ہوگی؟ ​     ازراہِ کرم اس مسئلے کی شرعی وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کا نظام اسلام کے ان بنیادی ستونوں میں سے ہے جو معاشرے میں معاشی توازن برقرار رکھنے اور انفرادی سطح پر تزکیۂ نفس کا ذریعہ بنتا ہے۔      سونے کے زیورات پر زکات کے حس...

نصابِ زکات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی: قیمتِ خرید معتبر ہوگی یا وزن؟

(مسئلہ):       زکات کے باب میں صاحبِ نصاب ہونے کے لیے سال کا آغاز معتبر ہے یا اختتام؟ نیز، کیا نصاب کا معیار وزن (سونا/چاندی) ہے یا اس کی بدلتی ہوئی قیمت؟ اسے ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ راشد نامی شخص 12 رمضان المبارک 1447ھ کو ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مارکیٹ قیمت (مثلاً 75 ہزار روپے) کا مالک ہونے کی بنا پر صاحبِ نصاب قرار پایا۔ اب ایک سال مکمل ہونے پر، یعنی 12 رمضان 1448ھ کو، اس کے پاس نقد رقم تو کچھ نہیں، البتہ وہی سونا یا چاندی بعینہٖ موجود ہے، مگر اب مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اس وزن کی مالیت بڑھ کر ایک لاکھ روپے ہو چکی ہے۔ ​     دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا راشد اب بھی صاحبِ نصاب شمار ہوگا؟ جبکہ اب نصاب کا معیار (روپے کی شکل میں) بدل چکا ہے۔ کیا زکات کے لیے وہی پرانی مالیت دیکھی جائے گی جس پر وہ صاحبِ نصاب بنا تھا، یا سال کے اختتام پر سونے چاندی کے اس وزن کی جو نئی قیمت ہوگی، اسے معیار بنایا جائے گا؟ چونکہ موجودہ دور میں مہنگائی کی وجہ سے نصاب کی مالی مقدار ہر سال تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے اس الجھن کا مدلل شرعی حل مطلوب ہے۔ (رہنمائی): بس...

مسجد کے امام، مؤذن اور چندہ جمع کرنے والوں کو زکات دینے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       کیا زکات کی رقم مسجد کے امام صاحب اور مؤذن صاحب کو دی جاسکتی ہے؟ نیز، جو مسجد کے نمائندے یا مسجد والے گھر گھر جاکر چندہ جمع کرتے ہیں، کیا انہیں زکات کی رقم دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں تفصیلی شرعی رہنمائی کی طالب ہوں؛ تاکہ میں اپنی زکات درست مصرف پر خرچ کرسکوں۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کے حوالے سے یہ ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ ہے، کیونکہ زکات کی درستگی کے لیے اس کے مصارف (یعنی جہاں رقم خرچ کی جائے) کا شرعی اصولوں کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا یہ بنیادی قاعدہ ہے کہ زکات کی رقم کسی بھی مسجد کی تعمیر، مرمت، بجلی کے بلوں، یا مسجد کے عام اخراجات میں صرف کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زکات کی ادائیگی کے لیے تملیکِ شرعی شرط ہے، یعنی رقم کسی مستحقِ زکات شخص کو اس طرح مالک بنا کر دی جائے کہ وہ اسے اپنی مرضی سے استعمال کر سکے۔ چونکہ مسجد کسی فرد کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لیے وہاں زکات کی رقم براہِ راست خرچ کرنے سے زکات ادا نہیں ہوگی۔ اسی طرح مسجد کے امام صاحب اور مؤذن صاحب کو ان کی خدمات (امامت ...

کمیٹی (BC) کی باقی ماندہ اقساط اور بہن کو دیے گئے قرض پر زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      میں نے کُل ساڑھے بارہ لاکھ روپے کی دو کمیٹیاں (بی سی) ڈالی ہوئی تھیں، جن کی رقم میں پہلے ہی وصول کرکے اپنے کاروبار اور ضروریات میں خرچ کر چکا ہوں، تاہم ان کمیٹیوں کی مد میں اب بھی چھ لاکھ روپے کی رقم واجب الادا ہے جو مجھے اگلے ایک سال کے دوران ماہانہ 45 ہزار روپے کی قسطوں کی صورت میں ادا کرنی ہے۔ اس کے علاوہ میرے پاس موجودہ اثاثوں میں آٹھ لاکھ روپے مالیت کا سونا اور چاندی موجود ہے، جبکہ چھ لاکھ روپے نقد میں نے اپنی بہن کو آٹھ ماہ قبل بطورِ قرض دیے تھے، جس کی واپسی کے متعلق فی الحال کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کب تک واپس مل پائے گی۔ اب میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ زکات کا حساب لگاتے وقت کیا وہ چھ لاکھ روپے جو کمیٹی کی مد میں مجھ پر قرض ہیں، اپنے موجودہ اثاثوں سے منہا (Deduct) کروں گا؟ نیز، جو رقم میں نے بہن کو قرض دی ہے، کیا اس پر بھی ابھی سے زکات واجب ہوگی جبکہ اس کی واپسی کا کوئی وقت طے نہیں ہے؟ ان تمام تفصیلات کی روشنی میں شرعی طور پر مجھ پر کتنی رقم کی زکات ادا کرنا لازم ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      جب کوئی شخص کمیٹی کی رقم اپ...

وراثت میں ملنے والے مکان اور اس سے حاصل ہونے والی کرائے کی رقم پر زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ہماری والدہ کے نام پر ایک گھر تھا جو فی الوقت کرائے پر دیا ہوا ہے، اور والدہ کی وفات کے بعد اس مکان کی باقاعدہ شرعی تقسیم ابھی تک ورثاء کے درمیان نہیں ہوسکی ہے۔ اس مکان سے حاصل ہونے والا کرایہ پچھلے چھ ماہ سے زائد عرصے سے ہمارے والد صاحب کے پاس جمع ہو رہا ہے، جبکہ والد صاحب خود اس مکان میں رہائش پذیر نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنے بچوں کے پاس دوسرے گھر میں رہتے ہیں۔ ہم یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس وراثتی مکان کی مالیت پر بذاتِ خود زکات واجب ہوگی؟ نیز، اس مکان سے حاصل ہونے والی کرائے کی وہ رقم جو ابھی تک تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم نہیں کی گئی ہے، بلکہ والد صاحب کے پاس ہی اکٹھی ہو رہی ہے، اس پر زکات کا کیا حکم ہوگا؟ کیا اس غیر تقسیم شدہ رقم پر زکات کی ادائیگی فی الحال لازم ہے یا یہ تقسیم کے بعد ہر وارث کے انفرادی نصاب کے مطابق دیکھی جائے گی؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      وراثت میں ملنے والے مکان اور اس سے حاصل ہونے والی کرائے کی رقم پر زکات کے حوالے سے رہنمائی یہ ہے کہ جو مکان یا جائیداد وراثت میں ملے، اس کی اصل مالیت...

مستحقِ زکات مقروض سے حیلۂ تملیک کے ذریعے، اپنی زکات ادا کرنے اور اپنا قرض ادا کروانے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       اگر زید نے عمر کو قرض دیا تھا، اور اب زید اپنے مال کی زکات نکالنا چاہتا ہے۔ عمر مقروض (قرض دار) ہے اور زکات کا مستحق بھی ہے۔ زید نے عمر سے کہا کہ میں تمہیں زکات دیتا ہوں، پھر تم اسی رقم سے میرا قرض ادا کر دینا — تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      جی ہاں، ایسا کرنا درست اور جائز ہے، بشرطیکہ چند تقاضے پورے کیے جائیں۔      براہِ راست قرض کو زکات میں وضع کرنا، یعنی یہ کہہ دینا کہ میں نے تمھارا قرض معاف کیا اور اسے اپنی زکات میں شمار کر لیا، یہ تو ٹھیک نہیں ہے، لیکن رقم دے کر اسے واپس لینا جائز ہے۔ البتہ اس عمل کے درست ہونے کے لیے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ زید زکات کی رقم عمر کے ہاتھ میں دے دے اور اسے اس کا مکمل مالک بنادے۔ جب رقم عمر کے ہاتھ میں آجائے گی تو زکات ادا ہو جائے گی۔ اور عمر پر، جو کہ مقروض ہے، یہ لازم نہیں ہے کہ وہ وہی رقم واپس کرے۔ اگر وہ رقم لینے کے بعد اسے اپنی کسی اور ضرورت میں خرچ کر دے، تو زید اس پر زبردستی نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر عمر اپنی مرضی اور دیانتداری سے وہ رقم زید کو ق...

زکات کی رقم سے مسجد میں اجتماعی افطار کروانے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      میں ایک مسجد میں تقریباً ایک سو افراد کے لیے افطار کا اہتمام کرنا چاہتی ہوں جس پر اندازاً پچاس ہزار روپے کا خرچ آئے گا، لہٰذا میں یہ رہنمائی چاہتی ہوں کہ کیا شرعی طور پر زکات کی رقم کو مسجد میں اس طرح افطار پارٹی کروانے اور لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کے حوالے سے شریعتِ مطہرہ کا ایک بنیادی اور قطعی اصول تملیک ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ زکات کی رقم یا مال کسی ایسے شخص کو مکمل طور پر مالک بنا کردیا جائے جو شرعی طور پر زکات کا مستحق ہو۔ مسجد میں اجتماعی افطار کا اہتمام کرنا جس میں ہر خاص و عام، امیر و غریب اور مسافر شرکت کرتے ہوں، اس میں زکات کی رقم صرف کرنا درست نہیں ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ زکات کی رقم سے تیار کردہ کھانا یا افطاری جب ایک عام دسترخوان پر رکھ دی جاتی ہے، تو وہاں تملیک (یعنی کسی غریب کو مالک بنادینا) کا عمل مکمل نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک عمومی اباحت (اجازتِ طعام) کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔      نیز چونکہ مسجد میں ہونے والی افطاری میں اکثر ...

بے روزگار بیٹی کے سونے پر زکات کا اور ادائیگی کے لیے اُس کے پاس نقد رقم نہ ہونے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ہم نے اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر سونا تحفے میں دیا تھا۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا اس سونے پر زکات ادا کرنا بیٹی پر فرض ہے، جبکہ بیٹی فی الحال کہیں ملازمت نہیں کر رہی ہے اور اس کے پاس زکات ادا کرنے کے لیے نقد رقم بھی موجود نہیں ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے مطابق، جب کسی لڑکی کو اس کی شادی کے موقع پر سونا تحفے میں دے دیا جائے اور وہ اس کی مکمل مالک اور قابض بن جائے، تو اس مال کی زکات کی ادائیگی کی بنیادی ذمہ داری شرعی طور پر خود اسی لڑکی پر عائد ہوتی ہے۔      اور اسلام میں زکات کا تعلق انسان کی ملکیت اور مال کی نامی (بڑھنے والی) صفت سے ہے؛ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ زکات ادا کرنے والا لازمی طور پر ملازمت پیشہ ہو یا اس کی اپنی کوئی مستقل آمدنی ہو۔      لہٰذا اگر اس سونے کی مقدار نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ کو پہنچتی ہو، یا سونے کے ساتھ کچھ تھوڑی بہت نقدی اور چاندی بھی موجود ہے جس کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر ہوجاتی ہو، تو سال گزرنے پر اس...

سرمایہ کاری کی رقم اور غیر یقینی منافع پر زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       تقریباً ڈیڑھ سال قبل میرے گھر والوں نے اپنی ملکیت میں موجود 17 تولہ سونا (22 قیراط) اور 10 تولہ (100 گرام) خالص سونے کا بسکٹ (24 قیراط) فروخت کرکے حاصل ہونے والی 20 لاکھ روپے کی رقم میرے ایک قریبی رشتہ دار کی کمپنی میں بطورِ سرمایہ کاری لگائی تھی۔ اس سرمایہ کاری پر فریقین کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ ہونے والے منافع میں سے 70 فیصد حصہ سرمایہ کار (گھر والوں) کا ہوگا جبکہ 30 فیصد کمپنی کا ہوگا۔ اس حساب سے اُس قریبی رشتہ دار کی جانب سے 11 ماہ کی مدت گزرنے پر 20 لاکھ روپے کی اصل رقم کے ساتھ 14 لاکھ روپے متوقع منافع ملا کر کل 34 لاکھ روپے واپس کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔      معاہدے کے مطابق اس رقم کی واپسی مئی 2025 سے شروع ہو کر اکتوبر 2025 تک مختلف اقساط میں مکمل ہونی تھی، لیکن اب 2026 کا سال شروع ہو چکا ہے اور تاحال اُس قریبی رشتہ دار کی جانب سے رقم کی واپسی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی، بلکہ صرف "آج - کل" کے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ میرے گھر والوں کے ہاں زکات کا سال ہر سال یکم شعبان کو مکمل ہوتا ہے اور وہ اسی تاریخ کے حساب سے اپنی زکات کا حساب ل...

رہائشی فلیٹ کی خریداری کے لیے دی گئی رقم اور اقساط پر زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       اگر کسی شخص نے اپنے پیسے اور اپنی بیوی کے زیورات بیچ کر حاصل ہونے والے فنڈز فلیٹ کی خریداری میں لگائے ہیں، لیکن فلیٹ ابھی تک اس کی ملکیت میں نہیں آیا اور نہ ہی اس کی مکمل قیمت ادا کی گئی ہے، بلکہ مزید رقم کی ادائیگی باقی ہے، تو کیا اس لگائی گئی رقم پر زکات واجب ہوگی؟ واضح رہے کہ یہ گھر رہائش کی نیت سے خریدا گیا ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      محترم بھائی، اللہ تعالیٰ آپ کے ارادوں میں برکت عطا فرمائے اور آپ کو جلد از جلد اپنے ذاتی گھر کی خوشیاں دیکھنا نصیب کرے۔      شریعت کا یہ ایک بڑا احسان اور سہولت ہے کہ اس نے حاجتِ اصلیہ (انسان کی بنیادی ضروریات) کو زکات سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ جب آپ نے اپنی اور اپنی اہلیہ کی جمع پونجی اور زیورات کو ایک ایسے فلیٹ کی خریداری میں لگا دیا ہے جس کا مقصد رہائش ہے، تو اس رقم کی حیثیت اب تبدیل ہو چکی ہے۔      زکات اس مال پر واجب ہوتی ہے جو نامی ہو، یعنی وہ مال جو بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسے نقد رقم، سونا، چاندی یا مالِ تجارت۔ جو رقم آپ فلیٹ کے لیے ادا کر چکے ہیں، وہ اب ...