(سوال): ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...
(مسئلہ): اگر ڈیجیٹل نقشے یا قطب نما ( Compass ) وغیرہ کے ذریعے کسی خاص مقام پر قبلہ کی سمت کا تعین ہو جائے (مثلاً وہ سمت ۲۶۸ ڈگری پر بتا رہا ہو)، تو شرعی طور پر ایک نمازی کے لیے اس متعین سمت سے دائیں یا بائیں مڑنے کی کتنی حد تک گنجائش موجود ہے؟ نیز ۲۳ ڈگری تک گھوم سکنے کی جو بات کہی جاتی ہے، اس کی حقیقت اور شرعی حیثیت کیا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم شریعتِ مطہرہ میں قبلہ رخ ہونے کا حکم انسانی استطاعت اور سہولت کے مطابق ہے، جس کی بنیاد عینِ کعبہ اور جہتِ کعبہ کے فرق پر رکھی گئی ہے۔ جو شخص مکہ مکرمہ سے دور ہو، اس کے لیے کعبہ کی بالکل ٹھیک سمت (عینِ کعبہ) پر ہونا ضروری نہیں، بلکہ جہتِ قبلہ یعنی کعبہ کی عمومی سمت کا پایا جانا کافی ہے۔ دینِ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو ہر دور اور ہر علاقے کے انسانوں کے لیے آیا ہے۔ اگر دور دراز رہنے والے مسلمانوں پر بالکل ایک مخصوص نقطے پر رخ کرنا فرض کر دیا جاتا، تو یہ عام انسانوں کے لیے ایک ناقابلِ برداشت مشقت بن جاتی اور نماز جیسی سہل عبادت ایک پیچیدہ ریاضیاتی الجھن میں تبدیل ہو جاتی۔ انسان کی ظاہری ساخت اور چہرے کی وسعت کو س...