(سوال): کیا قرآنِ کریم کے بوسیدہ اوراق کو جلایا جاسکتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم احترام اور تقدس کی علامت: قرآنِ کریم کا ایک قدیم اور پرنور نسخہ، جو کلامِ الہی کی عظمت کی یاد دلاتا ہے۔ قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا کلام ہے اور اس کا احترام و تقدس شعائرِ اسلام میں سے ہے، جس کی پاسداری ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے۔ جب قرآنِ کریم کے اوراق قدیم ہونے کی وجہ سے بوسیدہ ہو جائیں یا تلاوت کے قابل نہ رہیں، تو ان کی بے ادبی سے بچنا اور انہیں اپنے پاس سے کسی موزوں اور محفوظ طریقے سے نکالنا ایک دینی ضرورت بن جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پسندیدہ اور محتاط طریقہ یہ ہے کہ ان اوراق کو کسی پاک کپڑے یا تھیلی میں لپیٹ کر ایسی جگہ دفن کردیا جائے جہاں لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو اور پامالی کا اندیشہ نہ رہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک مومن کے جسدِ خاکی کو وفات کے بعد عزت و احترام کے ساتھ پیوندِ خاک کیا جاتا ہے تاکہ وہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے اور اس کی حرمت برقرار رہے۔ جہاں تک بوسیدہ اوراق کو جلانے کا تعلق ہے، تو عام حالات میں تو اوراقِ قرآنی کو جلانا ناپسندیدہ ہے کی...
(سوال): کیا قرآنِ کریم کے بوسیدہ اوراق کو جلایا جاسکتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم احترام اور تقدس کی علامت: قرآنِ کریم کا ایک قدیم اور پرنور نسخہ، جو کلامِ الہی کی عظمت کی یاد دلاتا ہے۔ قرآنِ کریم اللہ رب العزت کا کلام ہے اور اس کا احترام و تقدس شعائرِ اسلام میں سے ہے، جس کی پاسداری ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے۔ جب قرآنِ کریم کے اوراق قدیم ہونے کی وجہ سے بوسیدہ ہو جائیں یا تلاوت کے قابل نہ رہیں، تو ان کی بے ادبی سے بچنا اور انہیں اپنے پاس سے کسی موزوں اور محفوظ طریقے سے نکالنا ایک دینی ضرورت بن جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پسندیدہ اور محتاط طریقہ یہ ہے کہ ان اوراق کو کسی پاک کپڑے یا تھیلی میں لپیٹ کر ایسی جگہ دفن کردیا جائے جہاں لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو اور پامالی کا اندیشہ نہ رہے، بالکل اسی طرح جیسے ایک مومن کے جسدِ خاکی کو وفات کے بعد عزت و احترام کے ساتھ پیوندِ خاک کیا جاتا ہے تاکہ وہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے اور اس کی حرمت برقرار رہے۔ جہاں تک بوسیدہ اوراق کو جلانے کا تعلق ہے، تو عام حالات میں تو اوراقِ قرآنی کو جلانا ناپسندیدہ ہے کی...