(مسئلہ):
ایک صاحب نے دریافت کیا ہے کہ میرے دادا کا انتقال 1965ء میں ہوا، ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بڑے بیٹے کا انتقال 2010ء میں ہوا جن کے تین بچے ہیں۔ سب سے چھوٹے چچا کا انتقال 2020ء میں ہوا اور ان کی بیوہ کا بھی حال ہی میں انتقال ہو گیا، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم لاولد چچا کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ کیا ان کے باقی ماندہ تین بھائیوں اور فوت شدہ بھائی کے بچوں (بھتیجوں) کے درمیان تقسیم ہوگی یا کوئی اور حکم ہے؟
(([نوٹ]: یہ سوال واٹس ایپ کے ایک گروپ میں بذریعہ ٹیکسٹ موصول ہوا تھا، جسے قارئین کی سہولت کے لیے ضروری نوک پلک سنوارنے کے بعد معمولی لفظی تبدیلیوں کے ساتھ یہاں پیش کیا گیا ہے۔))
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ سے توفیق مانگتے ہوئے، اِس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ:
پوچھی گئی صورت میں چوں کہ مرحوم چچا بے اولاد تھے، لہذا قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق ان کی بیوہ کا حصہ کل جائیداد میں ایک چوتھائی (1/4) مقرر ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ" (النساء: 12)، یعنی اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہاری بیویوں کا تمہارے ترکے میں چوتھائی حصہ ہے۔
اور علمِ فرائض کا ایک اصول ہے: "الاقرب فالاقرب" یعنی وراثت میں قریب والا رشتہ دار دور والے کو محروم کر دیتا ہے، اور چوں کہ بھائی بھتیجے کے مقابلے میں زیادہ قریبی رشتہ دار ہوتا ہے؛ لہذا مرحوم کے بھائیوں کی موجودگی کی وجہ سے، اُن کے پہلے سے فوت شدہ بھائی کی اولاد کو اس ترکے میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
تقسیم کی تفصیل:
اگر فرض کریں کہ واجبات (کفن دفن کے اخراجات، قرض کی واپسی اور تہائی مال تک کی جائز وصیت) کی ادائیگی کے بعد کل ترکہ 10 لاکھ روپے ہے، تو تقسیم اس طرح ہوگی کہ سب سے پہلے کل رقم کا چوتھائی حصہ یعنی ڈھائی لاکھ روپے مرحوم کی بیوہ کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ چوں کہ بیوہ کا انتقال شوہر کے بعد ہوا ہے، اس لیے یہ رقم اب بیوہ کے اپنے شرعی ورثاء (ان کے بھائی، بہن وغیرہ) میں تقسیم ہوگی۔ پھر بیوہ کا حصہ نکالنے کے بعد باقی ماندہ رقم (ساڑھے سات لاکھ روپے) مرحوم چچا کے تینوں زندہ بھائیوں میں برابر تقسیم کی جائے گی۔ ہر بھائی کے حصے میں ڈھائی لاکھ روپے آئیں گے۔
یعنی اِس طرح:
- کل ترکہ: 10,00,000 روپے
- بیوہ کا حصہ (1/4): 2,50,000 روپے
- باقی ماندہ (75 فیصد): 7,50,000 روپے
- 3 بھائیوں کا حصہ: 2,50,000 روپے (فی کس)
- بھتیجوں کو: کچھ نہیں۔
لیکن اگر مرحوم چچا کی وفات کے وقت ان کی بہن بھی حیات تھی، تو پھر بیوہ کا حصہ نکالنے کے بعد باقی رقم (ساڑھے سات لاکھ) کو بھائیوں اور بہن کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر بھائی کو بہن کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا (للذكر مثل حظ الأنثيين - النساء: 176)۔ اس صورت میں کل 7 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے بہن کو ایک حصہ اور ہر بھائی کو دو دو حصے ملیں گے۔
یعنی اب اِس طرح:
- کل ترکہ: 10,00,000 روپے
- بیوہ کا حصہ (1/4): 2,50,000 روپے
- باقی ماندہ (75 فیصد): 7,50,000 روپے
- 3 بھائیوں کا حصہ: 2,14,285.71 روپے (فی کس) [یعنی تقریباً دو لاکھ چودہ ہزار دو سو چھیاسی روپے]
- 1 بہن کا حصہ: 1,07,142.86 [یعنی تقریباً ایک لاکھ سات ہزار ایک سو تینتالیس روپے]
- بھتیجوں کو: کچھ نہیں۔
خلاصہ: مرحوم چچا کی جائیداد میں سے واجبات (کفن دفن کے اخراجات، قرض کی واپسی اور تہائی مال تک کی جائز وصیت) کی ادائیگی کے بعد 25 فیصد بیوہ کا ہوگا اور باقی 75 فیصد زندہ بھائیوں (اور بہن، اگر ہو) میں تقسیم ہوگا۔ بھتیجوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
حکیمانہ پہلو:
وراثت کے اِس مذکورہ بالا پورے مسئلے میں کچھ لطیف حکمتیں بھی ملحوظ ہیں:
وراثت کی بنیاد "الغنم بالغرم" (نفع کا استحقاق ذمہ داری کے بدلے) پر ہے۔ چوں کہ خاندان کے نظامِ کفالت میں ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے بھائیوں کا کردار بھتیجوں کے مقابلے میں زیادہ اور طاقتور ہوتا ہے؛ اس لیے میت کے بھائیوں کا رتبہ بھتیجوں سے مقدم مانا گیا ہے۔ نیز وراثت دراصل میت کے قریب ترین قرابت داروں کا حق بھی ہے؛ تاکہ مال ان لوگوں تک پہنچے جو میت کی زندگی میں اس کے دکھ سکھ کے براہِ راست شریک تھے۔ تو بھائیوں کی موجودگی میں بھتیجوں تک مال کا نہ جانا دراصل اسی قرابت کی ترتیب کو برقرار رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی رشتوں میں رکھی ہے۔
اب سوال والی صورت میں اگرچہ بھتیجے شرعاً وارث نہیں ہیں، لیکن شریعت نے "وصیت" کا دروازہ کھلا رکھا ہے کہ اگر کوئی چچا اپنے یتیم بھتیجوں کی مالی حالت دیکھ کر ان کے لیے کچھ کرنا چاہے، تو وہ اپنی زندگی میں ایک تہائی مال تک ان کے حق میں وصیت کر سکتا ہے۔ یہ عدل اور احسان کا وہ حسین امتزاج ہے جو صرف اسلام میں ملتا ہے۔
[نوٹ]: یہ حکیمانہ پہلو صرف بصیرت و اطمینان میں اضافے کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا مسئلے کے دیے گئے جواب کی اصل بنیاد میراث والی نصوص اور علمِ فرائض کے اصول و قواعد اور ضابطوں پر ہے!
باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے!
(جواب مکمل ہوگیا۔)
=============================================
=============================================
کچھ ضروری باتیں:
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں.
اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں