(مسئلہ):
تین افراد: زید، عمر اور خالد (فرضی نام) کے درمیان زمین کی خرید و فروخت کی ایک صورت پیش آئی ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ عمر نے زید (جو زمین کا اصل مالک ہے) سے اس کی زمین بارہ لاکھ ساٹھ ہزار (12,60,000) روپے کے عوض خریدنے کا سودا کیا، اور یہ طے پایا کہ وہ 20 دن کے اندر رقم کی ادائیگی کر دے گا جس کے بعد زید کاغذات سے اپنا نام ہٹا کر خریدار کا نام شامل کر دے گا۔ اس سودے کو پختہ کرنے اور زمین کو اپنے لیے روکنے کی خاطر عمر نے اپنی جیب سے پانچ ہزار روپے بطورِ بیعانہ (ٹوکن منی) زید کو ادا کر دیے تاکہ وہ یہ زمین کسی اور کو فروخت نہ کرے۔ اس کے بعد عمر نے وہی زمین آگے خالد کو اپنے خرید کردہ نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت کر دی۔ جب خالد نے عمر کو رقم ادا کی، تو عمر نے اس میں سے زید کو اس کے طے شدہ بارہ لاکھ ساٹھ ہزار روپے ادا کر دیے اور باقی اوپر کی رقم بطورِ منافع اپنے پاس رکھ لی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا عمر کے لیے اس طرح کا نفع کمانا اور اپنے پاس رکھنا شرعاً جائز ہے؟
(رہنمائی):
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اس معاملے میں، عمر کا زید سے زمین خرید کر، اُس پر مکمل قبضہ یا کاغذات کی منتقلی سے پہلے ہی اسے خالد کو بیچ کر نفع کمانا، جائز اور حلال ہے؛ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خرید و فروخت کا معاملہ ایجاب و قبول سے ہی منعقد ہو جاتا ہے۔ لہٰذا جب عمر نے زید کو بیعانہ دے کر یہ واضح کر دیا کہ ”میں اس کا سودا پکا کر رہا ہوں“ اور زید اس پر راضی ہو گیا، تو اسی وقت زمین شرعی طور پر عمر کی ملکیت میں آ گئی۔ اب اگرچہ پوری رقم کی ادائیگی باقی تھی یا سرکاری کاغذات میں نام تبدیل نہیں ہوا تھا، لیکن شرعی ملکیت ثابت ہو جانے کی وجہ سے عمر کو یہ اختیار حاصل ہو گیا کہ وہ اپنی چیز کو آگے فروخت کر سکے۔
ویسے تو عام طور پر کسی چیز کو خرید کر اس پر قبضہ کرنے سے پہلے آگے بیچنا منع ہے، لیکن امامِ اعظم ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے نزدیک یہ ممانعت منقولی اشیاء (جیسے گاڑی، اناج وغیرہ) کے لیے ہے؛ کیونکہ ان میں ہلاک ہونے یا غائب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ جب کہ ”عقار“ یعنی زمین، پلاٹ یا مکان جیسی غیر منقولی جائیداد کو قبضہ کرنے سے پہلے بھی آگے بیچنا ان حضرات کے نزدیک جائز ہے، کیونکہ زمین اپنی جگہ قائم رہتی ہے اور اس کے ہلاک ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ ”ہدایہ“ وغیرہ سے یہی معلوم ہوتا ہے، یعنی زمین کو قبضے سے پہلے بیچنا شیخین کے نزدیک جائز ہے۔
اب جہاں تک اس نفع کا تعلق ہے جسے عمر نے زید کی رقم ادا کرنے کے بعد اپنے پاس رکھ لیا، تو وہ بھی حلال ہے؛ کیونکہ مشہور اصول ہے ”الخراج بالضمان“ یعنی نفع اسی کا ہوتا ہے جو نقصان کا ذمہ دار ہو۔ چونکہ سودا پکا ہوتے ہی زمین کا رسک عمر کے سر آ گیا تھا کہ اگر خدانخواستہ زمین کی قیمت گر جاتی تو نقصان عمر کا ہوتا، لہٰذا اب جب قیمت بڑھنے سے فائدہ ہوا تو اس فائدے کا حق دار بھی عمر ہی ہے۔ اس لیے عمر نے خالد سے رقم لے کر پہلے زید کا قرض اتارا اور باقی رقم نفع کے طور پر خود رکھی، یہ عمل جائز ہے اور اس کمائی میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ہاں اگر عمر نے زید سے سودا پکا نہیں کیا ہوتا، بلکہ صرف "ایجنٹ" بن کر بیچتا، تو پھر وہ چھپا کر نفع نہیں رکھ سکتا تھا، بلکہ صرف طے شدہ کمیشن لے سکتا تھا۔ لیکن یہاں سوال سے صاف ظاہر ہے کہ عمر نے زمین خریدی تھی، اس لیے وہ مالک بن کر آگے جس قیمت پر چاہے بیچ سکتا ہے۔
[نوٹ]: مذکورہ بالا جواب اس صورت میں ہے جب زید اور عمر کے درمیان باقاعدہ سودا (ایجاب و قبول) طے پا گیا ہو اور بیع منعقد ہو چکی ہو، جیسا کہ اوپر والے سوال سے بظاہر ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر ”ٹوکن“ صرف اس لیے دیا گیا تھا کہ ”مستقبل میں سودا کریں گے“ (یعنی صرف وعدہ تھا، سودا نہیں) تو پھر عمر کا مالک بننے سے پہلے آگے بیچنا جائز نہیں ہوگا۔ (واللہ اعلم)
=============================================
=============================================
(کچھ ضروری باتیں)
- یہ جواب پوچھنے والے کے مخصوص سوال اور فراہم کردہ حالات کے مطابق ہے۔ عام قارئین اِس کو اپنے مخصوص حالات پر منطبق کرنے سے پہلے کسی مستند مفتی یا عالمِ دین سے مشورہ ضرور کر لیں۔
- اگر آپ اردو نہیں پڑھ سکتے، تو اِس صفحہ کے اوپر داہنی طرف Three Lines پر کلک کریں اور Translate کے بٹن کے تحت اپنی قابلِ فہم زبان منتخب کریں۔ اِس طرح آپ ترجمہ کی مدد سے بھی بآسانی پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں۔
- آپ بھی اپنا سوال ویب سائٹ کے "مسئلہ پوچھیں | Ask a Question" فارم کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
- اِس رہنمائی کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں، اجر ملے گا۔ اور علمی امانت کی حفاظت کی خاطر تحریر کو بغیر کسی تبدیلی کے اصل لنک کے ساتھ شیئر فرمائیں.
اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں