نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

سرمایہ کاری کی رقم اور غیر یقینی منافع پر زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       تقریباً ڈیڑھ سال قبل میرے گھر والوں نے اپنی ملکیت میں موجود 17 تولہ سونا (22 قیراط) اور 10 تولہ (100 گرام) خالص سونے کا بسکٹ (24 قیراط) فروخت کرکے حاصل ہونے والی 20 لاکھ روپے کی رقم میرے ایک قریبی رشتہ دار کی کمپنی میں بطورِ سرمایہ کاری لگائی تھی۔ اس سرمایہ کاری پر فریقین کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ ہونے والے منافع میں سے 70 فیصد حصہ سرمایہ کار (گھر والوں) کا ہوگا جبکہ 30 فیصد کمپنی کا ہوگا۔ اس حساب سے اُس قریبی رشتہ دار کی جانب سے 11 ماہ کی مدت گزرنے پر 20 لاکھ روپے کی اصل رقم کے ساتھ 14 لاکھ روپے متوقع منافع ملا کر کل 34 لاکھ روپے واپس کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔      معاہدے کے مطابق اس رقم کی واپسی مئی 2025 سے شروع ہو کر اکتوبر 2025 تک مختلف اقساط میں مکمل ہونی تھی، لیکن اب 2026 کا سال شروع ہو چکا ہے اور تاحال اُس قریبی رشتہ دار کی جانب سے رقم کی واپسی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی، بلکہ صرف "آج - کل" کے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ میرے گھر والوں کے ہاں زکات کا سال ہر سال یکم شعبان کو مکمل ہوتا ہے اور وہ اسی تاریخ کے حساب سے اپنی زکات کا حساب ل...

زکات کی ادائیگی اور قرض کی واپسی کی ایک خاص تدبیر کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       میں نے ماضی میں اپنی ایک کزن (قریبی عزیزہ) کو اُس کے شوہر کے کینسر کے علاج کے لیے پچاس ہزار روپے بطورِ قرض دیے تھے۔ بعد میں جب کزن کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو اس نے اپنا سونا فروخت کرکے دیگر لوگوں کے واجبات تو ادا کردیے، لیکن میں نے اس بیوہ کزن کی کسمپرسی اور پریشانی دیکھ کر اس وقت مروت میں اپنا قرض واپس نہیں مانگا، جس کی وجہ سے وہ پچاس ہزار روپے اب بھی اس کزن کے ذمہ واجب الادا ہیں اور وہ کزن فی الوقت زکات کی مستحق بھی ہے۔      اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ مجھے خود اپنے مال کی زکات ادا کرنی ہے، لیکن میرے پاس فی الوقت نقد رقم کی کچھ کمی محسوس ہو رہی ہے۔ اس موقع پر مجھے کسی کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ میں ایک مخصوص تدبیر یا حیلہ اختیار کروں۔ جس کی صورت یہ بنتی ہے کہ میں پہلے، پچاس ہزار روپے نقد اپنی کزن کو زکات کی نیت سے دے دوں۔ اس کے بعد وہ کزن وہی پچاس ہزار روپے مجھے اس پرانے قرض کی واپسی کے طور پر واپس کر دے جو اس نے علاج کے لیے لیا تھا۔ جب وہ رقم میرے پاس واپس آجائے، تو میں وہی رقم دوبارہ اسی کزن کو دوسری بار زکات کی نیت سے دے دوں۔ اس ط...

ایک عالمِ دین کی، خودکشی کرلینے والے اپنے چچازاد بھائی کے جنازے میں شرکت کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ہمارے ایک چچا زاد بھائی نے چند دن قبل زہر کھا لیا تھا، جس کے بعد وہ اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ اب اطلاع ملی ہے کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔      معلوم یہ کرنا ہے کہ فقہائے کرام نے خودکشی کرنے والے شخص کے بارے میں لکھا ہے کہ علماء اور مقتداء سمجھے جانے والے افراد بطورِ زجر و تنبیہ اس کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہ کریں۔ احادیث میں بھی آتا ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ خود ادا نہیں فرمائی، البتہ صحابۂ کرام (رضی اللہ عنہم) نے نمازِ جنازہ ادا کی۔      ہمارے والد محترم ہمارے یہاں کی علماء انجمن کے صدر ہیں، اور انجمن کا ایک ضابطہ بھی ہے کہ ایسے شخص کے جنازہ میں علماء کی شرکت نہ ہو۔ اس وقت والد صاحب شہر سے باہر ہیں۔      اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بندہ کے لیے اس جنازہ میں شرکت کیسارہےگا؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      یہ ایک انتہائی کربناک اور حساس معاملہ ہے، خاص طور پر جب معاملہ اپنے ہی قریبی عزیز (چچا زاد بھائی) کا ہو۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ...

تقسیمِ ترکہ: نقد رقم، پلاٹ اور مکان میں ورثاء کے حصوں کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ایک صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے ترکہ (چھوڑی ہوئی جائیداد) کی تفصیل یہ ہے کہ نقد رقم: ₹12,50,000 ہے، دو (2) پلاٹس ہیں جو تقریباً ₹25,00,000 کے ہیں اور ایک مکان امبرناتھ میں ہے، جس میں نیچے 3 کمرے اور اوپر 3 کمرے ہیں۔ ورثاء میں بیوی، ایک (1) بیٹا اور دو (2) بیٹیاں ہیں۔      مہربانی فرما کر شریعت کے مطابق رہنمائی فرمائیں کہ اس ترکہ کو کس طرح تقسیم کیا جائے اور ہر وارث کو کتنا حصہ ملے گا؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      ترکہ کی تقسیم سے پہلے میت کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے۔ اگر میت کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کی ادائیگی کی جائے گی۔ اور اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہو تو وہ کل ترکہ کے ایک تہائی حصے سے پوری کی جائے گی۔ ان تمام امور کے بعد جو کچھ بچے گا، وہ ورثاء میں تقسیم ہوگا۔      میت کے کل ترکہ کو بتیس (٣٢) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اُن میں سے، اولاد کی موجودگی کی وجہ سے، بیوہ کو کل ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا، یعنی ٣٢ میں سے ٤ حصّے۔ بیوہ کا حصہ نکالنے کے بعد باقی بچا ہوا ترکہ بچوں ...

رہائشی فلیٹ کی خریداری کے لیے دی گئی رقم اور اقساط پر زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       اگر کسی شخص نے اپنے پیسے اور اپنی بیوی کے زیورات بیچ کر حاصل ہونے والے فنڈز فلیٹ کی خریداری میں لگائے ہیں، لیکن فلیٹ ابھی تک اس کی ملکیت میں نہیں آیا اور نہ ہی اس کی مکمل قیمت ادا کی گئی ہے، بلکہ مزید رقم کی ادائیگی باقی ہے، تو کیا اس لگائی گئی رقم پر زکات واجب ہوگی؟ واضح رہے کہ یہ گھر رہائش کی نیت سے خریدا گیا ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      محترم بھائی، اللہ تعالیٰ آپ کے ارادوں میں برکت عطا فرمائے اور آپ کو جلد از جلد اپنے ذاتی گھر کی خوشیاں دیکھنا نصیب کرے۔      شریعت کا یہ ایک بڑا احسان اور سہولت ہے کہ اس نے حاجتِ اصلیہ (انسان کی بنیادی ضروریات) کو زکات سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ جب آپ نے اپنی اور اپنی اہلیہ کی جمع پونجی اور زیورات کو ایک ایسے فلیٹ کی خریداری میں لگا دیا ہے جس کا مقصد رہائش ہے، تو اس رقم کی حیثیت اب تبدیل ہو چکی ہے۔      زکات اس مال پر واجب ہوتی ہے جو نامی ہو، یعنی وہ مال جو بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو جیسے نقد رقم، سونا، چاندی یا مالِ تجارت۔ جو رقم آپ فلیٹ کے لیے ادا کر چکے ہیں، وہ اب ...

نادہندہ مقروض کا بینک کی جانب سے ضبط شدہ مکان، بینک سے خریدنے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      اگر زید نے، پیسوں کی کمی کی وجہ سے بینک سے قسط وار ادائیگی کی شرط پر Loan لےکر، ۱۳/ لاکھ میں ایک مکان خریدا، پھر کچھ قسطوں کے بعد ادائیگی رک جانے اور نہ ہونے کی بنا پر بینک نے، پہلے وارننگ دینے کے بعد بالآخر، مکان سیل کرکے اپنے قبضے لےلیا …… تو کیا اب خالد اُس مکان کو بینک سے خرید سکتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      یہ مسئلہ دور حاضر کے پیچیدہ مالیاتی معاملات میں سے ہے، جس میں بینکاری کی جدید اصطلاحات اور شرعی احکام کا باہمی تعامل موجود ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اصل معاملہ کیا تھا اور اب اس کی شرعی نوعیت کیا ہے۔      جب زید نے یہ مکان خریدنے کے لیے بینک سے مالی امداد لی تھی، تو عام طور پر اِس قسم کا معاملہ دو صورتوں میں سے کسی ایک پر مبنی ہوتا ہے۔ یا تو یہ سودی قرض کی شکل میں ہوا ہوگا جس میں مکان کو گروی رکھا گیا ہوگا، یا پھر بینک نے خود یہ مکان خریدکر اسے منافع کے ساتھ زید کو قسط وار فروخت کیا ہوگا۔ دونوں صورتوں میں اگرچہ ابتدائی معاملے میں سود کا شائبہ ہو سکتا ہے، لیکن بعد ازاں جو ...

قبلہ رُخ ہونے میں، دائیں یا بائیں مڑنے کی حد کا ایک مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      اگر ڈیجیٹل نقشے یا قطب نما ( Compass ) وغیرہ کے ذریعے کسی خاص مقام پر قبلہ کی سمت کا تعین ہو جائے (مثلاً وہ سمت ۲۶۸ ڈگری پر بتا رہا ہو)، تو شرعی طور پر ایک نمازی کے لیے اس متعین سمت سے دائیں یا بائیں مڑنے کی کتنی حد تک گنجائش موجود ہے؟ نیز ۲۳ ڈگری تک گھوم سکنے کی جو بات کہی جاتی ہے، اس کی حقیقت اور شرعی حیثیت کیا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم شریعتِ مطہرہ میں قبلہ رخ ہونے کا حکم انسانی استطاعت اور سہولت کے مطابق ہے، جس کی بنیاد عینِ کعبہ اور جہتِ کعبہ کے فرق پر رکھی گئی ہے۔ جو شخص مکہ مکرمہ سے دور ہو، اس کے لیے کعبہ کی بالکل ٹھیک سمت (عینِ کعبہ) پر ہونا ضروری نہیں، بلکہ جہتِ قبلہ یعنی کعبہ کی عمومی سمت کا پایا جانا کافی ہے۔ دینِ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جو ہر دور اور ہر علاقے کے انسانوں کے لیے آیا ہے۔ اگر دور دراز رہنے والے مسلمانوں پر بالکل ایک مخصوص نقطے پر رخ کرنا فرض کر دیا جاتا، تو یہ عام انسانوں کے لیے ایک ناقابلِ برداشت مشقت بن جاتی اور نماز جیسی سہل عبادت ایک پیچیدہ ریاضیاتی الجھن میں تبدیل ہو جاتی۔ انسان کی ظاہری ساخت اور چہرے کی وسعت کو س...

مسلمان خطیب کا اپنی تقریر میں "ایشور، اللہ تیرو نام" والا شعر پڑھنے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      ایک خطیب صاحب نے اپنی تقریر میں یہ شعر پڑھا ہے: "ایشور اللہ تیرے نام -- سب کو بھگتی دے بھگوان" اِس کا پڑھنا کیسا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم     یہ شعر اصل میں یوں ہے: "ایشور، اللہ تیرو نام -- سب کو سَنمَتی دے بھگوان"۔ یہ دراصل ایک قدیم اور مشہور بھجن کا ایک شعر ہے، جس بھجن کو  عام طور پر اُس کی پہلی سطر یعنی "رگھوپتی راگھو راجہ رام" کے نام سے پکارا اور پہچانا جاتا ہے۔ ہندوستانی موسیقی اور مذہبی روایات میں اکثر بھجنوں کا کوئی الگ سے مخصوص عنوان نہیں ہوتا، بلکہ ان کا پہلا مصرع ہی ان کی شناخت بن جاتا ہے۔  تاہم، اس کے پس منظر کے حوالے سے اس بھجن کو "رام دُھن"، "ستیہ گرہ بھجن" اور "گاندھی جی کی پرارتھنا" وغیرہ ناموں سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ بھجن  اپنی اصل علمی شکل میں " شری نام رامائنم"  (Shri Nama Ramayanam) نامی منظوم تالیف کا ایک حصہ ہے۔         "رگھوپتی راگھو راجہ رام"  بھجن بنیادی طور پر  لکشمن آچاریہ  جی  (جنہیں بعض لوگ تلسی داس سے بھی منسوب کرتے ہیں)  کا تحریر ...

ہیوی ڈپازٹ دےکر کرایے پر لیے گئے مکان کو، کرایہ دار سے نارمل کرایے پر لینے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      ایک صاحب ( صاحب C ) ایک گھر کرائے پر لینا چاہتے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اس گھر کے مالک ( صاحب A ) نے وہ گھر پہلے ہی صاحب B کو 'ہیوی ڈپازٹ' (Heavy Deposit) پر کرائے پر دے رکھا ہے۔ صاحب B نے ایک بڑی رقم بطور ڈیپازٹ ادا کی ہے جس کی وجہ سے یا تو کرایہ بہت کم ہے یا بالکل معاف ہے۔ اب صاحب C، صاحب B سے وہی گھر نارمل کرائے کی شرائط پر لینا چاہتے ہیں۔ چونکہ صاحب B اور صاحب A کے درمیان ہونے والا 'ہیوی ڈپازٹ' کا معاملہ شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے، تو کیا صاحب C کے لیے صاحب B سے یہ گھر کرائے پر لینا جائز ہے؟ نیز، کیا قانونی طور پر ایک کرایہ دار (Tenant) آگے کسی اور کو گھر کرائے پر (Subletting) دے سکتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ ایک بہت اہم اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے کئی پہلو ہیں۔ جواب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ معاملے کی جڑ کہاں ہے اور اسلام کی حکیمانہ تعلیمات اس بارے میں کیا رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ جب ہم سوال میں بتائی گئی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو پہلی نظر میں لگتا ہے کہ یہ صرف ایک عام کرایہ داری کا معاملہ ہے، لیکن حقیقت میں یہاں ایک گہرا شرعی مسئلہ...

شیئر مارکیٹ میں چاندی میں سرمایہ کاری کا ایک مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      ایک صاحب شیئر مارکیٹ کے ذریعے چاندی (Silver) خریدنا چاہتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ ایک مخصوص قیمت پر رقم ادا کر دیتے ہیں اور چاندی ان کے نام پر خرید لی جاتی ہے، لیکن وہ چاندی ان کے اپنے قبضے میں نہیں آتی بلکہ وہیں مارکیٹ میں یا ڈیلر کے پاس ہی محفوظ رہتی ہے۔ بعد میں قیمت کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں وہ اسے بیچنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ کیا شرعی طور پر چاندی کی خرید و فروخت کی یہ صورت جائز ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شیئر مارکیٹ کے ذریعے چاندی کی خرید و فروخت کی جو صورت آپ نے بیان کی ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چاندی سونے اور نقدی کی خرید و فروخت، جو "بیعِ صَرف" کہلاتی ہے، اس کے معاملے میں کچھ بنیادی شرائط مقرر ہیں، جن کی آپ کی بیان کی ہوئی صورت میں رعایت نہیں ہورہی ہے۔     حضرت  رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان مبارک ہے: "ا لذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلاً بِمِثْل...

دوستوں سے اپنی ایک خدمت کا معاوضہ لینے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      ایک صاحب کا کہنا ہے کہ وہ تحصیل سے زمینی کاغذات نکلواتے ہیں جس پر انہیں ۲۲۰۰ روپے خرچ کرنا پڑتا ہے، ساتھ میں وقت اور محنت بھی صرف ہوتی ہے۔ پھر وہ ان کاغذات کی کاپی کرکے اپنے دو دوستوں کو دیتے ہیں جن کو اس کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہر ایک سے ۲۰۰۰ روپے لیتے ہیں۔ وہ انہیں یہ نہیں بتاتے کہ اصل میں انہوں نے ۲۲۰۰ روپے ادا کیے ہیں، کیونکہ اگر وہ بتا دیں تو دونوں آدھی آدھی رقم دے کر کام نکلوا لیں گے اور ان کی محنت اور تیل خرچ کا کوئی معاوضہ نہیں دیں گے۔ حالانکہ اگر یہ دونوں خود جاکر کاغذات نکلوائیں تو ہر ایک کو ۲۲۰۰ روپے ہی دینے پڑیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا معاملہ شرعی اعتبار سے درست ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا ہے: "یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ" [سورۃ النساء: ۲۹] ( ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضامندی س...