نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مارچ, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تلاوتِ قرآن میں اچانک دشواری اور زبان کا رکنے کا معاملہ اور رہنمائی

(سوال):       ہماری والدہ ایک مسئلہ کو لیکر نہایت پریشان ہیں۔ وہ یہ کہ وہ بحمد اللہ قرآن کریم پڑھی ہوئی ہیں اور روزانہ تلاوت کا معمول بھی ہے، مگر اس رمضان میں یہ محسوس کررہی ہیں کہ وہ قرآن پڑھتی ہیں، مگر ایک ایک لفظ کئی کئی مرتبہ کہنے کی کوشش کے باوجود زبان پر نہیں چڑھ پارہا ہے اور پہلے، پون گھنٹے میں یا ایک گھنٹے میں ایک پارہ پڑھ لیتی تھیں، مگر اب دو ڈھائی گھنٹے میں بھی نہیں پڑھا جارہا ہے۔ نیز پہلے جو معمولات تھے ان کے پڑھنے میں بھی زبان نہیں پلٹ پارہی ہے۔ تو اس کا کیا ریزن ہوسکتا ہے؟ اس کا کوئی حل یا دعا ہو تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔ اور ایک چیز یہ بھی ہے کہ عام گفتگو میں الحمد للّٰہ کوئی دشواری نہیں ہے۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک نقشین رحل پر کُھلا ہوا قرآنِ مجید، جو کھڑکی سے آتی سورج کی نرم روشنی میں چمک رہا ہے۔ پاس رکھی تسبیح اور عینک تلاوت اور ذکر کے پرسکون ماحول کی عکاسی کر رہے ہیں۔      یہ پڑھ کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت محسوس ہوئی؛ ایک طرف ایک اللہ والی بندی کا کلامِ الہی سے عشق ہے کہ معمول چھوٹنے پر تڑپ رہی ہیں، اور دوسری طرف عمر ک...

پندرہ دن سے کم وقفۂ طہر ہونے کی صورت میں حیض اور استحاضہ کی تفریق کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ): السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!      ایک خاتون کے ایامِ حیض (Menstrual Cycle) کی تفصیلات درج ذیل ہیں، جس کے بارے میں شرعی حکم مطلوب ہے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2025ء سے قبل بیماری کی وجہ سے انہیں تقریباً دو سے تین ماہ تک خون نہیں آیا تھا۔ اب حالیہ مہینوں کی تفصیل یہ ہے: 15  دسمبر 2025 کو شام 4:30 بجے سے، 21 دسمبر تک۔ یعنی تقریباً 6 دن۔ جنوری 2026 : خون نہیں آیا، مکمل طہر۔ 6  فروری 2026 کو رات 2:00 بجے سے، 15 فروری کی صبح تک۔ یعنی تقریباً 9 دن۔ 15 مارچ 2026 کو شام 5:30 بجے سے، 24 مارچ تک۔ یعنی 9 دن آج 30 مارچ کو صبح 10:00 بجے جاری ہے .....       24 مارچ کو خون بند ہونے کے بعد، محض 7 دن کے وقفے سے آج (31 مارچ) دوبارہ خون آنا شروع ہو گیا ہے۔ کیا یہ نیا خون "حیض" شمار ہوگا یا اسے "استحاضہ" (بیماری کا خون) مانا جائے گا؟ نیز کیا سابقہ بیماری کی وجہ سے ایام کی اس تبدیلی کو "عادت کا بدلنا" تصور کیا جا سکتا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خون کے مختلف مراحل اور اسلامی حکم کے درمیان فرق کو سمجھنا      دو حیض کے درمیان طہرِ تام ...

سورہ یونس تا سورہ عنکبوت، تفسیر الجلالین کی تدریس سے متعلق علمی و روحانی رہنمائی

(مسئلہ): السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!      حضرت الاستاذ (زید مجدکم)! اللہ کے فضل و کرم سے اس سال دوبارہ مدرسے میں "تفسیر الجلالین" کا وہ حصہ جو سورہ یونس سے شروع ہو کر سورہ عنکبوت پر ختم ہوتا ہے، بندہ کے سپرد کیا گیا ہے۔ تدریس کے اس سفر کے حوالے سے آپ کی خصوصی علمی رہنمائی اور دعاؤں کی درخواست ہے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      ماشاءاللہ، یہ نہایت مبارک اور سعادت کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوبارہ اپنی کتاب کی خدمت اور "تفسیر الجلالین" جیسے وقیع فن کی تدریس کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ سورۂ یونس سے سورۂ عنکبوت تک کا حصہ مضامین کے اعتبار سے انتہائی متنوع اور سبق آموز ہے، جس میں توحید، رسالت، قصص الانبیاء اور صبر و استقامت کے ایسے پہلو موجود ہیں جو طالب علم کے علمی ذوق کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی تربیت کا بھی بہترین ذریعہ بنتے ہیں۔ اس عظیم ذمہ داری پر دلی مبارکباد قبول فرمائیں اور دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کی زبان میں تاثیر، ذہن میں جلا اور وقت میں برکت عطا فرمائے تاکہ آپ کماحقہ اس امانت کو اگلی نسل تک منتقل کر سکیں۔ فنِ تدریسِ قرآن: تفسیر الجلال...

غیر سید شوہر اور سید زادی بیوی والے گھرانے کو زکات دینے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ایک شادی شدہ جوڑے کے حوالے سے زکات کا مسئلہ دریافت کرنا ہے۔شوہر "انصاری" (غیر سید) ہے اور زکات کا مستحق ہے، جبکہ بیوی "سادات" (سید خاندان) سے تعلق رکھتی ہے۔      دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسے جوڑے کو زکات دی جا سکتی ہے؟ چونکہ بیوی سید زادی ہے اور سادات پر زکات حرام ہے، جبکہ شوہر غیر سید ہونے کی وجہ سے مستحقِ زکات ہو سکتا ہے، تو اس صورتِ حال میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا اس جوڑے کو دی جانے والی زکات ادا ہو جائے گی یا اس میں کوئی ممانعت ہے؟ ​     براہِ کرم اس حوالے سے مکمل شرعی رہنمائی اور گائیڈ لائنز فراہم فرما دیں۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      ساداتِ کرام کا احترام اور ان کی معاشی کفالت کا مسئلہ امتِ مسلمہ کے لیے ہمیشہ سے نہایت حساس اور اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس مخصوص صورتِ حال میں جہاں شوہر غیر سید (انصاری) اور مستحقِ زکات ہے، جبکہ بیوی سید زادی ہے، شرعی نقطہ نظر سے حکمِ زکات کی وضاحت نہایت باریک بینی کی متقاضی ہے۔      بنو ہاشم (ساداتِ کرام) کی عزت و تکریم کی خاطر ان پر زکات و صدقاتِ وا...

سرمایہ کاری پر ماہانہ متعین نفع (Fixed Profit) اور سود سے بچنے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       میرے ایک دوست کے پاس ساڑھے چار لاکھ (4.5 Lakhs) روپے کی زائد رقم موجود تھی، جسے وہ کہیں سرمایہ کاری (Investment) کی غرض سے لگانا چاہتے تھے۔ میں نے اپنے ایک دوسرے دوست سے رابطہ کیا جو کاروبار کرتے ہیں اور ان سے یہ بات طے کی کہ مذکورہ رقم کو کاروبار میں اس شرط پر لگایا جائے کہ اس پر ہونے والے "حقیقی نفع" میں فریقین کا حصہ (Percentage) مقرر ہو۔ میں نے اس بات کی خاص تاکید کی تھی کہ ہمیں سود کی کسی بھی صورت سے بچنا ہے، اس لیے کوئی بھی رقم "فکس" (Fixed Amount) نہیں ہونی چاہیے، بلکہ جتنا بھی نفع حاصل ہوگا، اسی کی بنیاد پر تقسیم ہوگی۔ ​     لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ وہ کاروباری دوست ہر ماہ "ساڑھے سات ہزار روپے" (7,500) بطورِ نفع دینے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح ماہانہ بنیادوں پر ایک متعین رقم (Fixed Amount) وصول کرنا شرعاً جائز ہے یا یہ سود (Riba) کے زمرے میں آتا ہے؟ نیز، چونکہ میں نے اس معاملے میں ثالث (Middleman) کا کردار ادا کیا ہے، تو کیا اس ممکنہ گناہ میں میری شمولیت کا اندیشہ ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرح...

بچوں کی شرارت کی بنا پر ابتدائی حمل کی صورت میں اسقاطِ حمل کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ایک خاتون جن کے پہلے سے تین بچے (ایک لڑکا اور دو لڑکیاں) موجود ہیں، جو اپنی فطرت میں کافی ضدی اور شرارتی ہیں، جس کی وجہ سے والدہ شدید ذہنی دباؤ اور تھکن کا شکار رہتی ہیں۔ حال ہی میں طبی رپورٹ (Pregnancy Test) کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ وہ دوبارہ حاملہ ہو گئی ہیں اور رپورٹ کے مطابق یہ حمل بالکل ابتدائی مراحل (Early Stage) میں ہے، حتیٰ کہ طبی گنتی کے لحاظ سے ابھی ایک ہفتہ بھی مکمل نہیں معلوم ہوتا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا بچوں کی تربیت میں دشواری، ان کی شرارتوں سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ اور حمل کے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہونے کی بنیاد پر اسے گرانا شرعاً جائز ہے؟ نیز، طبی رپورٹ میں "ایک ہفتہ" دکھائے جانے کی شرعی و طبی حقیقت کیا ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      اسلامی شریعت میں انسانی جان کا احترام اور اس کا تحفظ بنیادی مقاصد میں سے ہے، اور یہ تحفظ اسی لمحے سے شروع ہو جاتا ہے جب استقرارِ حمل ہو جائے۔ جہاں تک حمل گرانے کا تعلق ہے، تو یہ ایک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے اور عام حالات میں اسے قتلِ نفس کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ حمل کے...

غیر یتیم مگر مستحق طلبہ اور زکات کا استعمال: مدرسے کے ہاسٹل کے لیے شرعی رہنمائی

(مسئلہ):      مدرسے کے ہاسٹل میں جہاں 125 یتیم بچے زیرِ تعلیم اور مقیم ہیں، وہیں کچھ ایسے بچے بھی موجود ہیں جو اگرچہ یتیم نہیں ہیں (یعنی ان کے والدین حیات ہیں) لیکن ان کے والدین انتہائی غریب، نادار اور شرعی طور پر مستحقِ زکات ہیں۔ یہ بچے بھی اسی ہاسٹل میں دیگر یتیم بچوں کے ساتھ رہتے ہیں اور وہیں سے ان کی خوراک اور تعلیم کا انتظام ہوتا ہے۔ ​     دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ان بچوں کے لیے بھی زکات کی رقم سے چاول، راشن اور دیگر خورد و نوش کا سامان خرید کر مدرسے میں دینا شرعاً درست ہے؟ کیا ان بچوں کی کفالت میں زکات کی رقم اسی طرح استعمال کی جاسکتی ہے جیسے یتیم بچوں کے معاملے میں دی جاتی ہے، جبکہ ان کے والدین صاحبِ نصاب نہیں بلکہ خود زکات کے حقدار ہیں؟       چونکہ میں رمضان المبارک کی ان مبارک گھڑیوں میں جلد از جلد یہ امداد پہنچانا چاہتی ہوں، اس لیے اس مسئلے کی شرعی حیثیت واضح فرمادیں؛ تاکہ نیکی کا یہ عمل کسی بھی قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہو کر انجام دیا جا سکے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کا اصل مدا...

یتیم بچوں کی کفالت اور زکات کے مصارف: کیا مدرسے میں راشن دینا جائز ہے؟

(مسئلہ):      ہمارے علاقے میں ایک مدرسہ قائم ہے جس میں تقریباً 125 یتیم اور نادار بچے مقیم (Hostel) ہیں اور وہیں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میرے مرحوم شوہر اپنی زندگی میں سال بھر اس مدرسے کی بھرپور مالی مدد کرتے تھے، جس میں بچوں کے لیے چاول، راشن اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی شامل تھی۔ وہ قربانی کا گوشت بھی ان بچوں کے لیے بھجوایا کرتے تھے تاکہ ان کی خوراک کا بہتر انتظام ہو سکے۔ ​     اب میں بھی اپنے شوہر کی اس روایت کو زندہ رکھنا چاہتی ہوں اور ان بچوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میں اپنی زکات کی رقم سے ان یتیم اور مستحق بچوں کے لیے چاول اور کھانے پینے کا دیگر سامان خرید کر مدرسے میں دے سکتی ہوں؟ کیا زکات کے پیسوں سے ان بچوں کے کھانے کا انتظام کرنا شرعاً جائز ہے؟ اگر زکات سے یہ عمل درست نہیں ہے، تو کیا میں اسے عام (نفلی) صدقہ کی رقم سے کروں؟ چونکہ رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے والا ہے، اس لیے میں چاہتی ہوں کہ جلد از جلد یہ سامان مدرسے پہنچا دیا جائے۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کا اصل مقصد معاش...

مسجد کے لیے جائے نمازیں خریدنے میں زکات کے استعمال کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ایک بستی کی ایک مسجد میں نمازیوں کے لیے جائے نمازوں (مصلیوں) کی ضرورت ہے۔ میں نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 100 فٹ کے جائے نماز (جو 100 مصلیوں پر مشتمل ہیں) کا آرڈر ایک دکان پر دے دیا ہے اور مجھے اس کے پیسوں کی ادائیگی کرنی ہے۔      میرا اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسجد کے لیے جائے نمازیں خریدنے میں زکات کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے؟ اگر زکات کی رقم مسجد کے اس کام میں لگانا شرعاً جائز نہیں ہے، تو پھر میں یہ رقم اپنے عام پیسوں سے ادا کرنا چاہتی ہوں۔   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کے لیے ایک بنیادی اور لازمی شرط تملیک ہے، جس کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ زکات کی رقم یا اس سے خریدی گئی چیز کسی مستحقِ زکات مسلمان کو اس طرح مالک بنا کر دی جائے کہ وہ اپنی مرضی سے اسے استعمال کرنے یا تصرف کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہو۔      مسجد چونکہ وقف کے حکم میں ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عام مسلمانوں کی عبادت کے لیے وقف ہوتی ہے، کسی فردِ واحد کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لیے زکات کی رقم مسجد کی تعم...

ذہانت کی بنیاد پر بچہ کے ایک درجہ (Class) چھوڑ کر اگلی جماعت میں داخلہ کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ایک طالب علم جو دوسری جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کر چکا تھا، بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایک سال اسکول کی تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور اس دوران کسی دوسرے فن یا علم کی تحصیل میں مشغول رہا، جس کی وجہ سے وہ تیسری جماعت کا سالانہ تعلیمی نصاب باقاعدہ طور پر مکمل نہیں کرپایا۔ اب وہ بچہ اپنی عمر کے تقاضوں کے مطابق کافی ذہین ہے اور اس کے سرپرست چاہتے ہیں کہ اس کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اسے براہِ راست چوتھی جماعت میں داخل کرادیا جائے۔      دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شرعی طور پر کسی طالب علم کو ایک درجہ (Class) چھوڑ کر اگلی جماعت میں داخل کرانا درست ہے؟ کیا ایسا کرنا علم کے باب میں کوئی خیانت یا کسی کی حق تلفی کے زمرے میں تو نہیں آتا؟ نیز، اگر بچہ اپنی ذہنی استعداد کے لحاظ سے واقعی اگلی جماعت کے معیار پر پورا اترتا ہو، تو اس صورت میں شرعی رہنمائی کیا ہوگی؟  (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      علم کا حصول انسانی زندگی کا ایک مسلسل عمل ہے اور تعلیمی درجات (Classes) دراصل طالب علم کی ذہنی نشو و نما اور بتدریج سیکھنے کے...

قیراط کے فرق اور جائیداد نہ ہونے کی صورت میں، زیورات کی زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       سونے پر زکات کے حساب کتاب کا شرعی طریقۂ کار کیا ہے؟ بالخصوص یہ واضح فرمائیں کہ قیمت کا تعین کرتے وقت 24 قیراط (24ct) سونے کا نرخ معتبر ہوگا یا 22 قیراط (22ct) کا؟ چونکہ مستورات کے استعمال میں آنے والے زیورات میں مضبوطی پیدا کرنے کے لیے دیگر دھاتوں کی آمیزش کی جاتی ہے اور وہ سو فیصد خالص نہیں ہوتے، تو کیا ایسی صورت میں زکات کی ادائیگی پورے زیور کی مالیت پر ہوگی یا صرف اس میں موجود خالص سونے کی مقدار پر؟ ​     اِس کے علاوہ، اگر کسی شخص کی ملکیت میں کوئی جائیداد، ذاتی مکان یا زمین وغیرہ جیسے دیگر اثاثے موجود نہ ہوں اور اس کے پاس واحد اثاثہ صرف سونا ہی ہو (جو نصاب کو پہنچتا ہو)، تو کیا ایسی صورت میں بھی اس پر زکات کی ادائیگی لازم ہوگی؟ ​     ازراہِ کرم اس مسئلے کی شرعی وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کا نظام اسلام کے ان بنیادی ستونوں میں سے ہے جو معاشرے میں معاشی توازن برقرار رکھنے اور انفرادی سطح پر تزکیۂ نفس کا ذریعہ بنتا ہے۔      سونے کے زیورات پر زکات کے حس...

نصابِ زکات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی: قیمتِ خرید معتبر ہوگی یا وزن؟

(مسئلہ):       زکات کے باب میں صاحبِ نصاب ہونے کے لیے سال کا آغاز معتبر ہے یا اختتام؟ نیز، کیا نصاب کا معیار وزن (سونا/چاندی) ہے یا اس کی بدلتی ہوئی قیمت؟ اسے ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ راشد نامی شخص 12 رمضان المبارک 1447ھ کو ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مارکیٹ قیمت (مثلاً 75 ہزار روپے) کا مالک ہونے کی بنا پر صاحبِ نصاب قرار پایا۔ اب ایک سال مکمل ہونے پر، یعنی 12 رمضان 1448ھ کو، اس کے پاس نقد رقم تو کچھ نہیں، البتہ وہی سونا یا چاندی بعینہٖ موجود ہے، مگر اب مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اس وزن کی مالیت بڑھ کر ایک لاکھ روپے ہو چکی ہے۔ ​     دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا راشد اب بھی صاحبِ نصاب شمار ہوگا؟ جبکہ اب نصاب کا معیار (روپے کی شکل میں) بدل چکا ہے۔ کیا زکات کے لیے وہی پرانی مالیت دیکھی جائے گی جس پر وہ صاحبِ نصاب بنا تھا، یا سال کے اختتام پر سونے چاندی کے اس وزن کی جو نئی قیمت ہوگی، اسے معیار بنایا جائے گا؟ چونکہ موجودہ دور میں مہنگائی کی وجہ سے نصاب کی مالی مقدار ہر سال تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے اس الجھن کا مدلل شرعی حل مطلوب ہے۔ (رہنمائی): بس...

مسجد کے امام، مؤذن اور چندہ جمع کرنے والوں کو زکات دینے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       کیا زکات کی رقم مسجد کے امام صاحب اور مؤذن صاحب کو دی جاسکتی ہے؟ نیز، جو مسجد کے نمائندے یا مسجد والے گھر گھر جاکر چندہ جمع کرتے ہیں، کیا انہیں زکات کی رقم دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں تفصیلی شرعی رہنمائی کی طالب ہوں؛ تاکہ میں اپنی زکات درست مصرف پر خرچ کرسکوں۔ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کے حوالے سے یہ ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ ہے، کیونکہ زکات کی درستگی کے لیے اس کے مصارف (یعنی جہاں رقم خرچ کی جائے) کا شرعی اصولوں کے مطابق ہونا لازمی ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا یہ بنیادی قاعدہ ہے کہ زکات کی رقم کسی بھی مسجد کی تعمیر، مرمت، بجلی کے بلوں، یا مسجد کے عام اخراجات میں صرف کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زکات کی ادائیگی کے لیے تملیکِ شرعی شرط ہے، یعنی رقم کسی مستحقِ زکات شخص کو اس طرح مالک بنا کر دی جائے کہ وہ اسے اپنی مرضی سے استعمال کر سکے۔ چونکہ مسجد کسی فرد کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لیے وہاں زکات کی رقم براہِ راست خرچ کرنے سے زکات ادا نہیں ہوگی۔ اسی طرح مسجد کے امام صاحب اور مؤذن صاحب کو ان کی خدمات (امامت ...

کمیٹی (BC) کی باقی ماندہ اقساط اور بہن کو دیے گئے قرض پر زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      میں نے کُل ساڑھے بارہ لاکھ روپے کی دو کمیٹیاں (بی سی) ڈالی ہوئی تھیں، جن کی رقم میں پہلے ہی وصول کرکے اپنے کاروبار اور ضروریات میں خرچ کر چکا ہوں، تاہم ان کمیٹیوں کی مد میں اب بھی چھ لاکھ روپے کی رقم واجب الادا ہے جو مجھے اگلے ایک سال کے دوران ماہانہ 45 ہزار روپے کی قسطوں کی صورت میں ادا کرنی ہے۔ اس کے علاوہ میرے پاس موجودہ اثاثوں میں آٹھ لاکھ روپے مالیت کا سونا اور چاندی موجود ہے، جبکہ چھ لاکھ روپے نقد میں نے اپنی بہن کو آٹھ ماہ قبل بطورِ قرض دیے تھے، جس کی واپسی کے متعلق فی الحال کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کب تک واپس مل پائے گی۔ اب میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ زکات کا حساب لگاتے وقت کیا وہ چھ لاکھ روپے جو کمیٹی کی مد میں مجھ پر قرض ہیں، اپنے موجودہ اثاثوں سے منہا (Deduct) کروں گا؟ نیز، جو رقم میں نے بہن کو قرض دی ہے، کیا اس پر بھی ابھی سے زکات واجب ہوگی جبکہ اس کی واپسی کا کوئی وقت طے نہیں ہے؟ ان تمام تفصیلات کی روشنی میں شرعی طور پر مجھ پر کتنی رقم کی زکات ادا کرنا لازم ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      جب کوئی شخص کمیٹی کی رقم اپ...

بینکوں اور فنانس کمپنیوں میں آئی ٹی (IT) اور تکنیکی ملازمتوں کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       میں ایک طالب علم ہوں اور ان دنوں اپنے کیریئر کے حوالے سے مختلف مواقع تلاش کر رہا ہوں۔ میری دلی خواہش ہے کہ میری مستقبل کی ملازمت اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہو، اس لیے میں بینکوں اور مالیاتی کمپنیوں میں کام کرنے کی شرعی حیثیت کے بارے میں چند پہلوؤں سے وضاحت چاہتا ہوں۔ ​     اس سلسلے میں پہلا سوال غیر ملکی روایتی بینکوں، جیسے جے پی مورگن یا ایچ ایس بی سی وغیرہ میں ملازمت سے متعلق ہے جو کہ سودی نظام پر مبنی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ان بینکوں کے بیک اینڈ یا تکنیکی شعبوں، مثلاً ڈیٹا اینالسٹ، سافٹ ویئر ڈیولپر یا آئی ٹی سپورٹ میں کام کرنا جائز ہے، جبکہ اس کام میں گاہکوں سے کوئی واسطہ نہ ہو اور نہ ہی سودی لین دین، قرض کی منظوری یا مالیاتی مصنوعات کے حوالے سے کوئی براہِ راست شمولیت یا فیصلہ سازی ہو۔ اسی طرح بھارتی بینکوں، خواہ وہ سرکاری ہوں یا نجی، ان کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ یا بیک اینڈ آپریشنز میں بطور ٹیکنیکل اینالسٹ کام کرنے کا کیا حکم ہے، بشرطیکہ وہاں بھی لون (قرض) کے معاملات اور سود سے متعلقہ دیگر سرگرمیوں میں کوئی براہِ را...

وراثت میں ملنے والے مکان اور اس سے حاصل ہونے والی کرائے کی رقم پر زکات کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ہماری والدہ کے نام پر ایک گھر تھا جو فی الوقت کرائے پر دیا ہوا ہے، اور والدہ کی وفات کے بعد اس مکان کی باقاعدہ شرعی تقسیم ابھی تک ورثاء کے درمیان نہیں ہوسکی ہے۔ اس مکان سے حاصل ہونے والا کرایہ پچھلے چھ ماہ سے زائد عرصے سے ہمارے والد صاحب کے پاس جمع ہو رہا ہے، جبکہ والد صاحب خود اس مکان میں رہائش پذیر نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنے بچوں کے پاس دوسرے گھر میں رہتے ہیں۔ ہم یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس وراثتی مکان کی مالیت پر بذاتِ خود زکات واجب ہوگی؟ نیز، اس مکان سے حاصل ہونے والی کرائے کی وہ رقم جو ابھی تک تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم نہیں کی گئی ہے، بلکہ والد صاحب کے پاس ہی اکٹھی ہو رہی ہے، اس پر زکات کا کیا حکم ہوگا؟ کیا اس غیر تقسیم شدہ رقم پر زکات کی ادائیگی فی الحال لازم ہے یا یہ تقسیم کے بعد ہر وارث کے انفرادی نصاب کے مطابق دیکھی جائے گی؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      وراثت میں ملنے والے مکان اور اس سے حاصل ہونے والی کرائے کی رقم پر زکات کے حوالے سے رہنمائی یہ ہے کہ جو مکان یا جائیداد وراثت میں ملے، اس کی اصل مالیت...

انکم ٹیکس کی بچت اور ذاتی گھر کی ضرورت کے لیے سودی ہوم لون لینے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       میں ایک آئی ٹی (IT) کمپنی میں برسرِ روزگار ہوں اور اپنے لیے ایک گھر یا فلیٹ خریدنے کا ارادہ رکھتا ہوں، لیکن مکانات کی قیمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ میں اتنی خطیر رقم نقد (Net Payment) ادا کرنے کی بالکل استطاعت نہیں رکھتا۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے میرے پاس لون (قرض) لینے کے علاوہ بظاہر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔      اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ لون لینے کی صورت میں مجھے قانونی طور پر انکم ٹیکس (Income Tax) میں بھی خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوگا۔ میں ہر کچھ مدت کے بعد حکومت کو ٹیکس کی ایک مخصوص رقم ادا کرتا ہوں، اور اگر میں ہوم لون لیتا ہوں تو حکومتی ضابطوں کے مطابق اس لون کی وجہ سے میرے ٹیکس کی رقم میں کٹوتی ہو جائے گی جس سے مجھے مالی بچت ہوگی۔ ​     اب بنیادی طور پر یہ سوال پوچھنا ہے کہ کیا ایسی مجبوری اور ضرورت کی حالت میں، جہاں گھر کی خریداری کے لیے نقد رقم موجود نہ ہو، بینک یا کسی ادارے سے ہوم لون لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز، کیا ٹیکس میں ملنے والی بچت یا ریلیف کو بنیاد بناکر اس طرح کا لون لینے کی کوئی گنجائش...

مستحقِ زکات مقروض سے حیلۂ تملیک کے ذریعے، اپنی زکات ادا کرنے اور اپنا قرض ادا کروانے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       اگر زید نے عمر کو قرض دیا تھا، اور اب زید اپنے مال کی زکات نکالنا چاہتا ہے۔ عمر مقروض (قرض دار) ہے اور زکات کا مستحق بھی ہے۔ زید نے عمر سے کہا کہ میں تمہیں زکات دیتا ہوں، پھر تم اسی رقم سے میرا قرض ادا کر دینا — تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟   (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      جی ہاں، ایسا کرنا درست اور جائز ہے، بشرطیکہ چند تقاضے پورے کیے جائیں۔      براہِ راست قرض کو زکات میں وضع کرنا، یعنی یہ کہہ دینا کہ میں نے تمھارا قرض معاف کیا اور اسے اپنی زکات میں شمار کر لیا، یہ تو ٹھیک نہیں ہے، لیکن رقم دے کر اسے واپس لینا جائز ہے۔ البتہ اس عمل کے درست ہونے کے لیے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ زید زکات کی رقم عمر کے ہاتھ میں دے دے اور اسے اس کا مکمل مالک بنادے۔ جب رقم عمر کے ہاتھ میں آجائے گی تو زکات ادا ہو جائے گی۔ اور عمر پر، جو کہ مقروض ہے، یہ لازم نہیں ہے کہ وہ وہی رقم واپس کرے۔ اگر وہ رقم لینے کے بعد اسے اپنی کسی اور ضرورت میں خرچ کر دے، تو زید اس پر زبردستی نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر عمر اپنی مرضی اور دیانتداری سے وہ رقم زید کو ق...

زکات کی رقم سے مسجد میں اجتماعی افطار کروانے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):      میں ایک مسجد میں تقریباً ایک سو افراد کے لیے افطار کا اہتمام کرنا چاہتی ہوں جس پر اندازاً پچاس ہزار روپے کا خرچ آئے گا، لہٰذا میں یہ رہنمائی چاہتی ہوں کہ کیا شرعی طور پر زکات کی رقم کو مسجد میں اس طرح افطار پارٹی کروانے اور لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      زکات کی ادائیگی کے حوالے سے شریعتِ مطہرہ کا ایک بنیادی اور قطعی اصول تملیک ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ زکات کی رقم یا مال کسی ایسے شخص کو مکمل طور پر مالک بنا کردیا جائے جو شرعی طور پر زکات کا مستحق ہو۔ مسجد میں اجتماعی افطار کا اہتمام کرنا جس میں ہر خاص و عام، امیر و غریب اور مسافر شرکت کرتے ہوں، اس میں زکات کی رقم صرف کرنا درست نہیں ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ زکات کی رقم سے تیار کردہ کھانا یا افطاری جب ایک عام دسترخوان پر رکھ دی جاتی ہے، تو وہاں تملیک (یعنی کسی غریب کو مالک بنادینا) کا عمل مکمل نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک عمومی اباحت (اجازتِ طعام) کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔      نیز چونکہ مسجد میں ہونے والی افطاری میں اکثر ...

بے روزگار بیٹی کے سونے پر زکات کا اور ادائیگی کے لیے اُس کے پاس نقد رقم نہ ہونے کا مسئلہ اور رہنمائی

(مسئلہ):       ہم نے اپنی بیٹی کو شادی کے موقع پر سونا تحفے میں دیا تھا۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا اس سونے پر زکات ادا کرنا بیٹی پر فرض ہے، جبکہ بیٹی فی الحال کہیں ملازمت نہیں کر رہی ہے اور اس کے پاس زکات ادا کرنے کے لیے نقد رقم بھی موجود نہیں ہے؟ (رہنمائی): بسم اللہ الرحمٰن الرحیم      شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے مطابق، جب کسی لڑکی کو اس کی شادی کے موقع پر سونا تحفے میں دے دیا جائے اور وہ اس کی مکمل مالک اور قابض بن جائے، تو اس مال کی زکات کی ادائیگی کی بنیادی ذمہ داری شرعی طور پر خود اسی لڑکی پر عائد ہوتی ہے۔      اور اسلام میں زکات کا تعلق انسان کی ملکیت اور مال کی نامی (بڑھنے والی) صفت سے ہے؛ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ زکات ادا کرنے والا لازمی طور پر ملازمت پیشہ ہو یا اس کی اپنی کوئی مستقل آمدنی ہو۔      لہٰذا اگر اس سونے کی مقدار نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ کو پہنچتی ہو، یا سونے کے ساتھ کچھ تھوڑی بہت نقدی اور چاندی بھی موجود ہے جس کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر ہوجاتی ہو، تو سال گزرنے پر اس...